Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 330

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ یَقُوْلُ : اِنَّ آلَ بَنِيْ فُلاَنٍ لَيْسُوْا بِاَوْلِيَائِيْ ، اِنَّمَاوَلِيِّيَ اللهُ وَصَالِحُ المُؤْمِنِيْنَ وَلَكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ اَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا.( )

وعن ابي عبد الله عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم جهارا غير سر یقول : ان آل بني فلان ليسوا باوليائي ، انماوليي الله وصالح المؤمنين ولكن لهم رحم ابلها ببلالها.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاص سے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دوعالم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بغیر کسی اخفاء کے بلند آواز سے یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا : “ فلاں قبیلے والے میرے دوست نہیں بلکہ میرے دوست تو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور نیک مسلمان ہیں ، لیکن اُس قبیلے والوں سے رشتہ داری ہے جس کی تری سے میں اسے تر کروں گا۔ ‘‘ (یعنی ان سے صلہ رحمی کروں گا۔ )

شرح حدیث

فلاں قبیلےسےکون مرادہے؟محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : “ فلاں قبیلے والے میرے دوست نہیں۔ “ ظاہر یہ ہے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس قبیلے کا نام لیا تھا مگر راوی نے فتنہ اور فساد سے بچنے کے لیے اُس کا نام نہیں لیا۔ جیسا کہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’قبیلے کا ذکر اشارے اور کنائے سے کرنا راوی کی طرف سے ہے ، انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ نام ذکر کرنے سے ان کی ذات کو یا کسی اور کو فتنہ فساد پہنچے گااس لیے انہوں نے قبیلے کا نام نہیں لیا۔ ‘‘( )

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : “ بنی فلاں “ راوی کی طرف سے کنایہ ہے ، انہیں فتنے کا خوف تھا(جس کی بنا پر انہوں نے اس قبیلے کا نام نہیں لیا)بہرحال اس سےابوسفیان بن حرب کی یا حکم بن عاص کی اولاد مراد ہے مگر قوی یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے قریشی ، ہاشمی تمام قوموں کو شامل ہے۔ “ ( )شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے بھی ایسا ہی کلام فرمایا ہے۔ ( )
حضورِ اَقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دوست:رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : “ فلاں قبیلے کے لوگ میرے اولیاء یعنی دوست نہیں بلکہ میرا دوست اللہ عَزَّوَجَلَّ اور صالح مومنین ہیں۔ “ یعنی جو نیک مسلمان ہے ، وہ میرا دوست ہے اگرچہ اس کا نسب مجھ سے دور ہی کیوں نہ ہو اور جو نیک نہیں( یعنی کافر و بے ایمان ہو) وہ میرا دوست نہیں اگرچہ اس کا نسب مجھ سے قریب ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘( )بے شک حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے محبوب متقی مسلمان ہی ہیں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : )αاِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ( (پ۹ ، الانفال : ۳۴)’’ترجمۂ کنزالایمان : اس کے اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں۔ ‘‘نیز حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ قول کہ “ میرا دوست اللہتعالیٰ اور صالحین ہیں۔ “ قرآن کریم کی اِن آیات سے ماخوذ ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : )α فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-((پ۲۸ ، التحریم : ۴) ترجمۂ کنزالایمان : ’’ تو بیشكاللہان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے۔ ‘‘ اور ارشاد فرماتا ہے : )αاِنَّ وَلِیِّ ﰯ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَﳲ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ(۱۹۶)( (پ۹ ، الاعراف : ۱۹۶) ترجمۂ کنزالایمان : بے شک میراوالیاللہ ہے جس نے کتاب اتاری اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔ ( )
علامہ بدرُالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کے حوالے سے فرماتےہیں کہ : ’’سرکارِ دوعالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ میں کسی کے ساتھ رشتہ داری کی بنیاد پر دوستی نہیں رکھتا بلکہ میں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتا ہوں اور نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت رکھتا ہوں نیز ایمان اور

اعمال صالحہ کی وجہ سے مومنین کی مدد کرتا ہوں خواہ وہ میرے قرابت دار ہوں یا نہ ہوں۔ ‘‘( )
نیک دوست سےمرادکون ہیں؟اس بارے میں مختلف احادیث و روایات سے آٹھ(8) اقوال ماخوذ ہیں : (1)انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام۔ (2)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ۔ (3) نیک مؤمنین۔ (4) حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر ، حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اور حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ۔ (5)حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر و فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما ۔ (6)بالخصوص سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔ (7)بالخصوص سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔ (8)حضرتِ سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم۔ ( )
مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : میرا دوست صرف اللہ تعالیاور نیک مسلمان ہیں لیکن میں کافر رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتا رہوں گا کیونکہ صلہ رحمی کرنے میں کافر اور مسلمان برابر ہیں۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَامیمون بن مہران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ تین اشیاء میں مسلمان اور کافر برابر ہیں : (1) تونے جس سے وعدہ کیا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے پورا کر کیونکہ وعدہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ (2) تمہارا رشتہ دار کافر ہو یا مسلم اس سے صلہ رحمی کر۔ (3) مسلمان یا کافر جو بھی تیرے پاس امانت رکھے اسے صحیح صحیح ادا کر۔ ‘‘( )
تری سےترکرنےسےمراد:مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے صلہ رحمی کرنے ، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کوبَلَلٌ یعنی تری کہتے ہیں کیونکہ تری سے چیز جڑتی ہے خشکی سے ٹوٹ جاتی ہے ، یوں ہی سلوک کرنے سے دل جڑتے ہیں ، بدسلوکی سے دل ٹوٹ کر الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ ‘‘( )
کافروفاسق کو دوست نہ بناؤ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیث پاک سے معلوم ہو اکہ کافروں اور فاسقوں کو اپنا دوست نہیں بنانا چاہیے بلکہ نیک اور پرہیزگار مسلمانوں کو دوست بنانا چاہیے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-(پ۵ ، النساء : ۱۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان : کافروں کو دوست نہ بناؤ مسلمانوں کے سوا۔
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا : ’’فاجر(یعنی فاسق و گناہگار) سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مزین کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا ، تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور باعث شرم ہے۔ ‘‘( )
کافر رشتہ داروں سے حضورعَلَیْہِ السَّلَامْکی صلہ رحمی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کفار مکہ میں جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رشتہ دار تھے ، ان میں سے چند ایک کے سوا سب نے آپ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیے ، مختلف طریقوں سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تکلیف پہنچائی ، ہر سطح پر آپ کی مخالفت کی لیکن بدلے میں آپ نے ہمیشہ اُن پر رحم کیا اور جب بھی اُن پر کوئی مشکل وقت آیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی مدد و اِعانت فرمائی اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہوئے حسن سلوک کا مظاہرہ فرمایا۔ چنانچہ جب کفار قریش پر قحط کی مصیبت آئی اور ا س میں وہ مردار اور ہڈیاں تک کھانے پر مجبور ہو گئے تو حضرت سَیِّدُنَا ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ’’بے شک آپ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور آپ کی قوم (قحط کی وجہ سے) ہلاک ہو رہی ہے ، آپ ان کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا فرما دیں۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے لیے دعا فرما دی جس کی برکت سے انہیں قحط سے نجات مل گئی۔ ( )
اس کی دوسری مثال فتح مکہ کا موقع ہے کہ جب شہنشاہ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے(فتح مکہ کے موقع

