Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 329

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ ) وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ ( دَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوْا فَعَمَّ وَخَصَّ وَقالَ : يَا بَنِيْ عَبْدِ شَمْسٍ ، یَا بَنِيْ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ هَاشِمٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا بَنِيْ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، یَا فَاطِمَةُ اَنْقِذِيْ نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ. فَاِنِّيْ لَا اَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيئًا غَيْرَ اَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا.( )

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: لما نزلت هذه الآية ) و انذر عشیرتك الاقربین ( دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم قريشا فاجتمعوا فعم وخص وقال : يا بني عبد شمس ، یا بني كعب بن لؤي انقذوا انفسكم من النار ، یا بني مرة بن كعب انقذوا انفسكم من النار ، یا بني عبد مناف انقذوا انفسكم من النار ، یا بني هاشم انقذوا انفسكم من النار ، یا بني عبد المطلب انقذوا انفسكم من النار ، یا فاطمة انقذي نفسك من النار. فاني لا املك لكم من الله شيئا غير ان لكم رحما سابلها ببلالها.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : )وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ(۲۱۴)( (پ۱۹ ، الشعراء : ۲۱۴) ترجمۂ کنزالایمان :اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ ۔ تو حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےقریش کو بلایا۔ جب وہ جمع ہو گئے توعام و خاص سبھی سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : “ اے عبدِ شمس کی اولاد! اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے مُرَّہ بن کعب کی او لاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے عبدِ مَناف کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے ہاشم کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے عبد المطلب کی اولاد! اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ اے فاطمہ!تم(بھی) اپنی جان کو جہنم کی آگ سے بچا لو کیونکہ میںاللہ عَزَّوَجَلَّ کی چیزوں میں سے تمہارے لیے بذاتِ خود کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ میری تم سے رشتہ داری ہے اور عنقریب میں اس رشتہ داری کا فیض تم کو پہنچاؤں گا (یعنی تم سے صلہ رحمی کروں گا)۔ ‘‘

شرح حدیث

عمومی اور خصوصی تبلیغ:جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ حکم دیاکہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قریش کو جمع فرمایا کیونکہ یہ عرب میں بہت عزت والے مانے جاتے تھے اور قریش میں ان مذکورہ خاندانوں کا بڑا وقار تھااس لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مخاطب فرماکر عمومی تبلیغ فرمائی۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس اجتماع میں عمومی تبلیغ بھی کی اور خصوصی بھی کہ اے فلاں اے فلاں قبیلہ والے لوگو ادھر آؤ ایمان قبول کرو اس سے معلوم ہوا کہ خصوصی تبلیغ بھی سنت ہے ، حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بھی تبلیغ فرمائی ، اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسلام کی تبلیغ کی جائے کیونکہ اس وقت حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا چھوٹی بچی تھیں نیز جب کسی خاص شخص یا قوم کے ایمان قبول کرنے سے دوسروں کے ایمان لانے کی امید ہو تو اسے خصوصی تبلیغ ضرور کی جائے ، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت میں اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آپ نے کافر بادشاہوں کو تبلیغی خطوط بھیجے۔ ( )اپنی جانوں کو آگ سے بچانے کے معنی:سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبائل قریش سے فرمایا : “ اپنی جانوں کو آگ سے بچا لو ، “ اس کے معنی یہ ہیں کہ کفر اور گناہوں کی وجہ سے جو عذاب ملنے والا ہے اس سے خلاصی حاصل کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لاکر ، اس کی اطاعت کرکے اور اس کا حق عبودیت ادا کرکے۔ ‘‘( ) (کیونکہ ایمان اور اطاعت جہنم سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے کہ جس طرح کافروں پر لازم ہے کہ وہ توحید و رسالت پر ایمان اور اطاعت الٰہی بجا لاکر اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچائیں اسی طرح مسلمانوں پر بھی لاز م ہے کہ وہ توحید و رسالت پر ثابت قدم رہیں اور اللہتعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری اختیار

