Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 313

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَجْزِيْ وَلَدٌ وَالِدًا اِلَّااَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوْكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ.( )

وعن ابي هريرة رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يجزي ولد والدا الاان يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کرسکتا مگر اس صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو کسی کا غلام پائے تو اسے خریدکر آزاد کردے۔ ‘‘

شرح حدیث

والد کا حق ادانہیں ہوسکتا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پہلے زمانے میں انسانوں کی خریدو فروخت کا سلسلہ ہوا کرتا تھا اور جنگ

میں پکڑے جانے والے قیدیوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا اور پھر اُن سے مختلف کام لیے جاتے تھے یا انہیں فروخت کردیا جاتا تھا اور پھر خریدار ان غلاموں سے اپنی مرضی کا کام لیتا یا انہیں آزاد کردیتا۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے باپ یا قریبی رشتہ داروں میں سے کسی کو خریدے گا تو جمہور کے نزدیک وہ خریدتے ہی آزاد ہو جائیں گے ، انہیں آزاد کرنے کی حاجت نہیں۔ اس حدیث پاک میں باپ کے عظیم حق کو بیان کرنا مقصود ہےیہ مراد نہیں کہ اگر کوئی اپنے غلام باپ کو خرید کر اسے آزاد کردے تو اس نے اپنے باپ کا حق ادا کردیا۔ چنانچہ علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’یعنی بیٹا اپنے باپ کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتااور جمہور کے نزدیک باپ ملک میں آتے ہی آزاد ہوجائے گا۔ اس حدیث میں باپ کے حق کو ایک محال یعنی ناممکن بات کے ساتھ معلق کرکے مبالغے کے لیےبیان کیا گیا ہے۔ معنی یہ ہے کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کرسکتاسوائے اس کے کہ وہ اپنے غلام باپ کو خرید کر آزاد کردے اور ایسا کرنا (یعنی غلام باپ کو خرید کر آزاد کرنا)محال (ناممکن )ہے (کیونکہ غلام باپ ملک میں آتے ہی خود بخود آزاد ہوجائے گا )لہذا باپ کا حق ادا کرنا بھی محال(ناممکن)ہے۔ ‘‘( )مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مطلب یہ ہے کہ بیٹا اپنے باپ کی کتنی ہی خدمت کرے مگر اس کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ ‘‘( )
والدین کے دس(10) حقوق:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اولاد پر ماں باپ کے کئی حقوق لازم ہیں۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا فقیہ ابو اللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ والدین کے اولاد پر دس 10حقوق ہیں : (1) جب انہیں کھانے کی ضرورت ہوتو انہیں کھلائے۔ (2) کپڑوں کی ضرورت ہوتو حسب استطاعت کپڑے پہنائے۔ (3) انہیں خدمت کی ضرورت ہوتو خدمت کرے۔ (4) وہ جب بلائیں تو جواب دے اور حاضر ہو جائے۔ (5) گناہ اور غیبت کے علاوہ ہر کام میں ان کی فرمانبرداری کرے۔ (6) ان سے نرم لہجے میں بات کرے ، سختی سے کلام نہ کرے۔ (7) انہیں نام سے نہ پکارے۔ (8) ان کے پیچھے چلے۔ (9) جو چیز اپنے لیے پسند کرے ان کے

لیے بھی وہی چیز پسند کرے اور جو اپنے لیے ناپسند کرے اُسے ان کے لیے بھی ناپسند کرے۔ (10) جب بھی اپنے لیے دعا مانگے ان کے لیے بھی دعائے مغفرت ضرور کرے جیساکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کے متعلق بتایا کہ وہ دعا مانگتے ہیں : )
αرَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ( (پ۲۹ ، نوح : ۲۸) ترجمۂ کنزالایمان : اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو۔( )مدنی گلدستہ
’’باپ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)والد کے احسانات کا بدلہ دینا اور ان کے حقوق کو کما حقہ ادا کرنا نتہائی مشکل ہے۔
(2)اگر بیٹا اپنے باپ کو کسی کا غلام پائے اور وہ اسے مالک سے خرید لے توباپ اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔
(3)بیٹا اپنے باپ کا مالک نہیں بن سکتا۔
دعا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے والد کے احسانات یاد رکھنے اور ان کی بھرپور خدمت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 313