- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حدیث نمبر 318
والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 318
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً قَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ لِيْ قَرَابَةً اَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُوْنِيْ وَاُحْسِنُ اِلَيْهِمْ وَيُسِيْئُوْنَ اِلَيَّ وَاَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُوْنَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَاَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللهِ ظَهِيْرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلٰى ذٰلِكَ.( )
وعنه رضي الله عنه ان رجلا قال : يا رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان لي قرابة اصلهم ويقطعوني واحسن اليهم ويسيئون الي واحلم عنهم ويجهلون علي ، فقال : لئن كنت كما قلت فكانما تسفهم المل ولا يزال معك من الله ظهير عليهم ما دمت على ذلك.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میرے کچھ قریبی رشتہ دار ہیں ، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع تعلق کرتے ہیں ، میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے بُرا سلوک کرتے ہیں ، میں ان کے ساتھ بُردباری سے پیش آتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جاہلانہ برتاؤ کرتے ہیں۔ ‘‘ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ اگر ایسا ہی ہے جیسا تونے کہا توتم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو اور جب تک تو اس حالت پر رہے گا تب تکاللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تیرے لیے ان کے خلاف ایک مددگار رہے گا۔ “
شرح حدیث
مسئلہ دریافت کرنے کے لیے دوسروں کا ذکر:مذکورہ حدیث پاک میں اس شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہےکہ جو رشتہ داروں کے قطع رحمی کرنے کے باوجود ان سے صلہ رحمی کرے۔ حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے ایک صاحب نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں اپنے رشتہ داروں کی شکایت کرتے ہوئے عرض کی : ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ہر طرح سے بھلائی کرتا ہوں ، ان کی جفا کا جواب اپنی وفا سے دیتا ہوں لیکن وہ پھر بھی اپنی رَوِش پر قائم ہیں ، اب آپ ہی ارشاد فرمائیں میں کیا کروں؟ ‘‘یاد رہے کہ یہ کلام
دوسروں کی بطور غیبت برائی کرنا یا اپنی اچھائی بیان کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ہے۔ ‘‘( )گرم راکھ سے منہ بھرنےکے معنی:سرکارِ دوعالَم نورِ مجسم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شخص کی شکایت سننے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا تم بیان کررہے ہو۔ یعنی قرابت داروں کی تمہارے ساتھ بد سلوکی کے باوجود تم ان سے حسن سلوک ہی سے پیش آتے ہو تو تم اُن کے منہ میں گرم راکھ بھر رہے ہو۔ اِس جملے کےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی نے مختلف معنی بیان کیے ہیں ان میں سے تین یہ ہیں : ’’(1)تیری بھلائی کا بدلہ احسان فراموشی سے دینے کے باوجود بھی اگر وہ تیرا مال لیں تو یہ ان پر حرام ہے اور ان کے پیٹ میں آگ کی مانند ہے۔ (2) تم ان کی برائی کا بدلہ بھلائی سے دینے کی وجہ سے انہیں خود ان کی نظر میں گرا دیتے ہو اور انہیں ذلیل و رسوا کرتے ہو جیساکہ جب کوئی آدمی گرم راکھ منہ میں ڈالے تو اسے خود پر شرمندگی ہوتی ہے۔ (3)تمہارا ان پر احسان کرنا ان کا منہ کالا کرتا ہے جیسے گرم راکھ چہرے کو سیاہ کردیتی ہے۔ ‘‘( )مددِالٰہی ملنے کاذریعہ:رحمت عالم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’تمہارا قطع رحمی کرنے والے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا ان کے منہ میں گرم راکھ بھرنے کی مثل ہے اور جب تک تم اپنے اس حسن سلوک پر قائم رہوگے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تیرے لیے ان کے خلاف ایک مددگار رہے گا۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی جب تک تیرا یہ حلم اور برائی کی عوض بھلائی ہے ، تب تک اللہتعالیٰ کی طرف سے تجھے مدد پہنچتی رہے گی یا تجھ پر رب کی طرف سے فرشتہ مقرر رہے گا جو تجھے ان کی شر سے بچائے گا اور تیرے عزت و مال میں برکت دے گا۔ ‘‘( )
صلہ رحمی اور مکافاۃ میں فرق:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک سے ہمیں یہ مدنی ذہن ملتا ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ ہر حال میں بھلائی اور صلہ رحمی کرنی چاہیے اگرچہ ان کی طرف سے بدسلوکی اور قطع رحمی کی جائے کیونکہ صلہ رحمی اسی کانام نہیں کہ جب وہ حسن سلوک کریں تو ہم بھی ان کے ساتھ بھلائی کریں بلکہ یہ تو مکافاۃ یعنی اَدْلَا بَدْلَا ہے کہ اس نے تمہارے پاس کوئی چیز بھیجی تو تم نے بھی اس کے پاس بھیج دی ، وہ تمہارے یہاں آیا تو تم اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتاً صلہ رحمی یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو ، وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے ، بے اعتنائی (لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اس کےساتھ قرابت داری کے حقوق کی رعایت کرتے رہو۔ ( ) اور حدیث پاک میں بھی قطع رحمی کرنے والے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا ابی بن کَعْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ جسے پسند ہوکہ اس کے لیے (جنت میں)محل بنایاجائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں تواسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے اسے معاف کردے ، جو اسے محرو م کرے اسے عطا کرے اور جواس سے قطع تعلقی کرے اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ “ ( )صلہ رحمی کے مختلف درجات:علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس میں اختلاف نہیں کہ صلہ رحمی فی الجملہ واجب ہے اور اس کو قطع کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ صلہ رحمی کے کچھ درجات ہیں ، کم ازکم درجہ یہ ہے کہ ناراضگی ترک کردے اور سلام وکلام سے صلہ (یعنی اچھاسلوک) کرے ، قدرت اور حاجت کے اختلاف سے صلہ (یعنی سلوک) کی مختلف حالتیں ہیں ، بعض حال میں صلہ رحمی واجب ہے اور بعض صورت میں مستحب ہے۔ اگر بعض حالت میں صلہ کیا اور پوری طرح نہ کیا تو اس کو قطع رحمی نہیں کہتے۔‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’جبلِ نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول(1)اچھے سلوک کے جواب میں بُرا سلوک کرنے والے رشتہ دار قابل ملامت ہیں اور انہیں اس کے وبال کا سامنا ہو گا۔
(2)رشتہ داروں کی بُرائی کے بدلے ان سے اچھائی کرنا انہیں خود ان کی نظر میں گرا دیتا ہے۔
(3)رشتہ داروں کے بُرے سلوک کے باوجود ان سے اچھا سلوک کرنے کی صورت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد نصیب ہوتی ہے یا محافظ فرشتے کا ساتھ ملتا ہے۔
(4)صلہ رحمی یہ نہیں کہ جو اچھا سلوک کرے صرف اسی کے ساتھ بھلائی کی جائے بلکہ صلہ رحمی تو یہ ہے کہ جو قطع تعلق کرے اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا جائے۔
(5)بُرا سلوک کرنے والے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، اُن کا جیسا عمل ہو ویسا ان کو صلہ ملے گا اور اِس کا جیسا عمل ہو گا ویسا اِس کو صلہ ملے گا۔
(6)قاطعِ رحم رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے والے کے لیے جنتی محل کی بشارت ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں رشتہ داروں کے صلہ رحمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی بُرائی کے بدلے بھی ان سے اچھائی کرنے سعادت نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 318