Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 314

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ اَيْضًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُوْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ. ( )

وعنه ايضا رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه ، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليصل رحمه ، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے کہ حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ

مہمان کی تعظیم کرے ، جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ دار سے صلہ رحمی کرے ، جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اورقیامت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ ‘‘

شرح حدیث

مہمان کی خاطرتواضع کرنا:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ ایمان مسلمان سے تین چیزوں کا تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان : (1) مہمان کی عزت کرے (2) رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے (3) اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔ جو شخص ان تین باتوں پر عمل نہیں کرتا گویا اس کا ایمان کامل نہیں۔محرم اور ذی رحم میں فرق:حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے ۔ ‘‘یعنی اپنے ذی رحم قرابتداروں کے حقوق ادا کرے۔ ذی رحم وہ عزیز ہے جس کا رشتہ ہم سے نسبی ہو۔ محرم وہ ہے جس سے نکا ح کرنا حرام ہو ، لہذا داماد محرم ہے ذی رحم نہیں اور چچا زاد بھائی ذی رحم ہے محرم نہیں اور سگا بھائی بھتیجا ذی رحم بھی ہے اور محرم بھی ، یہاں ذی رحم عزیز مراد ہیں خواہ محرم ہوں یا نہ ہوں اگرچہ ساس ، سسر ، بیوی کے حقوق بھی ادا کرنا ضروری ہے مگر اِن کو صلہ رحمی نہیں کہتے۔ ( )
قَاضِی عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’فی الجملہ صلہ رحمی کرنا واجب ہے اور قطع رحمی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور کثیر احادیث اس کے کبیرہ ہونے پر شاہد ہیں۔ البتہ صلہ رحمی کے درجات ہیں جو ایک دوسرے سے ادنیٰ و اعلیٰ ہیں۔ صلہ رحمی کا سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ دوری ختم کی جائے اور تعلق قائم کیا جائے خواہ کلام و سلام کے ذریعے ہو۔ اور قدرت و حاجت کے مختلف ہونے کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے بھی مختلف درجات ہیں اور ان درجات میں سے کچھ واجب ہیں اور کچھ مستحب۔ اگر کسی شخص نے رشتہ داروں سے تھوڑا بہت تعلق رکھا اور کامل طورپر صلہ رحمی نہ کی تو وہ قطع تعلق کرنے والا نہیں اور اگر کسی شخص نے قدرت ہونے کے باوجود رشتہ داروں سے تعلقات رکھنے میں کمی کی تو وہ صلہ رحمی کرنے والوں میں شمار نہ ہوگا۔ ‘‘( )
رشتہ داری توڑنے والا سزا سے بے خوف ہے:جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان عالیشان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رشتہ داری توڑنے والا گویا اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا کیونکہ اسے رشتہ داری توڑنے پر ملنے والی شدید سزا کا خوف نہیں۔‘‘ ( )(جبھی تو وہ اسے توڑ ررہا ہے۔ )عمداًقطع رحمی کو حلال اورجائز سمجھنا کفر ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عمداً یعنی جان بوجھ کر قطع رحمی کو جائز سمجھنا کفر ہے۔ شیخ طریقت ، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ صفحہ۳۸۸ پر فرماتے ہیں : ’’کسی بھی صغیرہ یا کبیرہ گناہوں کو حلال سمجھنا کفر ہے جبکہ اس کا گناہ ہونا دلیلِ قطعی سے ثابت ہو ، اسی طرح گناہ کو ہلکا جاننا بھی کفر ہے۔ ‘‘ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ‘‘( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی اس حدیث پاک کے تحت علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کے حوالے سےفرماتے ہیں : ’’یاتو اسے اس شخص پر محمول کیا جائے گا جو بغیر کسی سبب اور بغیر کسی شبہے اور قطع رحمی کے حرام ہونے کے علم کے باوجود اسے حلال اور جائز سمجھتا ہو۔ (یقینا ً ایسا شخص کافر ہے اورکافر ہمیشہ جہنم میں رہے گا جنت میں نہیں جائے گا۔ اور اگر حدیث میں مؤمن قاطع رحم کے داخلے کی ممانعت ہے تو) مراد یہ ہے کہ (وہ مؤمن) پہلے جانے والوں کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا (بعد میں جائے گا) ، یا یہ مرا دہے کہ عذاب سے نجات پانے والوں کے ساتھ نہیں جائے گا۔ ‘‘( ) (بلکہ سزا پانے کے بعد جنت میں جائے گا۔ )’’تم میرے بھائی نہیں ہو‘‘کہنا کیسا؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قطع رحمی کی وبا ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوچکی ہے ، چھوٹی چھوٹی

