- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حدیث نمبر 333
والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 333
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اِبْنِِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : کَانَتْ تَحْتِي اِمْرَاَةٌ وَكُنْتُ اُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَقَالَ لِيْ : طَلِّقْهَا فَاَبَيْتُ فَاَتٰى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَلِّقْهَا.( )
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : کانت تحتي امراة وكنت احبها وكان عمر يكرهها فقال لي : طلقها فابيت فاتى عمر رضي الله عنه النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال النبي صلى الله عليه وسلم : طلقها.( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میری ایک زوجہ تھی اور میں اسے پسندکرتا تھا جبکہ (میرے والد)حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے ناپسند کرتے تھے ، چنانچہ (ایک دن) انہوں نے مجھ سے فرمایا : “ اسے طلاق دے دو ۔ “ تو میں نے انکار کردیا ، پھر (میرے والد)حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان سے یہ معاملہ عرض کیا تو سرکار دوعالم نور مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (مجھ سے) ارشاد فرمایا : “ اسے طلاق دے دو۔ “
شرح حدیث
بیٹے کی بیوی کو ناپسند کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو اس عورت کو ناپسند فرماتے تھے ا س کی کوئی (دنیوی وجہ نہیں بلکہ ) دینی وجہ ہو
گی یا انہیں اس بات کا خوف ہو گا کہ وہ عورت حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اُن کے دِین میں نقصان کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ‘‘( )
رسولُ اللہاور طلاق دینے کا حکم:حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ یہ امر وجوب کا ہے۔ اور حضرت عبداللہ ابن عمر پر اس حکم کی بنا پر طلاق دینا واجب ہوگیا۔ (صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ امر استحباب کے لیے ہے۔ یعنی بہتر یہ ہے کہ طلاق دے دو تاکہ تمہارے والد تم پر ناراض نہ ہوں۔ ‘‘( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ا س عورت کو طلاق دے دی ہو گی کیونکہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے تھے۔ ‘‘( )کیا والدین کے کہنے پر طلاق دینا لازم ہوجائے گا؟اس موقع پر ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت بے قصور ہو تو کیا پھر بھی والدین کے کہنے پر اسے طلاق دے دی جائے؟ چنانچہ صَدْرُالشَّرِیْعَہ ، بَدرُالطَّرِیْقَہ ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی لکھتے ہیں کہ علما فرماتے ہیں : “ اگر والدین حق پر ہوں جب تو طلاق دینا واجب ہی ہے اور اگر بی بی (بیوی) حق پر ہو جب بھی والدین کی رضا مندی کے لیے طلاق دینا جائز ہے۔ “ ( )
بہارِ شریعت کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب عورت کا کوئی قصور نہ ہو تو اس صورت میں اسے والدین کے کہنے پر طلاق دینا جائز ہے واجب نہیں ، لہذا طلاق کی اس جائز صورت میں اگر والدین کے حکم پرعمل نہ کیا تو گناہ گار نہ ہوگا اور حالاتِ حاضرہ کے لحاظ سے اس جائز صورت میں طلاق نہ دینا زیادہ
مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اگر اس کی زوجہ نیک و پارسا ہےاور اپنے شوہر کے حقوق ادا کرنے میں کامل ہے ، اس کی اولاد کی اچھی پرورش کرتی ہے اور دینی اور دُنیاوی خوبیوں کی جامع ہے تو ایسی عورت کو طلاق نہ دے کیونکہ طلاق دینا اگرچہ مباح ہے لیکن اس مباح کام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ناپسند فرمایا ہے ، چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ روئے زمین پر اللہتعالیٰ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو۔ “ ( )اور اسی طرح جب عورت شوہر کی فرمانبردار ہو تو قرآنِ کریم کے حکم کے مطابق اسے خود سے جدا نہ کرنا چاہیے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-(پ۵ ، النساء : ۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان : پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو۔
علامہ محمد امین ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : “ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جدائی نہ چاہو (یعنی فرمانبردار عورت کو طلاق نہ دو)۔ “ ( )
عَلَّامَہ حَافِظْ اَبُوْبَکْر مُحَمَّدْ بِنْ عَبْدُ اللہ اَلْمَعْرُوْف بِاِبْنِ الْعَربِیْ اَلْمَالکِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث پاک کی جو شرح بیان فرمائی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ “ پہلے شخص جنہوں نے اپنے بیٹے کو طلاق کا حکم دیا وہ حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، آپ کے حکم پر آپ کے فرزند حضرتِ سَیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی بیوی کو طلاق دی ، اس سے پتا چلتا ہے کہ بیٹے کے اپنے باپ کے ساتھ حسن سلوک میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس چیز کو باپ ناپسند کرے بیٹا بھی اسے ناپسند کرے خواہ وہ اس کی پسندیدہ چیز ہی کیوں نہ ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو چیز باپ پسند کرے بیٹا بھی اسے پسند کرے اگرچہ اس سے پہلے وہ ناپسند ہو ، لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب باپ دینی بصارت کا حامل ہو۔ “ ( )لیکن آج کے زمانے میں علوم شرعیہ سے ناواقفیت کے سبب والدین میں بصارت دینی اور مصلحت دینی کا فقدان پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں جب والدین بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دیتے
ہیں تو اس میں عموماً کوئی دینی مصلحت نہیں ہوتی ، بلکہ محض چھوٹی چھوٹی باتوں کو مطمع نظر بنا کر علیحدگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لہذا جب عورت قصور وار نہ ہو تو اسے محض والدین کے کہنے پر طلاق دینا مناسب نہیں۔ اور نہ ہی یہ مسئلہ کا درست حل ہے بلکہ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ زوجہ اور والدین دونوں کا مدنی ذہن بنایا جائے اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کا درس دیا جائے ، اور اس کے لیےشیخ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولاناابو بلال محمدالیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے اصلاحی بیانات و رسائل بالخصوص “ گھرامن کا گہوارہ کیسے بنے؟ ، ساس بہو میں صلح کا راز “ اور “ گھریلو ناچاقیوں کا علاج “ نہایت کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک رہنے سے بھی ہر ایک کے حقوق کی پاسداری کا ذہن ملتا ہے اور اچھے اخلاق و اوصاف پیدا ہوتے ہیں لہذا اپنے گھر کو خوشیوں کا گلشن بنانے اور گھریلو ناچاقیوں سے نجات پانے کے لیے ہر دم دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ رہیئے۔مدنی گلدستہ
بی بی’’آمنہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1)صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے نزدیک کسی کو پسند یا ناپسند کرنے کا معیار دین تھااور وہ دینی نقصان سے بچنے کو خاص طور پر ترجیح دیتے تھے۔
(2)صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنے کو ہر حال میں فوقیت دیا کرتے تھے۔
(3)اگر والدین حق پرہوں تو ان کے حکم پر طلاق دینا واجب ہے اور اگر حق پر نہ ہوں تو جائز ہے۔
(4)اگر عورت فرمانبردار ہوتو فقط والدین کے کہنے پر اسے طلاق نہیں دینی چاہیے۔
دعا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دین کو اپنی پسند اور ناپسند کا معیار بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 333