Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 326

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ امْرَاَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ، قَالَتْ : فَرَجَعْتُ اِلىٰ عَبْدِ اللهِ بْنِِ مَسْعُوْدٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : اِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيْفُ ذَاتِ اليَدِ ، وَاِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَاْتِهٖ ، فَاسْاَلْهُ فَاِنْ كَانَ ذٰلِكَ يُجْزِىءُ عَنِّي وَاِلَّاصَرَفْتُهَا اِلىٰ غَيْرِكُمْ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : بَلِ اِئْتِيْهِ اَنْتِ ، فَانْطَلَقتُ ، فَاِذَا اِمْرَاَةٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِبَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتِيْ حَاجَتُهَا ، وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ ، فَخَرجَ عَلَيْنَا بِلاَلٌ ، فَقُلْنَا لَهُ : اِئْتِ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاَخْبِرْهُ اَنَّ اِمْرَاَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْاَلَانِكَ : اَتُجْزِىءُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلىٰ اَزْوَاجِهِمَا وَعَلٰى اَيْتَامٍ فِيْ حُجُورِهِمَا؟ وَلَاتُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ ، فَدَخَلَ بِلاَلٌ عَلیٰ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَاَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هُمَا ، قَالَ : امْرَاَةٌ مِنَ الْاَنْصَارِ وَزَيْنَبُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَيُّ الزَّ يَانِبِ هِيَ؟ قَالَ : اِمْرَاَةُ عَبْدِ اللهِ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَهُمَا اَجْرَانِ : اَجْرُ القَرَابَةِ وَاَجْرُ الصَّدَقَةِ.( )

وعن زينب الثقفية امراة عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وعنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تصدقن يا معشر النساء ولو من حليكن ، قالت : فرجعت الى عبد الله بن مسعود ، فقلت له : انك رجل خفيف ذات اليد ، وان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد امرنا بالصدقة فاته ، فاساله فان كان ذلك يجزىء عني والاصرفتها الى غيركم ، فقال عبد الله : بل ائتيه انت ، فانطلقت ، فاذا امراة من الانصار بباب رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجتي حاجتها ، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد القيت عليه المهابة ، فخرج علينا بلال ، فقلنا له : ائت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فاخبره ان امراتين بالباب تسالانك : اتجزىء الصدقة عنهما على ازواجهما وعلى ايتام في حجورهما؟ ولاتخبره من نحن ، فدخل بلال علی رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فسا له ، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : من هما ، قال : امراة من الانصار وزينب ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اي الز يانب هي؟ قال : امراة عبد الله ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لهما اجران : اجر القرابة واجر الصدقة.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب ثَقَفِیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے عورتوں کی

جماعت! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کرو۔ ‘‘ فرماتی ہیں : ’’میں حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ ’’آپ خالی ہاتھ اور تنگدست آدمی ہیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے ، لہٰذاآپ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر پوچھ آئیں کہ اگر میرا آپ (اور آپ کی اولاد )پرصدقہ کرنا جائز ہے تو ٹھیک ، ورنہ میں آپ لوگوں کے علاوہ کسی اور کو صدقہ دے دوں۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’تم خود جاؤ۔ ‘‘ فرماتی ہیں کہ میں گئی تو دیکھا کہ ایک انصاری خاتون سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازے پر کھڑی ہے اور اسے بھی یہی مسئلہ درپیش تھا۔ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قدرتی ہیبت عطا کی گئی تھی(جس کی وجہ سے ہم خدمت اقدس میں حاضر ہونے کی جرأت نہ کر سکیں) اتنے میں حضرت سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ باہر تشریف لائے تو ہم نے ان سے عرض کی : ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں جاکر عرض کیجئے کہ دو۲عورتیں دروازے پر کھڑی ہیں ، آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ اگر وہ اپنے شوہروں اور زیر کفالت یتیموں پرمال خرچ کریں تو کیا یہ صدقہ ہوجائے گا؟ اور یہ نہ بتائیے گا کہ ہم کون ہیں۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مسئلہ معلوم کیا تو رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’وہ عورتیں کون ہیں؟‘‘ عرض کی : ’’ایک انصاری خاتون ہیں اور دوسری حضرت زینب ہیں۔ ‘‘ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کون سی زینب؟‘‘ عرض کی : ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ۔ ‘‘ رحمت عالم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ ان کے لیے دو اجر ہیں۔ ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔ ‘‘

