- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حدیث نمبر 316
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ مَنْ اَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِيْ؟ قَالَ: اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : اَبُوْكَ.( )وَفِيْ رِوَايَةٍ : يَارَسُوْلَ اللهِ مَنْ اَحَقُّ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ : اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ثُمَّ اُمُّكَ ، ثُمَّ اَبَاكَ ، ثُمَّ اَدْنَاكَ اَدْنَاكَ. ( )
وعنه رضي الله عنه قال : جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال : يا رسول الله من احق الناس بحسن صحابتي؟ قال: امك ، قال : ثم من؟ قال : امك ، قال : ثم من؟ قال : امك ، قال : ثم من؟ قال : ابوك.( )وفي رواية : يارسول الله من احق بحسن الصحبة؟ قال : امك ثم امك ثم امك ، ثم اباك ، ثم ادناك ادناك. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ ایک شخص نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! لوگوں میں میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نےعرض کی : ’’ پھر
کون؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’پھر کون؟‘‘ارشادفرمایا : ’’تمہاری ماں۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’پھر کون؟‘‘ ارشادفرمایا : ’’تمہارا باپ۔ ‘‘اور ایک روایت میں یوں ہے : (اس شخص نے عرض کی ) ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! لوگوں میں میرے اچھے سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا : “ تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہارا باپ ، پھر تمہارا قریبی ، پھر تمہارا قریبی۔ “
شرح حدیث
ماں کا حق باپ سے اعظم ہے:مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’اولاد پرماں باپ کاحق نہایت عظیم ہے او رماں کاحق اس سے اعظم ، قَالَ اﷲ∞ تَعَالٰی(اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : )وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًاؕ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًاؕ-(پ۲۶ ، الاحقاف : ۱۵)اور ہم نے تاکید کی آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی ، اسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سے ، اور اسے جنا تکلیف سے اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چُھٹنا تیس مہینے میں ہے۔
اس آیہ کریمہ میں رب العزت نے ماں باپ دونوں کے حق میں تاکید فرماکر ماں کو پھرخاص الگ کرکے گنا اور اس کی ان سختیوں اور تکلیفوں کوجو اسے حمل وولادت اور دوبرس تک اپنے خون کا عطرپلانے میں پیش آئیں جن کے باعث اس کاحق بہت اشدواعظم ہوگیا ، شمارفرمایا۔ اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-(پ۲۱ ، لقمن : ۱۴)
تاکید کی ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے حق میں کہ پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے سختی پرسختی اٹھاکر اور اس کادودھ چھُٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔
یہاں ماں باپ کے حق کی کوئی نہایت نہ رکھی کہ انہیں اپنے حقِ جلیل کے ساتھ شمارکیا ، فرماتاہے : شکربجالا میرا اور اپنے ماں باپ کا ، اَللہ اَکْبَر اَللہ اَکْبَرْ وَحَسْبُنَاﷲ∞ وَنِعْمَ الْوَکِیْل وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔ یہ دونوں آیتیں اوراسی طرح بہت حدیثیں دلیل ہیں کہ ماں کاحق باپ کے حق سے زائد ہے ، اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’ میں نے حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَسَلَّم سے عرض کی : ’’عورت پرسب سے بڑا حق کس کاہے؟‘‘ فرمایا : ’’شوہر کا۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کاہے؟ ‘‘فرمایا : ’’اس کی ماں کا۔ ‘‘( )ماں کا حق زیادہ ہونے کے معنی :اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم زید فرماتے ہیں : ’’مگر اس زیادت(یعنی ماں کا حق زیادہ ہونے) کے یہ معنی ہیں کہ خدمت میں ، دینے میں باپ پر ماں کو ترجیح دے ، مثلاً سو100 روپے ہیں اور کوئی خاص وجہ مانع تفضیل مادر(یعنی والدہ کو فضیلت دینے سے مانع کوئی خاص وجہ)نہیں توباپ کو پچیس(25) دے ، ماں کو پچھتر(75) ، یاماں باپ دونوں نے ایک ساتھ پانی مانگا توپہلے ماں کو پلائے پھرباپ کو ، یادونوں سفر سے آئے ہیں پہلے ماں کے پاؤں دبائے پھرباپ کے ، وَعَلٰی ھٰذَاالْقِیَاسُ نہ یہ کہ اگر والدین میں باہم تنازع ہو تو ماں کا ساتھ دے کر معاذﷲ∞ باپ کے درپے ایذا ہو ، یا اس پر کسی طرح دُرُشْتی (سختی) کرے ، یااسے جواب دے ، یابے ادبانہ آنکھ ملاکربات کرے۔ یہ سب باتیں حرام اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معصیت ہیں ، نہ ماں کی اطاعت ہے نہ باپ کی ، تو(ایسی صورت میں) اسے ماں باپ میں سے کسی کاایساساتھ دیناہرگز جائز نہیں ، وہ دونوں اس کی جنت ونار ہیں ، جسے ایذا دے گا دوزخ کامستحق ہوگا۔ وَالْعَیَاذُبِاﷲ∞ ، معصیت خالق میں کسی کی اطاعت نہیں ، اگرمثلاً ماں چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کاآزار (تکلیف) پہنچائے اور یہ نہیں مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہے ، ہونے دے اور ہرگز نہ مانے ، ایسے ہی باپ کی طرف سے ماں کے معاملہ میں ، ان کی ایسی ناراضیاں کچھ قابل لحاظ نہ ہوں گی کہ یہ ان کی نری زیادتی ہے کہ اُس سے اللہتعالیٰ کی نافرمانی چاہتے ہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام نے یوں تقسیم فرمائی ہے کہ خدمت میں ماں کوترجیح ہے جس کی مثالیں ہم لکھ آئے ہیں ، اور تعظیم باپ کی زائد ہے کہ وہ اس کی ماں کابھی حاکم وآقا ہے۔ ‘‘( )ماں کا حق تین گناہ زیادہ ہے:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک
کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے کیونکہ ماں بچہ پر تین احسان کرتی ہے باپ ایک احسان۔ پیٹ میں رکھنا ، جننا ، (دودھ پلانا) ، پرورش کرنا باپ صرف پرورش ہی کرتا ہے۔ بیٹا ماں باپ دونوں کی خدمت کرے مگر مقابلہ کی صورت میں ادب و احترام باپ کا زیادہ کرے خدمت و انعام ماں کی زیادہ۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک یہ ہے کہ ان سے نرم اور نیچی آواز سے کلام کرے ، مالی و بدنی خدمت کرے یعنی اپنے نوکروں سے ہی ان کا کام نہ کرائے بلکہ خودکرے ، ان کا ہر جائز حکم مانے ، انہیں نام لے کر نہ پکارے ، اگر وہ غلطی پر ہوں تو نرمی سے ان کی اصلاح کرے ، اگر قبول نہ کریں تو ان پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے ، ان کی سختی پر تحمل کرے ، یہ آداب قرآن مجید میں اور حضرتخلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کے عمل شریف میں مذکور ہیں۔ ‘‘( )وقت ولادت کی تکالیف:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی ماں بوقت ولادت بہت سخت تکالیف جھیلتی ہے جس کی وجہ سے اسے باپ سے زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اہلسنت ، مُجَدِّدِدِین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ماں کو ولادت کی وجہ سے ہونے والی تکالیف کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’مرد کاتعلُّق صِرف لذت کا ہے اور عورت کو صد ہا مصائب کا سامنا ہے ، نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے کہ چلنا پھرنا ، اٹھنا ، بیٹھنا دشوار ہوتا ہے ، پھر پیدا ہوتے وقت تو ہر جھٹکے پر موت کاپورا سامنا ہوتا ہے ، پھر اَقسام اَقسام کے درد میں نفاس والی(یعنی ولادت کے بعد آنے والے خون کی تکلیف میں مبتَلا ہونے والی)کی نیند اُڑ جاتی ہے۔ تو ہربچّے کی پیدائش میں عورت کو کم از کم تین برس بامشقت جیل خانہ ہے۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ ماں کے ساتھ شفقت و محبت باپ کے ساتھ محبت سے کئی درجے زیادہ ہونی چاہیےکہ حدیث پاک میں تین مرتبہ ماں کا ذکر ہوا اور چوتھی بار باپ کا۔ حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھاگیا کہ والدین
