Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 317

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَغِمَ اَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ اَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ اَنْفُ مَنْ اَدْرَكَ اَبَوَيْهِ عِنْدَ الكِبَرِ اَحَدَهُمَا اَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ.( )

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : رغم انف ثم رغم انف ثم رغم انف من ادرك ابويه عند الكبر احدهما او كليهما فلم يدخل الجنة.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، پھر اس کی ناک خاک آلود ، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو کہ جو والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پائے اور (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہو۔ “

شرح حدیث

بوڑھے والدین کی خدمت جنت میں داخلے کا سبب:مذکورہ حدیث پاک میں اس شخص کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ جو اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پائے لیکن ان کی خدمت میں کوتاہی کرکے جنت میں داخلے کا سنہری موقع اپنے ہاتھ سےگنوا دے۔ عَلَّامَہ اَبُو

زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے اور اس کا عظیم ثواب حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ جب والدین بوڑھے اور ضعیف ہوں اس وقت ان کی خدمت کرنا ، ان پر اپنا مال خرچ کرنا یا کسی اور طرح ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے تو جس نے بوڑھے والدین کی خدمت وغیرہ میں کوتاہی کی اس نے جنت میں داخل ہونے کا موقع ضایع کردیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے شخص کی ناک خاک آلود کرے گا۔ ‘‘( )(یعنی اسے ذلیل و رُسوا کرےگا۔ )
بوڑھے ماں باپ کی دعا:حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’جو والدین میں سے کسی ایک یادونوں کو بڑھاپے میں پاکر اُن کی خدمت کی سعادت حاصل نہ کرے اس کی ناک خاک آلود ہو۔ ‘‘ حدیث پاک میں بڑھاپے کی قید اس لیے لگائی کہ اس وقت ہی خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور بارگاہِ الٰہی میں بوڑھے کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ، وہ کریم سفید داڑھی (سفید) بالوں والے بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھ خالی نہیں پھیرتا ، اولاد کو چاہیے کہ ایسے وقت اور ایسے وقت کی خدمت کو غنیمت جانیں۔ ‘‘( )
شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ ہمیں بوڑھے ماں باپ کی اطاعت و فرمانبرداری کا ذہن دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یقیناً ماں باپ کا بُڑھاپا انسان کو امتِحان میں ڈال دیتاہے ، بسا اوقات سخت بڑھاپے میں اکثر بستر ہی پر بول وبراز(یعنی گندَگی)کی ترکیب ہوتی ہے جس کی وجہ سے عمومًااولاد بیزار ہوجاتی ہے۔ مگر یاد رکھیے!ایسے حالات میں بھی ماں باپ کی خدمت لازمی ہے۔ بچپن میں ماں بھی توبچے کی گندگی برداشت کرتی ہے۔ بڑھاپے اور بیماریوں کے باعث ماں باپ کے اندر خواہ کتناہی چِڑچِڑا پن آجائے ، سٹھیا جائیں ، بلا وجہ لڑیں ، چاہے کتنا ہی جھگڑیں اور پریشان کریں ، صبر ، صبر اورصبرہی کرنا اور ان کی تعظیم بجا لاناضروری ہے۔ ان سے بدتمیزی کرنا ، ان کو جھاڑنا وغیرہ درکنار ان کے آگے ’’اُف‘‘ تک نہیں کرنا ہے ، ورنہ بازی ہاتھ سے نکل سکتی اور دونوں جہانوں کی تباہی مقدَّر بن سکتی ہے کہ والدین کا

دل دُکھانے والا اس دنیا میں بھی ذلیل وخوار ہوتاہے اورآخرت میں بھی عذابِ نار کاحق دار ہے۔ ‘‘( )
دل دُکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا …… ورنہ ہے اس میں خسارہ آپ کا
والدین کی خدمت کرنےکا نادرموقع:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’بوڑھے والدین کی خدمت نہ کرنے والا جنت سے دور ہوجائے گا۔ یعنی وہ ذلیل و رسوا اور خائب و خاسر ہوا کہ جس نے بوڑھے والدین کی خدمت کرکے کامیاب ہونے اور جنت میں جانے کا موقع پایا لیکن اس موقع سے فائدہ نہ اُٹھایا اور اس موقع سے فائدہ اُٹھانے کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)(پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۲۳ ، ۲۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں (اُف تک) نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن (چھوٹی عمر) میں پالا۔ ‘‘( )
امام مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : “ جب والدین تیرے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں اور (کپڑوں وغیرہ میں ہی) بول و براز کریں تو ان سے گھن نہ کھا اور جب ان سے گندگی دور کر تو “ اُف “ نہ کہہ جیساکہ وہ تجھ سے گندگی دور کرتے ہوئے تکلیف کا اظہار نہ کرتے تھے اس وقت جب کہ تو بچہ تھا۔ ‘‘( )
والدین کی خدمت کرنے کی ترغیب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! والدین بوڑھے ہوں یا جوان ، ہر حال میں ان کی خدمت کرکے اور ان پر

اپنا مال وغیرہ خرچ کر کے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے لیکن بالخصوص بڑھاپے میں انہیں خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ بڑھاپے میں طبیعت چڑچڑی ہوجاتی ہے ، غصہ بڑھ جاتا ہے ، اس وقت ان کی سخت بات برداشت کرے ، ان کی سختی کی پرواہ نہ کرے ، وہ وقت تو سنبھالنے کا ہے جس نے وہ وقت سنبھال لیا اس نے کمائی کرلی ، ایسے آڑے وقت میں ان پر دل کھول کر خرچ بھی کرے ، ان کی خدمت بھی کرے ، ان کے لیے دعا بھی کرے۔ بچپن میں یہ مجبور تھا تو ماں باپ نے اسے سنبھالا اور وہ مجبور ہیں تو یہ انہیں سنبھالے ، اللہ ( عَزَّوَجَلَّ ) کی رحمت اسے سنبھالے گی۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’آب زم زم‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)بڑھاپے اور ضعیفی کے ایام میں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا جنت میں داخلے کا سبب ہے اور اس حال میں ان کی نافرمانی کرنا اور ان کے حقوق ادا نہ کرنا جنت سے محرومی کا ذریعہ ہے۔
(2)بوڑھے والدین کے ساتھ نیک سلوک نہ کرنے والے کے لیے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ذلت و خواری کی دعا فرمائی ہے۔
(3)والدین بوڑھے ہوں یا جوان ہر حال میں ان کی خدمت کرنی چاہیے البتہ جوانی کے مقابلے بڑھاپے میں وہ خدمت کے زیادہ حق دار ہیں۔
(4)بوڑھے والدین کی خدمت کرکے ان سے دعائیں لینی چاہئیں کہ بوڑھے کی دعا رب تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہے۔
(5)بوڑھے والدین کی سخت باتوں پر بھی صبر کرنا چاہیے اور ان کی سختی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے ۔
(6)جو اپنے بوڑھے والدین کو سنبھالے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اسے سنبھالے گی۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ
ہمیں والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے اور خاص طورپر بڑھاپے کی حالت میں ان کی خدمت گزاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 317