Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 323

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَلرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُوْلُ : مَنْ وَصَلَنِيْ وَصَلَهُ اللهُ وَمَنْ قَطَعَنِيْ قَطَعَهُ اللهُ.( )

وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الرحم معلقة بالعرش تقول : من وصلني وصله الله ومن قطعني قطعه الله.( )

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ رشتہ داری عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی کہہ رہی ہے : جو مجھے ملائے رکھے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ملائے گا اور جو مجھے توڑے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے توڑ دے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

قرب کا ذریعہ اوررحمت سے دوری کا سبب:عرش سے مراد یا تو عرش اعظم ہی ہے یا بلند مقام ، پہلا احتمال قوی ہے۔ ( )نیز رشتہ داری کا کلام کرنا دو معنی کا احتمال رکھتا ہے یا تو یہ بطورِ خبر ہے یا بطورِ دعا۔ پہلی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ رشتہ داری عرش کو تھامے ہوئے ہے اور خبر دے رہی ہے کہ جو رشتہ داروں کا حق ادا کرے گا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں قرب پائے گا اور جو ادا نہ کرے گا ، یا ان پر ظلم کرے گا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے دور ہوجائے گا۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ رشتہ داری عرش کو تھام کر یہ دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! جو رشتہ داروں کا حق ادا کرے تو اسے اپنی بارگاہ میں قرب عطا فرما اور جو ادا نہ کرے ، یا ان پر ظلم کرے ، تو اسے اپنی رحمت سے دورکر دے۔ ‘‘( )ذی رحم رشتہ داروں کی حد:وہ رشتہ دارجن کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں اُن میں ذی رحم رشتہ دار داخل ہیں ۔ ذی رحم محرم سے مراد ایسے قریب کے رشتے والا ہے کہ اگر اُن میں سے ایک مَرد ہو اور ایک عورت ہوتو نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو جیسے باپ ماں بیٹا بیٹی ، بہن ، چچا ، پھوپھی ، ماموں ، خالہ ، بھانجا ، بھانجی۔ ( )جبکہ اُن کے علاوہ دوسرے رشتہ دار جیسے ساس ، اپنے بچوں کے ماموں ، رضاعی ماں اوررضاعی بھائی وغیرہ کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : )وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ( (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۲۶) ترجمۂ کنزالایمان : اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے ۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت حلیمہ اور جناب ثوبیہ کے عزیزوں سے سلوک کیے۔ ( )
رشتہ داروں سےحسن سلوک اورسیرت رسول:حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت پاک میں ذی رحم اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کے کثیر واقعات موجود ہیں ، یہاں مذکورہ بالا کلام کی مناسبت سے دیگر رشتہ داروں سے متعلق دو 2واقعات ملاحظہ ہوں :
(1)جنگ اوطاس میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضاعی بہن اور حضرت سَیِّدَتُنَا حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی صاجزادی حضرت سَیِّدَتُنَا شیماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی گرفتار ہوئیں ، جب انہیں شناخت کے لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر کیا گیا تو آپ نے انہیں پہچان لیااور جوشِ محبت میں آپ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور آپ نے اپنی چادر مبارک زمین پر بچھا کر انہیں بٹھایا اور کچھ اونٹ کچھ بکریاں دے کر ارشادفرمایا : ’’ تم آزاد ہو ، اگر تمہارا جی چاہے تو میرے پاس رہو اور اگر اپنے گھر جانا چاہو تو میں تمہیں وہاں پہنچا دیتا ہوں۔ ‘‘ انہوں نے اپنے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی تو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ انہیں ان کے قبیلے میں پہنچا دیا گیا۔ ( )
(2)جنگ اوطاس ہی کے موقع پر جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اموالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوگئے تو چند معززین کے ساتھ قبیلہ بنی سعد کے رئیس زہیر ابو صرد بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور جنگی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں درخواست پیش کی۔ اس موقع پر زہیر ابو صرد نے ایک بہت پراثر تقریر کی ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’اے محمد!( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )آپ نے ہمارے خاندان کی ایک عورت حلیمہ کا دودھ پیا ہےاور آپ نے جن عورتوں کو یہاں قید کر رکھا ہے ان میں سے بہت سی آپ کی (رضاعی) پھوپھیاں اور بہت سی آپ کی خالائیں ہیں۔ خدا کی قسم! اگر عرب کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ نے ہمارے خاندان کی کسی عورت کا دودھ پیا ہوتا تو ہمیں اس سے بہت زیادہ امیدیں ہوتیں اور آپ سے تو اور بھی زیادہ ہماری توقعات وابستہ ہیں ، لہٰذا آپ ان سب قیدیوں کو رہا فرما دیجئے۔ ‘‘چنانچہ زہیر کی یہ تقریر سن کر رحمت عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے خاندان کے حصے میں آنے والے تمام قیدیوں کو رہا فرما دیا اور صحابہ

کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے بھی فرمایا تو انہوں نے بھی اپنے حصے میں آنے والے قیدی رہا کر دئیے۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’عرش‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اوراس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)رشتہ داروں کا حق ادا کرنا بارگاہِ اِلٰہی میں قرب پانے کا ذریعہ اور اُن کا حق ادا نہ کرنا یا اُن پر ظلم کرنا رحمتِ اِلٰہی سے دوری کا سبب ہے۔
(2)ذی رحم رشتہ داروں کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہیے۔
(3)حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سبھی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک فرمایا کرتے تھے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
ہمیں رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے رہنے اور تمام رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 323