Main Icon

والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 327

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ سُفْيَانَ صَخْرِ بْنِِ حَرْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فيِ ْحَدِيْثِهِ الطَّوِيْلِ فِيْ قِصَّةِ هِرَقْلَ اَنَّ هِرَقْلَ قَالَ لِاَبِيْ سُفْيَانَ : فَمَاذَا يَاْمُرُكُمْ بِهٖ؟ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : یَقُوْلُ : اُعْبُدُوْا اللهَ وَحْدَهُ ، وَلَاتُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا ، وَاتْرُكُوْا مَا يَقُوْلُ آبَاؤُكُمْ ، وَيَاْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ ، وَالصِّدْقِ ، وَالْعَفَافِ ، وَالصِّلَةِ.( )

وعن ابي سفيان صخر بن حرب رضي الله عنه في حديثه الطويل في قصة هرقل ان هرقل قال لابي سفيان : فماذا يامركم به؟ يعني النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : قلت : یقول : اعبدوا الله وحده ، ولاتشركوا به شيئا ، واتركوا ما يقول آباؤكم ، ويامرنا بالصلاة ، والصدق ، والعفاف ، والصلة.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سفیان صخر بن حرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ واقعۂ ہرقل کی ایک طویل حدیث پاک روایت کرتے ہیں کہ ہرقل نے حضرت ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا : ’’وہ یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟‘‘حضرت سَیِّدُنَا ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

فرماتے ہیں : ’’میں نے کہا : وہ فرماتے ہیں کہ ایک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہارے آباؤ اجداد جو کہتے تھے اسے چھوڑ دو اور وہ ہمیں نماز ادا کرنے ، سچ بولنے ، پاک دامن رہنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔‘‘

شرح حدیث

نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعلیمات:مذکورہ حدیث پاک ایک طویل حدیث مبارکہ کا کچھ حصہ ہے ، اس کا پس منظر یہ ہے کہ روم کے بادشاہ ہرقل نے مکہ سے آئے ہوئے تجارتی قافلے والوں کو اپنے دربار میں بلایا تاکہ ان سے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حالات دریافت کرے ، اس قافلے میں حضرت سَیِّدُنَا ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی شریک تھے جو کہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ یہ چونکہ دیگر قافلے والوں کے مقابلے میں حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زیادہ قریبی تھے اس لیے ہرقل بادشاہ نے ان سے ہی سوال و جواب کیے ، پہلے اس نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حالات معلوم کیے اور ا س کے بعد حضرت سَیِّدُنَا ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے آپ کی تعلیمات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے وہ باتیں بیان کیں جو اوپر حدیث پاک میں مذکور ہیں اور ان کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سارے انسانوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ ایمان لاکر عبادات کرو اوراپنے اخلاق درست کرلو۔صلہ رحمی کے فضائل:مذکوہ حدیث پاک کے آخر میں صلہ رحمی کرنے کا بھی حکم ارشاد فرمایا۔ صلہ رحمی کے فضائل پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : (1) “ جواپنی عمرمیں اضافہ ، رزق میں کشادگی اور بُری موت سے تحفظ چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔ ‘‘( )(2) “ نیکی اور صلہ رحمی کرنا قیامت کے دن بُرے حساب سے بچاتے ہیں۔ “ ( )(3) “ اے مسلمانوں کے گروہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور آپس ميں صلہ رحمی کرو کيونکہ صلہ رحمی سے زيادہ جلدکسی چیزکا ثواب نہيں ملتا ، ظلم سے بچتے رہو کيونکہ ظلم

سے زیادہ جلد کسی گناہ کی سزا نہيں ملتی اور والدين کی نافرمانی سے بچتے رہو۔ جنت کی خوشبو ایک ہزار (1000)سال کی مسافت سے سونگھی جا سکتی ہے مگر خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! والدين کا نافرمان ، قطع رحمی کرنے والا ، بوڑھا زانی اور تکبر کی وجہ سے تہبندلٹکانے والا جنت کی خوشبونہ پاسکے گا ، بے شک کبريائی تمام جہانوں کے پروردگار اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے ہے۔ “ ( )
نوٹ : مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح کے لیے فیضان ریاض الصالحین ، جلد اول ، حدیث نمبر 55 ملاحظہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ
امام’’حسین‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایمان،عبادات اور اخلاقیات سبھی کی تعلیم دیتے ہیں۔
(2)صلہ رحمی کرنے کی برکت سے آدمی بُری موت سے محفوظ رہتا ہے۔
(3)نیکی اور صلہ رحمی قیامت کے دن بُرے حساب سے بچائیں گے۔
(4)نیک اعمال میں صلہ رحمی سے زیادہ جلد کسی چیز کا ثواب نہیں ملتا اور گناہوں میں ظلم سے زیادہ جلد کسی گناہ کی سزا نہیں ملتی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں صلہ رحمی کرنے اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 327