کرکے ، عبادتیں بجالا کراور گناہوں سے باز رہ کر اپنے آپ کو ، نیز اپنےگھر والوں کو نیکی کی دعوت دے کراور برائی سے منع کرکے اور انہیں علم و ادب سکھا کرجہنم کی آگ سے بچائیں ، چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)(پ۲۸ ، التحریم : ۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ نیکیوں بھری زندگی گزارے ، گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کرے ، اپنے گھروالوں کو بھی اس کی تعلیم دے ، انہیں بھی نیکیاں کرنے کی ترغیب دلائے ، گناہوں سے نفرت وبیزاری دلائے ، اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی بھر پور کوشش کرے۔
مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کے اس پرفتن دور میں جہاں ہرطرف برائیوں کا دور دورہ ہے ، بندہ نیکیوں سے دور اور گناہوں کے بہت قریب تر ہوتا جارہا ہے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوت اسلامی کا مدنی ماحول گویا نجات کا ایک راستہ ہے ، دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر بے شمار لوگ گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے نیکیوں بھری زندگی گزار رہے ہیں ، آپ بھی دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے ، اپنے گھر والوں کو بھی اسی ماحول سے وابستہ کر دیجئے ، اپنے علاقے میں ہونے والے دعوت اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کو اپنا معمول بنالیجئے ، روزانہ فکر مدینہ کرتے ہوئے مدنی انعامات کا رسالہ پرکیجئے اور اپنے ذمہ دار کو جمع کروانے اور ہر ماہ تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کو اپنا معمول بنالیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس تمام نیک کاموں اور مدنی ماحول کی برکت سے ، نیکیاں کرنے ، گناہوں سے بچنے ، ایمان پر استقامت حاصل کرنے ، سنتوں کا پابند بننے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا۔
بری صحبتوں سے کنارہ کشی کر ……… کے اچّھوں کے پاس آکے پا مدنی ماحول

تمہیں لطف آ جائے گا زندگی کا ……… قریب آکے دیکھو ذرا مدنی ماحول
ایمان اور نیک اَعمال سے کوئی بے نیاز نہیں:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’سب لوگوں کے سامنے علانیہ حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو تبلیغ فرمانے میں لوگوں کو یہ سنانا مقصود ہے کہ ایمان قبول کئے بغیر نبی سے قرابتداری بلکہ نبی کی اولاد ہونا بھی نجات کے لیے کافی نہیں۔ کنعان حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بیٹا تھا مگر کفر کی وجہ سے جہنمی ہوگیا۔ جہنم سے نجات پانے کے لیے ایمان اور نیک اعمال کی ضرورت سب کو ہے جیسے کوئی شخص سید ہو یا غیر سید دھوپ ، ہوا ، پانی اور غذا سے مستغنی نہیں ، یوں ہی کوئی شخص ایمان ، قرآن اوراَعمال سے بے نیاز نہیں۔ آج اپنے کو اعمال سے بے نیاز ماننے والے غذا پانی ہوا سے بے نیاز بن کر دکھائیں بلکہ مرکر انسان ان چیزوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے مگر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ضرورت پھربھی رہتی ہے کہ قبر و حشر میں حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غلامی کا سوال ہوتا ہے۔ ( )قیامت کے دنرسولُ اللہکی شفاعت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی شہزادی حضرت فاطمہ زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا : “ اے فاطمہ! تم اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا لو کیونکہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اشیاء میں سے تمہارے لیے بذات خود کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ “ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کسی کی شفاعت کرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی آپ اپنے قرابت داروں میں کسی کی شفاعت کریں گے۔ کیونکہ کثیر احادیث مبارکہ میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ خوف دلانے اور ڈرانے میں انتہا اور مبالغہ ہے ورنہ ان مذکورہ لوگوں میں سے بعض کے فضائل اور بہشت میں داخلہ سے متعلق احادیث وارد ہوئی ہیں۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ امت کے گناہ گاروں کے لیے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت ہوگی ، تو آپ کے عزیز و اقارب کے لیے بطریقِ اولیٰ ہوگی مگر اس کے باوجود