شرح حدیث

افضل و اکمل صدقہ:شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے حدیث پاک کی جو شرح فرمائی اسی کی روشنی میں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانےاپنے شوہر حضرت سَیِّدُنَا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا : ’’آپ کچھ مسکین اور تنگدست انسان ہیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے ، لہذا آپ وہاں حاضر ہو

کر پوچھ آئیں کہ ازدواجی اعتبار سے میرا ہر چیز میں آپ کے ساتھ اشتراک ہے ، اس کے باوجود میرا آپ پر اور آپ کی اولاد پر صدقہ کرنا ثواب کے لیے کافی ہوگا یا نہیں ، اگر کافی ہوگا تومیں آپ لوگوں پر اپنا مال صرف کر دیتی ہوں اور اگر کافی نہیں تو میں دوسرے لوگوں پر خرچ کر دیتی ہوں۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (گویا کہ شرم و حیاء کی بنا پر) فرمایا : ’’میں نہیں بلکہ تم ہی جاؤ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ مسئلہ دریافت کر لو۔ ‘‘ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جو سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ کہا کہ ان کی خدمت میں ہمارا نام عرض نہ کیجئے گا۔ تاکہ وہ ہمیں اپنے پاس بلانے کی تکلیف محسوس نہ کریں اور ہماری وجہ سے ان کا وقت ضائع نہ ہو۔ چونکہ بہت سی صحابیات کا نام زینب تھا اس لیے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : “ کون سی زینب؟ عرض کی : حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ۔ تب رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ ہاں انہیں کافی ہوگا اورانہیں دو اَجر ملیں گے ، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا ، لہذا ان پر صدقہ کرنا دوسروں پر صدقہ کرنے سے افضل و اکمل ہو گا۔ ‘‘( )
عورت کے استعمالی زیور پر زکاۃ فرض ہے:ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث پاک میں نفلی صدقہ مراد ہے اور اگر صدقہ سے زکوۃ مراد ہو تواس سے معلوم ہوتا ہےکہ(سونے اور چاندی کا ) جو زیور عورت کے استعمال میں ہےاس پر بھی زکوۃ فرض ہے خواہ وہ زیور اس نے خود خریدا ہو یا کسی اور نے جیسے میکے یا سسرال والوں نےاُسے اِس زیور کا مالک بنا دیا ہو اور یہ زکوۃخود اس عورت پر فرض ہے اس کے شوہر پر نہیں۔ مذکورہ حدیث پاک کے علاوہ یہاں مزید دو ایسی احادیث ملاحظہ ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سونے چاندی سے بنے ہوئے استعمالی زیورات پر بھی زکوۃ فرض ہے۔ (1)چنانچہ اُم المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میں سونے کے زیور پہنا کرتی تھی ، (ایک دن ) میں نے عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا یہ(وہ) کنز ہے(جس کے متعلق وعید آئی ہے)؟‘‘ ارشاد فرمایا : “ جو زکوۃ ادا کیے جانے کی حد کو پہنچ جائے اور (اس کی) زکوۃ ادا کر دی

