Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 319

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ اَحَبَّ اَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِيْ رِزْقِهٖ ، ويُنْسَاَ لَهُ فِيْ اَثَرِهٖ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ.( )

وعن انس رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من احب ان يبسط له في رزقه ، وينسا له في اثره فليصل رحمه.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکار مکہ مکرمہ سردار مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے اس کے رزق میں فراخی اور عمر میں وسعت کی جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔ ‘‘

شرح حدیث

رزق اور عمرمیں اِضافے کی صورتیں:شارحین نے اس کی کئی صورتیں بیان فرمائی ہیں : (1) رزق میں فراخی سے مراد یہ ہے کہ اس میں برکت و وسعت دی جائے اور عمر میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ اس بندے کی عمر میں برکت دی جائے۔ (2)عمر میں زیادتی کا تعلق لوح محفوظ میں لکھی ہوئی اس عمر سے ہے کہ جو فرشتوں کو معلوم ہے۔ مثلاً : فرشتوں کو لوح محفوظ پر یہ دکھایا جاتا ہے کہ اس آدمی کی عمر ساٹھ 60برس ہےلیکن اگر اس نے صلہ رحمی کی تو اس کی عمر میں چالیس40 سال کا اور اضافہ کردیا جائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کو علم ہوتا ہے کہ یہ صلہ رحمی کرے گا یا نہیں لیکن مخلوق کو معلوم نہیں ہوتا تو جب وہ صلہ رحمی کرتا ہے تو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی عمر میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ تو یہ زیادتی مخلوق کے علم کے لحاظ سے ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علم کے اعتبار سے نہیں۔ ( )(3)عمر میں زیادتی سے یا تو نیک ذریت مراد ہے جو اس کے لیے دعا کرنے والی اور اس کی نیک نامی کو زندہ رکھنے والی ہے۔ ‘‘ ( )(4) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’عمر میں زیادتی کا معنی یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی دنیا میں اس شخص کا ذکر جمیل باقی رہے گا اور لوگوں کی زبانوں پر اس کی تعریف رہے گی تو گویا کہ مرنے کے بعد بھی وہ نہیں مرا ، اب یہ تعریف چاہے اس بنا پر ہو کہ اس نے لوگوں کو ایسا علم پہنچایا جس سے ان کو نفع حاصل ہوا یا اس نے صدقۂ جاریہ کیا ہو یا اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑ گیا ہو۔ ‘‘( )(5) عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’رزق میں فراخی سے مراد اس میں برکت دینا ہے کیونکہ صلہ رحمی ایک صدقہ ہے اور صدقہ مال کو بڑھاتا ہے اور عمر میں اضافے سے مراد یہ ہے کہ کہ بدن میں قوت و طاقت آئے گی ، نیز رزق

اور عمر میں اضافے کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ جب بندہ ماں کے پیٹ میں تھا تو اس وقت (اس کی تقدیر میں)یہ لکھ دیاگیاکہ اگر یہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے گا تو اس کا رزق اور عمر اتنی(مثلاً رزق دس کروڑ اور عمرپچاس سال) ہے اور اگر صلہ رحمی نہیں کرے گا تو اتنی(مثلاً رزق ایک کروڑ اور عمربیس سال) ہے۔ ‘‘( )
صلہ رحمی کی صورتیں:علامہ سید محموداحمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ صلہ رحمی کی مختلف صورتیں ہیں : مثلاً ان کو ہدیہ و تحفہ دینا ، ان کی امداد و اعانت کرنا ، ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا ، انہیں سلام کرنا ، ان کے ساتھ ملاقات کرنا ، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا ، ان کے ساتھ خط و کتابت رکھنا ، غرضیکہ ہر وہ اچھا فعل جس سے جانبین میں محبت و اُلفت پیدا ہو صلہ رحم ہے۔ بہتر یہ ہے ملاقات میں ناغہ کرے ، ایک دن ملے تو دوسرے دن نہ جائےکہ اس طرح محبت و اُلفت زیادہ ہوتی ہے۔ نیز صلہ رحمی اسی کا نام نہیں کہ جب وہ اچھی طرح پیش آئیں تب ہی ان سے اچھائی کی جائے بلکہ صلہ رحمی تو یہ ہے کہ اگر وہ سختی اور بے اعتنائی برتیں تو ان کے ساتھ نرمی اور بردباری سے پیش آیا جائے۔ ‘‘( )عمرمیں ستر(70)سال کااضافہ ہوگیا:حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت بابرکت میں ایک خوبرو دولھا زیارت کے لیے حاضر ہوا۔ حضرت سیِّدُنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام و ہیں موجود تھے ، آپ نے پوچھا اے داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام)! کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ فرمایا : “ جی ہاں ، یہ مؤمن نوجوان مجھ سے محبت کرتا ہے ، اس کی آج ہی شادی ہوئی ہے اس نے مجھ سے ملاقات کیے بغیر اپنی دلہن کے پاس جانا گوارا نہ کیا لہٰذا ملنے آیا ہے ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا : ’’اے داؤد(عَلَیْہِ السَّلَام)! اس دولھے کی عمر صرف چھ دن باقی رہ گئی ہے۔ ‘‘ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رنجیدہ ہو گئے۔ اس واقعہ کو سات ماہ گزر گئے مگر وہ نوجوان فوت نہ ہوا۔ دریں اثنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے تو حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے

فرمایا : ’’اے ملک الموت! وہ نوجوان توابھی تک زندہ ہے۔ ‘‘ ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے جواباً عرض کیا : ’’جب میں نے چھ دن کے بعد اُس کی روح قبض کرنی چاہی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’اے ملکُ الموت! میرے بندے کو چھوڑ دو کیوں کہ جب یہ(حضرت)داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام)کے پاس سے ہو کر باہَر نکلا اور اُس نے ایک لاچار فقیر کو پایا تو اس کو اپنی زکوٰۃ دیدی ، اس محتاج نے خوش ہو کر اُس کو درازئ عُمربِالخیر اورجنَّت میں (حضرت)داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام) کاپڑوسی بنائے جانے کی دعاء سے نوازا۔ میں نے وہ دُعا قَبول فرما لی اور میں نے اُس کے لیے اُن چھ دن کو ساٹھ سال لکھ دیا اور مزید دس سال بڑھا دیئے اور اس کے لیے جنّت میں (حضرت)داؤد (عَلَیْہِ السَّلَام)کا پڑوس لکھ دیا ہے۔ لہٰذا تم یہ (70سالہ) مدت پوری ہونے سے قبل اس کی روح قبض مت کرنا۔‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’حطیم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)صلہ رحمی کی برکت سے رزق اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
(2)صلہ رحمی کی برکت سے رشتہ داروں کے مابین الفت و محبت بڑھتی ہے۔
(3)رشتہ دار اگرچہ برا سلوک کریں لیکن ہمیں ہر حال میں ان سے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔
(4)قضاءو تقدیر کے مسائل میں زیادہ غور و فکر کر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہلاکت کا سبب ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
ہمیں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے رہنے اور اس کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے،نیزتقدیر پر کامل ایمان رکھنے اور ا س کے مسائل میں زیادہ غورو فکر کرنے سے محفوظ فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 319