کے ساتھ اچھائی کس طرح کی جائے؟ فرمایا : تمہاری ملکیت میں جو کچھ ہے اسے والدین پر خرچ کرو اور معصیت کے علاوہ ہر بات میں ان کی اطاعت کرو۔ ‘‘( )خدمت گزار بیٹا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک کی شرح سے واضح ہوتا ہے کہ ماں اپنی اولاد کی خاطر کس قدر مصائب و آلام برداشت کرتی ہے اور کتنی محنت ومشقت سے اسے پال پوس کر بڑا کرتی ہے۔ اسی بنا پر اسلام نے ماں کو بہت بلند و بالا مقام و مرتبہ عطا کیا ہے اور مسلمانوں کو اس مقدس ہستی کی خدمت گزاری کا بڑی سختی سے پابند کیا ہے۔ لہٰذا ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ اس اہم فریضہ کو سرانجام دینے کی بھرپور کوشش کرے اور دو جہاں کی سعادت مندی کا حقدار بنے۔ اسی ضمن میں ماں کے خدمت گزار سعادت مند بیتے کی ایک ایمان افروز حکایت پیش خدمت ہے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا با يزيد بسطامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سخت سردی کی ايک رات میں ميری والدہ نے مجھ سے پانی مانگا ، میں آبخورہ (گلاس) بھر کر لے آیامگر ماں کو نیند آگئی تھی ، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا ، پانی کا آبخورہ ليے اس انتظار میں ماں کے قریب کھڑا رہا کہ بیدار ہوں تو پانی پیش کروں۔ کھڑے کھڑے کافی دیر ہو چکی تھی اور آبخورے سے کچھ پانی بہ کر گر گیا تھااور سخت سردی کی وجہ سے میری انگلی پر برف بن کر جم گیا تھا بہرحال جب والدہ محترمہ بیدار ہوئیں تو میں نے آبخورہ پیش کیا ، چونکہ انگلی پر برف جم جانے کی وجہ سے وہ چپک گیا تھا لہٰذا برف سے چپکی ہوئی انگلی جوں ہی آبخورے (گلاس) سے جدا ہوئی اس کی کھال ادھڑ گئی اور خون بہنے لگا ، ماں نے دیکھ کر پوچھا یہ کیا ؟ میں نے سارا حال بیان کیا تو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں دعا کے ليے ہاتھ اٹھا ديے اور عرض کیا : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی رہنا۔ ‘‘( )ترتیب وار حقوق کی ادائیگی:آخری حدیث کے آخر میں فرمایا : ’’پھر تمہارا قریبی ، پھر تمہارا قریبی۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ قرابت داروں سے مراد نسبی
قرابت دار ہیں ان میں جتنا قرب زیادہ اتنا حق زیادہ۔ چنانچہ پہلے بھائی بہن پھر ماموں چچا وغیرہ ۔ اور ہوسکتا ہے کہ قرابت دار عام مراد ہوں جن میں ساس ، سالا ، رضاعی ماں وغیرہ سب شامل ہوں۔ ( )صلہ رحمی کےمستحق افرادکی ترتیب:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی انسان کے حسن سلوک کے سب سے زیادہ مستحق افراد کی ترتیب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں ہے ، پھر باپ ، پھر اولاد پھر دادا اور دادی ، پھر بہن اور بھائی ، پھر تمام ذی رحم محارم یعنی چچا ، پھوپھی ، ماموں اور خالہ۔ اور جس سے جتنا قریبی تعلق ہے اسے دوسرو ں پر مقدم کرے گا ، اور وہ قرابت دار جن کا تعلق ماں اور باپ دونوں کے ساتھ ہے ، اسے اس قرابت دار پر ترجیح دیں گے جس کا تعلق ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ ہے۔ پھر اس کے بعد چچا ، پھوپھی ، ماموں اور خالہ کی اولاد ، پھر اس کے بعد ان قرابت داروں کا حق ہے کہ جن سے حُرمتِ مُصاہرت (یعنی سُسرالی رشتہ داری) کی وجہ سے تعلق ہے۔ پھر درجہ بدرجہ غلام یا دوست کا حق ہے پھر پڑوسی کا حق ہے۔ لیکن دور کے رہنے والے رشتہ دار کو پڑوسی پر ترجیح دیں گے اور اگر قریبی رشتہ دار دوسرے شہر میں رہتا ہو تو اسے بھی اجنبی پڑوسی پر مقدم کریں گے اور پھر شوہر بیوی کے اور بیوی شوہر کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’والدین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول(1)ماں اور باپ دونوں کا حق اولاد پر انتہائی عظیم ہے البتہ ماں کا حق باپ سے تین گنازیادہ ہے۔
(2)ماں کا حق زیادہ ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ اس نے بچے کے حمل ،ولادت وغیرہ کے سلسلے میں دوبرس تک انتہائی سختیاں اور تکلیفیں برداشت کی ہیں ۔
(3)ماں کا حق زیادہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خدمت کرنے اور دینے میں ماں کو باپ پر ترجیح دی جائے، کہ کوئی چیز دونوں کو دینی ہو تو پہلے ماں کو دے، یہ معنی نہیں کہ ماں باپ میں جھگڑا ہو تو ماں کی طرف داری میں باپ کو اذیت و تکلیف دینا شروع کر دے، البتہ تعظیم میں باپ مقدم ہے ۔
(4)والد کو اذیت دینا،اس پر سختی کرنا اور اس سے بے ادبی والے انداز میں بات کرنا حرام ہے ۔
(5)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی اگرچہ والدین ہی کیوں نہ ہوں۔
(6)والدین کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے رشتہ داروں کے حقوق بھی ادا کرنے چاہئیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے والدین کی خدمت و تعظیم کرنے اور ان کے رشتہ داروں کے بھی حقوق ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 316