باتوں پر بہن بھائی ایک دوسرے سے ، ماں باپ اپنی اولاد سے اور لوگ اپنے رشتہ داروں سے بلاوجہِ شرعی قطع تعلقی کرلیتے ہیں: (1)’’آج کے بعد تم سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘(2) ’’آج کے بعد تمہارا اور میرا کوئی رشتہ نہیں۔ ‘‘ (3) ’’آج سے تمہارا اور میرا رشتہ ختم۔ ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے جملے بولنا ہمارے معاشرے میں بالکل عام ہوچکا ہے ، اس بات کی ذرہ سی بھی پرواہ نہیں کی جاتی کہ یہ کتنے سخت جملے ہیں ، ان جملوں پر ہماری پکڑ بھی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ ، ج۱۳ ، صفحہ۶۴۷پر ہے : ’’اگر زید اپنے حقیقی بھائی بکرکو کسی سازش سے ایک مجلس میں بآواز کلمہ طیبہ پڑھ کر کہے کہ تم میرے بھائی نہیں ہو ، ایسی صورت میں زید پربموجبِ شرع شریف کچھ کفارہ لازم ہے اگر ہے تو کیا وکس قدر؟‘‘جواب : ’’اگر اس کے بھائی نے اس کے ساتھ کوئی معاملہ خلافِ اخوت کیا جو بھائی بھائی سے نہیں کرتا تو اس پر اس کہنے میں الزام نہیں کہ اس نفی (انکار)سے نفیِ حقیقت مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی ثمرہ(ہے یعنی بھائی جیسا سلوک نہیں کیا) اور اگر ایسا نہیں بلکہ بلاوجہ شرعی یوں کہاتوتین کبیروں کا مرتکب ہوا : (1) کذبِ صریح (یعنی کھلا جھوٹ)(2)وقطع رحم (یعنی رشتہ کاٹنا) وایذائے مسلم(یعنی مسلمان کو تکلیف دینا) ، اس پر توبہ فرض ہے اور بھائی سے معافی مانگنی لازم۔ ‘‘
صلہ رحمی کرتے رہنا چاہیے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رشتہ داروں سے ہمیشہ اپنی استطاعت کے مطابق صلہ رحمی کرتے رہنا چاہیے کہ اس سے نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور رِزق میں وُسعت ہوتی ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ جس شخص میں یہ پانچ عادتیں ہوں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلند و بالا پہاڑوں جیسی نیکیاں عطا فرماتا اور اس کے رزق میں وسعت پیدا کردیتا ہے : (1) ہمیشہ صدقہ کرتے رہنا خواہ کم ہو یا زیادہ۔ (2)صلہ رحمی کرنا خواہ کم ہو یا زیادہ۔ (3) ہمیشہ جہاد کرتے رہنا۔ (4)پانی کے اِسراف کے بغیر ہمیشہ باوضو رہنا۔ (5)ہمیشہ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔ ‘‘( )اچھی بات کہے یا خاموش رہے:حدیث پاک میں کامل مؤمن کی تیسری خصلت یہ بیان کی گئی کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے ،

اچھی بات کرنے سے مراد ایسا کلام کرنا ہے جس پر ثواب دیا جائے خواہ وہ بات واجب ہو یا فرض یا سنت یا مستحب اور بُری بات سے مراد ایسا کلام ہے جو حرام یا مکروہ ہو۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ مباح بات بھی زیادہ نہ کرے تاکہ ناجائز بات میں نہ پھنس جائے۔ تجربہ ہے کہ زیادہ بولنے سے اکثر ناجائز باتیں منہ سے نکل جاتی ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ جو خاموش رہا وہ سلامت رہا ، جو سلامت رہا وہ نجات پا گیا۔ پچانوے 95 فیصد گناہ زبان سے ہی ہوتے ہیں اور پانچ 5فیصد دوسرے اعضاء سے۔ خیال رہے کہ بات ہی ایمان ہے ، بات ہی کفر ، بات ہی مقبول ہے ، بات ہی مردود۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)مہمان کی خاطر تواضع کرنا، رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا اور اچھی بات کرنا یاپھر خاموش رہنا کامل ایمان کی علامت ہے۔
(2)رشتہ داری توڑنا گویا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یوم آخرت پر کامل ایمان نہ رکھنا ہے ۔
(3)رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا واجب اور قطع رحمی کرنا کبیرہ گناہ ہے نیز شرعی وجوہات کے بغیررشتہ داری توڑنا اس بات کی علامت ہے کہ توڑنے والا قطع رحمی کی سزا سے بے خوف ہے۔
(4)جان بوجھ کر قطع رحمی کو جائز اور حلال سمجھنا کفر ہے، اور کافر کبھی بھی جنت میں نہیں جائے گا، البتہ اگر کوئی مؤمن قاطع رحم ہو تو وہ بالآخر جنت میں جائے گا۔
(5)ہمیشہ ایسی بات کرنی چاہیے کہ جو ثواب کا باعث ہو اور ایسی گفتگو سے اجتناب کرناچاہیے کہ جو گناہ کا سبب بنے۔ نیز مباح کلام کرنے سے بھی حتی الامکان گریز کرنا مناسب ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مہمان نوازی کرنے ، صلہ رحمی کرنے اور ہمیشہ اچھی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں رشتہ داری توڑنے اور بُری بات کہنے سے محفوظ و مامون فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 314