بے پروائی ہو سکتی ہے ، اس کے حال و مقام کے مطابق وعظ و نصیحت فرمائی۔ ‘‘( )
سیدہ فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکوتبلیغ:حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی حضرت سَیِّدَتُنَا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے جو فرمایا۔ اس کا مطلب بیان کرتے ہوئےمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی اے فاطمہ اگر تم نے اِیمان قبول نہ کیا اور تم آخرت میں سز ا کی مستحق ہوگئیں تو وہ سزا میں تم سے دفع نہیں کرسکتا اور تم عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتیں۔ لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں : )αوَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-((پ۹ ، الانفال : ۳۳) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ ‘‘کیونکہ اس آیت میں دنیاوی عذاب مراد ہے۔ حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی برکت سے کفار پر دنیاوی عذاب نہیں آتا اور مذکورہ حدیث میں اُخروی عذاب مراد ہے اور نہ یہ حدیث اِس حدیثِ شفاعت کے خلاف ہے : “ شَفَاعَتِیْ لِاَھْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِیْ کہ میری شفاعت میری اُمَّت کے گناہ کبیرہ والوں کو بھی پہنچے گی۔ “ کہ وہاں اُمَّت کا ذکر ہے یہاں کفار کا ذکر ہے۔ خیال رہے کہ حضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے خدمت گار کافر کا عذاب ہلکا ہوسکتا ہے مگر دفع نہیں ہوسکتا۔ ابوطالب کا عذاب بہت ہلکا ہے ، ابو لہب کو پیر کے دن عذاب ہلکا دیا جاتا ہےاور انگلی سے پانی ملتا ہے۔ ابوطالب نے خود حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت کی اور ابو لہب کی لونڈی ثُوَیْبَہنے حضور( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کو دودھ پلایا ، بہرحال یہ حدیث بالکل برحق ہے ، اِن آیات و اَحادیث کے خلاف نہیں۔ ‘‘( )فرمانِ مصطفےٰ کا معنی:حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کا ایک معنی یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کے بغیر ذاتی طور پر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، البتہ جن چیزوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو مالک کردیا ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ضروراُن کے مالک ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے

کل بروزِ قیامت گنہگاروں کی شفاعت فرمائیں گے۔ اِسی طرح جہاں کہیں حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی ذاتِ مبارکہ سے مختلف نعمتوں کی نفی فرماتے ہیں وہاں ذاتی طور پر نفی ہے کہ بغیر اِذن اِلٰہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ، قرآن وسنت سے اِس پر بے شمار دلائل موجود ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِرشاد کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ تم لوگ فقط مجھ سے رشتہ داری پر بھروسہ کرکے تمام نیک اَعمال کو ترک نہ کردینا۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشاد : “ میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں۔ “ اس کا معنی یہ ہے کہ تم لوگ مجھ سے رشتہ داری پر بھروسہ نہ کر لو کیونکہ میں تم سے وہ عذاب دور کرنے کی قدرت نہیں رکھتا جو تمہیں دینے کا اللہ عَزَّوَجَلَّ اِرادہ فرما لے البتہ میری تم سے جو رشتہ داری ہے اُس کے ناطے میں تم سے صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’شفاعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا چاہیے۔
(2)مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایمان اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہ کر اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائیں۔
(3)ایمان اور نیک اعمال سے کوئی بھی بے نیاز نہیں خواہ اس کا حسب نسب کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
(4)سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔
(5)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کے بغیر حضور نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی کا عذاب دور نہیں فرمائیں گے، بلکہ اپنے رب تعالی کی عطا سے لوگوں کی شفاعت فرمائیں گے اور ان سے عذاب کو دور فرمائیں گے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں اجتماعی و انفرادی طورپر اپنے رشتہ داروں اور گھروالوں کو نیکی کی دعوت دینے اوربرائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بروز حشر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت سے حصہ عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 329