- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حدیث نمبر 321
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : اَقْبَلَ رَجُلٌ اِلیٰ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ اَبْتَغِي الْاَجْرَ مِنَ اللهِ تَعَالیٰ. قَالَ : فَهَلْ لَكَ مِنْ وَالِدَيْكَ اَحَدٌ حَيٌّ؟ قَالَ : نَعَمْ! بَلْ كِلَاهُمَا ، قَالَ : فَتَبْتَغِي الْاَجْرَ مِنَ اللهِ تَعَالىٰ؟ قَالَ : نَعَمْ! قَالَ : فَارْجِعْ اِلىٰ وَالِدَيْكَ فَاَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُمَا : جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَاْذَنَهُ فيِ الْجِهَادِ فَقَالَ : اَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟ قَالَ : نَعَمْ! قَالَ : فَفِيْهِمَا فَجَاهِدْ.( )
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال : اقبل رجل الی نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال : ابايعك على الهجرة والجهاد ابتغي الاجر من الله تعالی. قال : فهل لك من والديك احد حي؟ قال : نعم! بل كلاهما ، قال : فتبتغي الاجر من الله تعالى؟ قال : نعم! قال : فارجع الى والديك فاحسن صحبتهما.( )وفي رواية لهما : جاء رجل فاستاذنه في الجهاد فقال : احي والداك؟ قال : نعم! قال : ففيهما فجاهد.( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : ’’ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’میں ہجرت اور جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اللہتعالیٰ سے (اس کے) اجر و ثواب کا طلبگار ہوں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : “ کیا تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ “ عرض
کی : ’’جی ہاں! بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ ‘‘ ارشادفرمایا : “ کیاتو اللہتعالی سے اجر و ثواب کا طلبگار ہے؟ “ عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور اُن سے اچھا سلوک کر۔ “ اور بخاری و مسلم کی ایک اورروایت میں ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ اَقدس میں حاضر ہوکر جہاد کے لیے اجازت طلب کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ “ عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : “ تو تم اُن کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے ۔ “
شرح حدیث
نیک اَفعال میں والدین کی اجازت کاحکم:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’غالب یہ ہے کہ جس شخص نے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی اس کے ماں باپ کو اس کی خدمت کی حاجت تھی ، وہ اکیلا بیٹا خدمت گار تھا اور جہاد اس وقت فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ تھا ، ایسی صورت میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے ، اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو جہاد مقدم ہے۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اگر جہاد فرض عین نہ ہو تو والدین کی اجازت کے بغیر جہاد میں نہیں جانا چاہیے اوراگر جہاد فرض ہو تو ان سے اجازت لینا بہتر ہے اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو بھی چلا جائے کہ اس پر جہاد فرض عین ہے جس سے منع کرنا والدین کے لیے جائز نہیں اوراگر وہ منع کریں گے تو گنہگار ہوں گے ، یہ حکم مؤمن والدین کے لیے ہے جبکہ کافر ماں باپ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں خواہ جہاد فرض ہو یا نفل۔ خیال رہے کہ مسلمان ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی نفلی عبادت کے لیے نہ جائے جیسے نفلی حج ، نفلی عمرہ ، زیارت وغیرہ حتی کہ اگر مسلمان ماں باپ اجازت نہ دیں نفلی روزہ بھی نہ رکھے۔ ‘‘( )والدین کی خدمت کرنے کی تاکید:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں ماں باپ کی خدمت اور اُن کے ساتھ بھلائی کرنے کی فضیلت پر دلیل ہے اور یہ کہ ماں باپ کی خدمت کرنے کی جہاد سے زیادہ تاکید ہے۔ مسلمان ماں باپ کی اجازت بغیر ایسے جہاد میں جانا جائز نہیں جو فرض کفایہ ہو ، ہاں اگر جہاد
فرض ہوتو ان سے اجازت لینا شرط نہیں۔ ‘‘( )فرض جہاد کے ساقط ہونےکی صورت:اگر بالفرض ماں باپ ایسی حالت میں ہیں کہ اِس کے جانے سے اُن کی جان پر بن آئے گی تو پھر اس صورت میں جہاد میں شرکت کرنے کی فرضیت ساقط ہوجائے گی۔ ( )فوت شدہ والدین کے اولاد پر12حقوق:اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اہلسنت ، مُجَدِّدِدِین وملت ، پروانۂ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے والدین کی وفات کے بعد اولاد پر لاگو ہونے والے بارہ (12) حقوق بیان فرمائے ہیں : ’’(1)سب سے پہلاحق بعدموت ان کے جنازے کی تجہیز ، غسل وکفن ونماز ودفن ہے اور ان کاموں میں سنن ومستحبات کی رعایت جس سے ان کے لیے ہرخوبی وبرکت ورحمت ووسعت کی امیدہو۔ (2) ان کے لیے دعاواستغفار ہمیشہ کرتے رہنا اس سے کبھی غفلت نہ کرنا۔ (3) صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کاثواب انہیں پہنچاتے رہنا ، حسب طاقت اس میں کمی نہ کرنا ، اپنی نماز کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز پڑھنا ، اپنے روزوں کے ساتھ ان کے واسطے بھی روزے رکھنابلکہ جونیک کام کرے سب کاثواب انہیں اور سب مسلمانوں کوبخش دینا کہ ان سب کو ثواب پہنچ جائے گا اور اس کے ثواب میں کمی نہ ہوگی بلکہ بہت ترقیاں پائے گا۔ (4) ان پرکوئی قرض کسی کاہو تو اس کے ادا میں حددرجہ کی جلدی وکوشش کرنا اور اپنے مال سے ان کاقرض اداہونے کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھنا ، آپ قدرت نہ ہو تو اور عزیزوں قریبوں پھر باقی اہل خیر سے اس کی ادامیں امداد لینا۔ (5) ان پرکوئی فرض رہ گیا توبقدرقدرت اس کے ادامیں سعی بجالانا ، حج نہ کیاہوتو ان کی طرف سے حج کرنا یاحج بدل کرانا ، زکوٰۃ یاعشر کامطالبہ ان پر رہا تو اسے اداکرنا ، نمازیا روزہ باقی ہوتو اس کاکفارہ دینا۔ وعلیٰ ہذاالقیاس ہرطرح ان کی براءت ذمہ میں جدوجہد کرنا۔ (6) انہوں نے جو وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو حتی الامکان اس کے نفاذ میں سعی کرنا اگرچہ شرعاً اپنے اوپر لازم نہ ہو ، اگرچہ اپنے نفس پربارہو ، مثلاً وہ نصف
جائداد کی وصیت اپنے کسی عزیز غیر وارث یا اجنبی محض کے لیے کرگئے توشرعاً تہائی مال سے زیادہ میں بے اجازت وارثان نافذ نہیں مگر اولاد کومناسب ہے کہ ان کی وصیت مانیں اور ان کی خوشخبری پوری کرنے کو اپنی خواہش پر مقدم جانیں۔ (7) ان کی قسم بعدمرگ بھی سچی ہی رکھنا۔ مثلاً ماں باپ نے قسم کھائی تھی کہ میرابیٹا فلاں جگہ نہ جائے گا یافلاں سے نہ ملے گا یافلاں کام کرے گا تو ان کے بعد یہ خیال نہ کرنا کہ اب وہ تو نہیں ان کی قسم کاخیال نہیں بلکہ اس کاویسے ہی پابند رہنا جیساان کی حیات میں رہتا جب تک کوئی حرج شرعی مانع نہ ہو اور کچھ قسم ہی پرموقوف نہیں ہرطرح امورجائزہ میں بعد مرگ بھی ان کی مرضی کا پابند رہنا۔ (8) ہرجمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لیے جانا ، وہاں یٰس شریف پڑھنا ایسی آواز سے کہ وہ سنیں اور اس کا ثواب ان کی روح کوپہنچانا ، راہ میں جب کبھی ان کی قبرآئے بے سلام وفاتحہ نہ گزرنا۔ (9) ان کے رشتہ داروں کے ساتھ عمربھر نیک سلوک کئے جانا۔ (10) ان کے دوستوں سے دوستی نباہنا ہمیشہ ان کااعزاز واکرام رکھنا۔ (11)کبھی کسی کے ماں باپ کوبراکہہ کرجواب میں انہیں برانہ کہلوانا۔ (12) سب میں سخت تر وعام تر ومدام تریہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کرکے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا ، اس کے سب اعمال کی خبرماں باپ کوپہنچتی ہے ، نیکیاں دیکھتے ہیں توخوش ہوتے ہیں اور ان کاچہرہ فرحت سے چمکتا اوردمکتاہے ، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پرصدمہ ہوتاہے ، ماں باپ کایہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔ ‘‘( )والدین سے حسن سلوک کرنے کی فضیلت:حضرت سَیِّدُنا ابوہریر ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ لوگوں کی عورتوں کو پاک دامن رہنے دو تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی ، اپنے والدین کے ساتھ اچھاسلوک کیا کرو تمہارے بیٹے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے اور جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کرنے کے لیے آیا تواسے چاہیے کہ اپنے بھائی کو معاف کردے خواہ وہ جھوٹاہو یا سچا ، جو ایسا نہیں کرے گا وہ حوضِ کوثرپر نہ آسکے گا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’شیرِخدا‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول(1)اگر جہاد فرض عین نہ ہو اور مسلمان ماں باپ کو خدمت کی حاجت ہو تو جہاد کرنے کے مقابلے میں ان کی خدمت کرنا مقدم ہے اور جہاد پر جانے کے لیے ان کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔
(2)فرض جہاد کے لیے والدین سے اجازت لینا بہتر ہے اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو بغیر اجازت چلا جائے اور اس موقع پر والدین کو منع کرنے کا اختیار نہیں، منع کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔
(3)نفلی عبادات کے لیے جانے سے پہلے والدین سے اجازت لے لے اگر منع کریں تو نہ جائے۔
(4)اجازت لینے کا حکم مؤمن والدین کے بارے میں ہے، کافر والدین سے فرض اور نفل دونوں صورتوں میں اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
(5)جہاد میں جانے سے اگر والدین کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو نہ جانے کی اجازت ہے۔
(6)جو اپنے ماں باپ سے حسن سلوک کر ے گا اس کی اولاد اس کے ساتھ حسن سلوک کرے گی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے والدین کی خدمت اور جائز امور میں ان کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 321