Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 588

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم يَقُوْلُ:اِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَاِنَّ الْحَرامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَاَ لِدِ يْنِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الحِمٰى يُوشِكُ اَنْ يَرْتَعَ فِيْهِ اَلَا وَ اِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى اَلَا وَ اِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ اَلَا وَ اِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَ اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ اَلَا وَهِيَ القَلْبُ.

عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال:سمعت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم يقول:ان الحلال بين وان الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرا لد ينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك ان يرتع فيه الا و ان لكل ملك حمى الا و ان حمى الله محارمه الا و ان في الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد كله و اذا فسدت فسد الجسد كله الا وهي القلب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:بے شک حلال ظاہر ہے اورحرام بھی ظاہرہےاوراُن کے درمیا ن مشکوک چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔تو جو ان مشکوک چیزوں سے بچا اس نے اپنا دِین اور اپنی عزت محفوظ کرلی اور جوان مشکوک چیزوں میں پڑ ا وہ حرام میں پڑ گیا ۔جیسے وہ چرواہا جو ممنوعہ چراہ گا ہ کے قریب بکریاں چَراتاہو توقریب ہے کہ وہ جانورا س چراہ گاہ میں بھی چرنے لگیں۔ خبردار! ہر بادشا ہ کی چراہ گاہ ہوتی ہے اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی مقرر کردہ چراہ گاہ اس کی حرام کردہ اَشیاء ہیں۔خبرادر!جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑاہے جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سا را جسم خراب ہو جاتاہے۔ سنو! وہ ٹکڑا دل ہے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں مشکوک اَشیاءسےبچنےکی ترغیب دلائی گئی ہے۔کیونکہ یہ اشیاءحرام کی طرف لےجا سکتی ہیں ۔ جومشکوک اشیاء سے پر ہیز کرتا ہے وہ حرام سے بچا رہتاہے۔ حدیثِ مذکور میں طبیبِ ربانی نے دل سےمتعلق ایک بہترین اصول بیان فرمایا کہ جسم کی سلامتی دل کی سلامتی پر موقوف ہے ۔جس کادل بیماریوں سے محفوظ ہو اس کا پورا جسم بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔شُبہات سے بچے:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیحدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں:یعنی شبہات سے بچنے وا لااپنے دِین کی حفاظت چاہتا ہے اوراپنی عزت بھی محفوظ کرلیتا ہے کیونکہ اگر وہ مُشتبہ چیزیں ترک نہ کرے گا توبے وقوفوں کواس کی غیبت اوراِلزام تراشی کا موقع ملے گا۔اسی لئے تومسلمانوں کو تہمت والی جگہ کھڑے ہونےسے منع کیا گیا ہے۔فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے :”جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاور آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ تہمت کی جگہ نہ کھڑا ہو ۔“حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے:” جس چیز کے انکار کی طرف دل سبقت کریں اس سے بچو اگرچہ تمہارے پاس کوئی عذر ہو کیونکہ بہت سے سننے والے ایسے ہوتے ہیں جنہیں تم عذر سنانے کی طاقت نہیں رکھتے۔“(جو شبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑ گیا )اس فرمانِ عالی میں دو اِحتما ل ہیں:یا تویہ کہ شبہات میں پڑنے والا حرام میں پڑ جاتا ہے اور اسے خبربھی نہیں ہوتی یاپھریہ مراد ہے کہ شبہات میں پڑنے والاحرام کے قریب پہنچ جاتاہے کیونکہ نفس جب مخالفت میں پڑ جائے تو بَتدریج ایک بُرائی سے دوسری برائی کی طرف بڑھتاہے جو پہلے سے بڑی ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے :وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ(۱)(پ۴،آل عمران:۱۱۲)ترجمۂ کنزالایمان:اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے یہ اس لئے کہ نافرماں برداراورسرکش تھے۔