پر جمع ہونے والے کفار کے) اس ہزاروں کے مجمع میں ایک گہری نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ سرجھکائے ، نگاہیں نیچی کئے ہوئے لرزاں و ترساں اَشرافِ قریش کھڑے ہوئے ہیں۔ ان ظالموں اور جفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے راستوں میں کانٹے بچھائے تھے۔ جو بارہا آپ پر پتھروں کی بارش کرچکے تھے۔ جنہوں نے بار بار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر قاتلانہ حملے کیے تھے۔ آج یہ سب مجرم بنے ہوئے کھڑے کانپ رہے تھے اور اپنے دلوں میں یہ سوچ رہے تھے کہ شاید آج ہماری لاشوں کو کتوں سے نُچوا کر ہماری بوٹیاں چِیلوں اور کوؤں کو کھلا دی جائیں گی اور انصارو مہاجرین کی غضب ناک فوجیں ہمارے بچے بچے کو خاک و خون میں ملاکر ہماری نسلوں کو نیست و نابود کر ڈالیں گی لیکن اسی مایوسی اور ناامیدی کی خطرناک فضا میں ایک دم شہنشاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نگاہ رحمت ان پاپیوں کی طرف متوجہ ہوئی۔ اور ان مجرموں سے آپ نے پوچھا کہ : ’’بولو! تم کو کچھ معلوم ہے ؟کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟‘‘ اس دہشت انگیز اور خوفناک سوال سے مجرمین حواس باختہ ہو کر کانپ اُٹھے لیکن جبین رحمت کے پیغمبرانہ تیور کو دیکھ کر اُمید و بیم کے محشر میں لرزتے ہوئے سب یک زبان ہوکر بولے کہ : ’’ اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ
آپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں۔ ‘‘سب کی للچائی ہوئی نظریں جمال نبوت کا منہ تک رہی تھیں ۔ اور سب کے کان شہنشاہِ نبوت کا فیصلہ کن جواب سننے کے منتظر تھے کہ اک دم دفعۃً فاتح مکہ نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ : ’’لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُآج تم پر کوئی الزام نہیں ، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ ‘‘یہ فرمانِ رسالت سن کر سب مجرموں کی آنکھیں فرطِ ندامت سے اشکبار ہوگئیں اور ان کے دلوں کی گہرائیوں سے جذباتِ شکریہ کے آثار آنسوؤں کی دھار بن کر ان کے رخسار پر مچلنے لگے اور کفار کی زبانوں پر لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے نعروں سے حرمِ کعبہ کے درودیوار پر ہر طرف انوار کی بارش ہونے لگی۔ اَللہُ اَکْبَرُ!اے اقوامِ عالم کی تاریخی داستانو!بتاؤ ، کیا دنیا کے کسی فاتح کی کتابِ زندگی میں کوئی ایسا حسین و زریں ورق ہے؟ یہ نبی جمال و جلال کا وہ بے مثال شاہکار ہے کہ شاہانِ عالم کے لیے اُس کا تصور بھی محال ہے۔ ( )

ترے خُلْق کو حق نے عظیم کہا ، تری خِلْق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا ترے خالق حُسن واَدا کی قسم
مدنی گلدستہ
’’رحمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)جو بھی اسلام سے یا حضورپر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طریقے سے ہٹ جائے وہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دوست نہیں۔
(2)رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا چاہیے کیونکہ اس سےدل جڑتے ہیں اور بدسلوکی سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے دل ٹوٹ کر الگ الگ ہوجاتے ہیں۔
(3)کافر اور فاسق و فاجر کے ساتھ دوستی ہر گز نہیں کرنی چاہیے بلکہ نیک اور پرہیزگار مسلمانوں سے دوستی کرنی چاہیے۔
(4)حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کافر رشتہ داروں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کی اعلیٰ مثالیں قائم فرمائی ہیں ، ہمیں بھی چاہیے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسوۂ حسنہ پر عمل کریں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نیک اور پرہیزگار لوگوں کو اپنا دوست بنانے اورکفار و فساق کی دوستی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 330