جائے تو وہ کنز نہیں۔ “ ( )(2)دوسری حدیث پاک میں ہے کہ دو عورتیں خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے۔ حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟ “ انہوں نے عرض کی : ’’نہیں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : “ کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ “ عرض کی : ’’نہیں۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’تو تم اُن کی زکوۃ ادا کرو۔ “ ( )
ان احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہر اسلامی بہن کو چاہیے کہ اگر نصاب کی مقدار سونے یا چاندی کے زیورات ا س کی ملکیت میں موجود ہیں خواہ وہ اس کے استعمال میں ہوں یا نہ ہوں ، یونہی اگر نصاب کی مقدار سے سونے چاندی کے زیورات کم ہوں لیکن دوسرے اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچ جاتے ہوں تو وہ ان کی زکوۃ ضرور ادا کرے تاکہ قیامت کے دن آگ کے زیورات پہننے سے بچ سکے۔ دعا ہے کہ اللہتعالیٰ ہمیں فرض ہونے والی زکوۃ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
غنی ہونے میں مالداری کا اعتبار:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اسی کلام کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ اس سے معلوم ہوا کہ غنی عورت کا خاوند اور غنی خاوند کی بیوی ایک دوسرے کے غنی سے غنی نہ مانے جائیں گے جیسے امیر کی بالغ اولاد باپ کی غنا سے غنی نہیں ہوتی۔ دیکھو حضرت ابن مسعود ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )کی بیوی غنیہ تھیں مگر خود ابن مسعود( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) مسکین تھے۔ ‘‘( )خود مسئلہ نہ پوچھنے کی وجہ:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے زوجہ کے کہنے پر خود مسئلہ پوچھنے سے منع فرما دیا اور اپنی زوجہ سے ہی فرمایا کہ وہ خود جا کر مسئلہ پوچھ لیں۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ممکن ہے کہ آپ نے اس لیے منع کیا ہو کہ (یہ سوال کرنے پر)بعض لوگ انہیں لالچی نہ سمجھ لیں۔ ‘‘( )

اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں : ایک یہ کہ شوہر اپنی بیوی سے گھر سے باہر کا ضرور ی کام بھی کرو اسکتا ہے جبکہ عورت پردہ و حجاب میں رہتے ہوئے کرے۔ دوسری یہ کہ جب شرعی مسئلہ پوچھنے میں کوئی مانع ہوتو خود پوچھنے کے بجائے کسی دوسرے کے ذریعے معلوم کروالینا بھی درست ہے۔ جیساکہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مذی کا مسئلہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خود نہ پوچھا بلکہ حضرت مقداد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھوایا۔ ( )
تاجدارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہیبت:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لوگوں کے دلوں میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت ڈال دی تھی جس کی وجہ سے ہرشخص اجازت کے بغیرخدمت اقدس میں حاضر ہونے اورعرض معروض کرنے کی ہمت نہ کرتا تھا اور آپ کی بارگاہ میں حاضرین بھی ایسے خاموش اور با ادب بیٹھا کرتےتھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ سرکار ِدو عالَم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انتہائی با اَخلاق اور بہت ہی رحم و کرم فرمانے والے تھے۔ یہاں موضوع کی مناسبت سے سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت سے متعلق صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے دوواقعات ملاحظہ ہوں ، چنانچہ حضرت سَیِّدُنا براء بن عازبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’میں کسی کام کے بارے میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرنا چاہتا تھا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت کے سبب کئی برسوں تک اسے مؤخر کرتارہا۔ ‘‘( )
حضرت سَیِّدُنا عَمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وفات کے وقت اپنے بیٹے سے اپنی تین حالتیں بیان کیں۔ دوسری حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “ میرے نزدیکرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ سے زیادہ جلال و ہیبت والا کوئی نہ تھا۔ میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت کے سبب آپ کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا۔ ‘‘( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’عرفات‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)عورت کے استعمالی زیور پر بھی زکوۃ فرض ہے۔
(2)بیوی کے غنی ہونے سے شوہرغنی شمار نہیں ہوگا بلکہ ہر ایک کی اپنی مالداری کا اعتبار ہے۔
(3)شوہر اپنی بیوی سے باہر کا ضرور ی کام کرو اسکتا ہے جبکہ وہ پردہ و حجاب میں رہتے ہوئے کرے۔
(4)جب کوئی مانع ہو تو شرعی مسئلہ خود پوچھنے کے بجائے دوسرے کے ذریعے معلوم کروایا جا سکتا ہے۔
(5)حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خاص ہیبت عطا فرمائی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے گھر والوں پر اچھی نیت کے ساتھ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شرعی مسائل سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 326