Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 333

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اِبْنِِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : کَانَتْ تَحْتِي اِمْرَاَةٌ وَكُنْتُ اُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَقَالَ لِيْ : طَلِّقْهَا فَاَبَيْتُ فَاَتٰى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَلِّقْهَا.( )

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : کانت تحتي امراة وكنت احبها وكان عمر يكرهها فقال لي : طلقها فابيت فاتى عمر رضي الله عنه النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال النبي صلى الله عليه وسلم : طلقها.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میری ایک زوجہ تھی اور میں اسے پسندکرتا تھا جبکہ (میرے والد)حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے ناپسند کرتے تھے ، چنانچہ (ایک دن) انہوں نے مجھ سے فرمایا : “ اسے طلاق دے دو ۔ “ تو میں نے انکار کردیا ، پھر (میرے والد)حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان سے یہ معاملہ عرض کیا تو سرکار دوعالم نور مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (مجھ سے) ارشاد فرمایا : “ اسے طلاق دے دو۔ “

شرح حدیث

بیٹے کی بیوی کو ناپسند کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو اس عورت کو ناپسند فرماتے تھے ا س کی کوئی (دنیوی وجہ نہیں بلکہ ) دینی وجہ ہو

گی یا انہیں اس بات کا خوف ہو گا کہ وہ عورت حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اُن کے دِین میں نقصان کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ‘‘( )
رسولُ اللہ
اور طلاق دینے کا حکم:حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ یہ امر وجوب کا ہے۔ اور حضرت عبداللہ ابن عمر پر اس حکم کی بنا پر طلاق دینا واجب ہوگیا۔ (صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ امر استحباب کے لیے ہے۔ یعنی بہتر یہ ہے کہ طلاق دے دو تاکہ تمہارے والد تم پر ناراض نہ ہوں۔ ‘‘( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ا س عورت کو طلاق دے دی ہو گی کیونکہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے تھے۔ ‘‘( )کیا والدین کے کہنے پر طلاق دینا لازم ہوجائے گا؟اس موقع پر ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت بے قصور ہو تو کیا پھر بھی والدین کے کہنے پر اسے طلاق دے دی جائے؟ چنانچہ صَدْرُالشَّرِیْعَہ ، بَدرُالطَّرِیْقَہ ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی لکھتے ہیں کہ علما فرماتے ہیں : “ اگر والدین حق پر ہوں جب تو طلاق دینا واجب ہی ہے اور اگر بی بی (بیوی) حق پر ہو جب بھی والدین کی رضا مندی کے لیے طلاق دینا جائز ہے۔ “ ( )
بہارِ شریعت کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب عورت کا کوئی قصور نہ ہو تو اس صورت میں اسے والدین کے کہنے پر طلاق دینا جائز ہے واجب نہیں ، لہذا طلاق کی اس جائز صورت میں اگر والدین کے حکم پرعمل نہ کیا تو گناہ گار نہ ہوگا اور حالاتِ حاضرہ کے لحاظ سے اس جائز صورت میں طلاق نہ دینا زیادہ

مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اگر اس کی زوجہ نیک و پارسا ہےاور اپنے شوہر کے حقوق ادا کرنے میں کامل ہے ، اس کی اولاد کی اچھی پرورش کرتی ہے اور دینی اور دُنیاوی خوبیوں کی جامع ہے تو ایسی عورت کو طلاق نہ دے کیونکہ طلاق دینا اگرچہ مباح ہے لیکن اس مباح کام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ناپسند فرمایا ہے ، چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ روئے زمین پر اللہتعالیٰ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو۔ “ ( )اور اسی طرح جب عورت شوہر کی فرمانبردار ہو تو قرآنِ کریم کے حکم کے مطابق اسے خود سے جدا نہ کرنا چاہیے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-(پ۵ ، النساء : ۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان : پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو۔
علامہ محمد امین ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : “ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جدائی نہ چاہو (یعنی فرمانبردار عورت کو طلاق نہ دو)۔ “ ( )
عَلَّامَہ حَافِظْ اَبُوْبَکْر مُحَمَّدْ بِنْ عَبْدُ اللہ اَلْمَعْرُوْف بِاِبْنِ الْعَربِیْ اَلْمَالکِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث پاک کی جو شرح بیان فرمائی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ “ پہلے شخص جنہوں نے اپنے بیٹے کو طلاق کا حکم دیا وہ حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، آپ کے حکم پر آپ کے فرزند حضرتِ سَیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی بیوی کو طلاق دی ، اس سے پتا چلتا ہے کہ بیٹے کے اپنے باپ کے ساتھ حسن سلوک میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس چیز کو باپ ناپسند کرے بیٹا بھی اسے ناپسند کرے خواہ وہ اس کی پسندیدہ چیز ہی کیوں نہ ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو چیز باپ پسند کرے بیٹا بھی اسے پسند کرے اگرچہ اس سے پہلے وہ ناپسند ہو ، لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب باپ دینی بصارت کا حامل ہو۔ “ ( )لیکن آج کے زمانے میں علوم شرعیہ سے ناواقفیت کے سبب والدین میں بصارت دینی اور مصلحت دینی کا فقدان پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں جب والدین بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دیتے

ہیں تو اس میں عموماً کوئی دینی مصلحت نہیں ہوتی ، بلکہ محض چھوٹی چھوٹی باتوں کو مطمع نظر بنا کر علیحدگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لہذا جب عورت قصور وار نہ ہو تو اسے محض والدین کے کہنے پر طلاق دینا مناسب نہیں۔ اور نہ ہی یہ مسئلہ کا درست حل ہے بلکہ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ زوجہ اور والدین دونوں کا مدنی ذہن بنایا جائے اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کا درس دیا جائے ، اور اس کے لیےشیخ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولاناابو بلال محمدالیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے اصلاحی بیانات و رسائل بالخصوص “ گھرامن کا گہوارہ کیسے بنے؟ ، ساس بہو میں صلح کا راز “ اور “ گھریلو ناچاقیوں کا علاج “ نہایت کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک رہنے سے بھی ہر ایک کے حقوق کی پاسداری کا ذہن ملتا ہے اور اچھے اخلاق و اوصاف پیدا ہوتے ہیں لہذا اپنے گھر کو خوشیوں کا گلشن بنانے اور گھریلو ناچاقیوں سے نجات پانے کے لیے ہر دم دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ رہیئے۔
مدنی گلدستہ
بی بی’’آمنہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے نزدیک کسی کو پسند یا ناپسند کرنے کا معیار دین تھااور وہ دینی نقصان سے بچنے کو خاص طور پر ترجیح دیتے تھے۔
(2)صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنے کو ہر حال میں فوقیت دیا کرتے تھے۔
(3)اگر والدین حق پرہوں تو ان کے حکم پر طلاق دینا واجب ہے اور اگر حق پر نہ ہوں تو جائز ہے۔
(4)اگر عورت فرمانبردار ہوتو فقط والدین کے کہنے پر اسے طلاق نہیں دینی چاہیے۔
دعا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دین کو اپنی پسند اور ناپسند کا معیار بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 333