Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 331

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ اَيُّوْبَ خَالِدِ بْنِ زَيْدِ الْاَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًاقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ اَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا ، وَتُقِيْمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّ حِمَ.( )

وعن ابي ايوب خالد بن زيد الانصاري رضي الله عنه ان رجلاقال : يا رسول الله اخبرني بعمل يدخلني الجنة ويباعدني من النار ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : تعبد الله ولا تشرك به شيئا ، وتقيم الصلاة ، وتؤتي الزكاة ، وتصل الر حم.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدناابو ایوب خالد بن زید انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے ایسے عمل کے بارے میں خبر دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے ، سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔ ‘‘

شرح حدیث

صلہ رحمی کو بطور خاص ذکر کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’اس خصلت کو سوال کرنے والے کے حال کی طرف نظر کرتے ہوئے خاص طور پر ذکر کیا گویا کہ وہ رشتہ داری بہت توڑا کرتاتھا تو اسے صلہ رحمی کرنے کا حکم دیاکیونکہ یہ اس کے اعتبار سے اہم ہے۔‘‘( )
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ صلہ رحمی کرو ۔ یعنی اپنے ذی رحم قرابت داروں کے ساتھ جس طرح بھی تمہیں میسر ہو ان کی حالت کے مطابق ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ یعنی ان پر خرچ کرو ، انہیں سلام کرو ، ان سے ملاقات کرو ، (نیک معاملات) میں ان کی اطاعت کرو اور اسی طرح ہر معاملے میں ان سے اچھا برتاؤ برتو۔ ‘‘( )
صلہ رحمی میں فائدے ہی فائدے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صلہ رحمی ایک ایسی خصلت ہے جو دنیا و آخرت کے فوائد کو احاطہ کیے ہوئے ہے ، صلہ رحمی کرنا جس طرح آخرت میں اجر عظیم کا سبب ہے اسی طرح دنیا میں بھی بے شمار خصائل و فوائد کا جامع ہے۔ صلہ رحمی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ راضی ہوتا ہے ، دلی اطمينان حاصل ہوتا ہے ، فِرشتے خوش ہوتے ہيں ، لوگ اس کی تعريف کرتے ہيں ، شیطان لعين غم ناک ہوتا ہے ، عمر ميں برکت ہوتی ہے ، رزق میں برکت ہوتی ہے ، اچھی موت نصیب ہوتی ہے ، محبت ميں زيادتی ہوتی ہے ، موت کے بعد ایصاب ثواب کی وجہ سے صلہ رحمی کرنے والے کے اجر میں زیادتی ہوتی ہے۔ ( )

حدیث پاک میں صلہ رحمی کرنے والے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حُسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مرتبہ منبر اقدس پر جلوہ فرماتھے کہ ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھڑے ہوکر عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں میں سب سے اچھا کون ہے؟‘‘ فرمایا : “ لوگوں میں سے وہ شخص سب سے اچھا ہے جو کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرے ، سب سے زیادہ متقی ہو ، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والا ہواور سب سے زیادہ صلہ رحمی (یعنی رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ) کرنے والا ہو۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’بہشت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)مخاطب کے حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے ترغیب دینے کے لیے بعض اعمال کو بطور خاص ذکر کیا جا سکتا ہے۔
(2)جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت کا اقرار کرے،اسلام کے ارکان قائم کرے اور رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے تو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرمائے گا۔
(3)صلہ رحمی کرنے کی برکت سے دنیا و آخرت کے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
(4)لوگوں میں سب سے اچھے آدمی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ صلہ رحمی کرتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی توحید و عبادت پر ثابت قدم رکھے اور ارکان اسلام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 331