یعنی ان کی نافرمانی انہیں انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ ا لسَّلَامکے قتل جیسے بھیانک جرم کی طرف لےگئی۔ حدیثِ پاک میں ہے:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّچورپرلعنت فرمائے کہ وہ انڈا چوری کرتاہے اوراس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتاہے ، وہ رسی چوری کرتاہے اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ۔“یعنی انڈے اور رسی کی چوری اسے اس چوری کی طرف لے گئی جس کی سزا میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے ۔(دل ٹھیک ہوجائے تو ساراجسم ٹھیک ہوجاتاہے )یعنی جب دل ڈرتا ہے تو سب اعضاءڈ رتےہیں ،وہ سرکشی کرتا ہے تو اعضاء سرکشی کرتے ہیں، وہ خراب ہوجائے تو اعضاء خراب ہوجاتے ہیں ۔جسمِ انسانی میں دل کی حیثیت حاکم کی سی ہے،اگر حاکم ٹھیک ہوجائے تو رعایاٹھیک ہوجاتی ہے،حاکم بگڑ جائے تو رعایا بگڑ جاتی ہے ۔ دل کی سلامتی واصلاح امراضِ باطنیہ سے بچنے میں ہے۔ حسد،بخل ،تکبر ، مذاق مَسخری ،ریاکاری، مکر و فریب،حرص ، تقدیر پر راضی نہ رہنا وغیرہ یہ سب باطنی امراض ہیں۔دل کی اصلاح کے لئے ان سب اور دیگر باطنی امراض سے بچنا ضروری ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ان امراض سے سلامتی عطا فرمائے اورہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے جنہیں قلبِ سلیم کی دولتِ بے بہا مُیَسَّر ہے ۔اَصلِ اُصولِ دِین:مرآۃ المناجیح میں ہے :یہ حدیث اصل اصول دین ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزیں تین قسم کی ہیں:*بالکل حلال جن کی حِلَّت منصوص ہے۔*بالکل حرام جن کی حُرمت مَنصوص ہے،جیسے محرمات و فَوَاحِش۔ اور*مُشتبہات جن میں حلت و حرمت کے دلائل مُتعارض ہیں یا حلت و حرمت کی دلیل نہیں۔ اصلِ حلال پر عمل کرو،اصلِ حرام سے ضروربچواورمُشتبہات سے احتیاطًا پرہیزکرو کہ شاید حرام ہوں۔ مگر جن میں حلت کی اصل موجود ہو وہ مشتبہ نہیں،انہیں حرام سمجھنا محض باطل وہم ہے۔ جوشخص مشتبہات سے پرہیز نہ کرے گا وہ آخر کار محرمات میں بھی پھنس جائے گااس لئے مشتبہات سے بچو۔ شاہی چراگاہ میں جانورچَرانا سخت جرم ہوتا ہے ۔ہوشیار چرواہے شاہی چراگاہ سے دور ہی رہتے ہیں تاکہ کوئی جانوربے قابو ہوکر اس چراگاہ میں نہ گھس جائےاور ہم مجرم ہوجائیں،مگر بے احتیاط چرواہے وہاں قریب پہنچ جاتے ہیں اورآخرکاران کا جانور وہاں گھس جاتا ہے اور یہ مجرم ہوکرپکڑ ے جاتے ہیں۔ایسے ہی مُشتبہات میں واقع ہونے والا کبھی حرام میں بھی گرفتار ہوجائے گا۔ تم چرواہے ہو،نفس بے سمجھ جانور،محرماتِ شرعیہ شاہی چراگاہ ہے،مشتبہات اس چراگاہ کے مُتَّصِل زمین۔(دل کی اصلاح ہوجائے تو ساراجسم ٹھیک ہوجاتاہے۔) دِل بادشاہ ہےجسم اس کی رعایاجیسے بادشاہ کے درست ہوجانے سے تمام ملک ٹھیک ہوجاتا ہے ایسے ہی دل سنبھل جانے سے تمام جسم ٹھیک ہوجاتا ہے۔دل ارادہ کرتا ہے جسم اس پر عمل کی کوشش ۔ دل میں بُرے ارادے نہ پیدا ہوں اس لیے صوفیائے کرام دل کی اصلاح پر بہت زور دیتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ دل کو اپنی منزلوں میں رکھو،اس کی منزل فرض،واجب،سنت، مستحب، آداب ،مباح ہیں ،اِن حدود میں رہا تو خیر ہے ،اگلی منزلیں خطرناک ہیں اُدھر نہ جانے دو،اگلی منزلیں مکروہِ تنزیہی،مکروہِ تحریمی،حرام و کفر ہیں۔ مکروہِ تنزیہی سے بچاؤ تاکہ آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرے۔راہِ نجات:حضرت سیّدناسہل بن عبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےفرمایا:”نجات تین چیزوں میں ہے:(1)حلا ل کھانے میں(2) فرائض کی ادائیگی میں اور(3)نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کی اتباع میں۔“دمشق کے پھل کبھی نہ کھائے:حضرت سَیِّدُنَا امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکے تقویٰ کا یہ عالَم تھاکہ دمشق کے پھل کبھی نہ کھاتے، جب وجہ پوچھی گئی توفرمایا:یہاں کے اکثر باغات اوقاف اور ان اَملاک سے متعلق ہیں جن میں ہر کسی کو تَصَرُّف کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ پھل شُبہ سے خالی نہیں ہوتے پھر میرا دل کیسے گوارہ کر سکتا ہے کہ میں انہیں کھاؤں۔مدنی گلدستہ’’حلال میں برکت ہے ‘‘کے13حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے13مدنی پھول
(1) حلال وحرام واضح ہےاور ان کے درمیان شک والی چیزیں ہیں ۔
(2) حلالوہ اشیاء ہیں جن کے حلال ہونے پر کوئی شرعی دلیل موجود ہو ۔حرام وہ ہیں جن کی حرمت پر کوئی شرعی دلیل موجود ہو ۔
(3) جن اشیاء میں حلت کی اصل موجود ہو وہ مشتبہ نہیں،انہیں حرام سمجھنا محض باطل وہم ہے۔
(4) جو حلال کھائے ، فرائض کی پابندی کرے اور سنت کی پیروی کرے وہ نجات پا جاتاہے۔
(5) جو مشکوک اشیاء کی طرف جائے اس کے حرام میں پڑنے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتاہے ۔
(6) مشکوک اشیاءسے بچنے والوں کا دین اور عزت محفوظ رہتی ہے ۔
(7) ہر مسلمان کو تہمت کی جگہوں سے بچنا چاہئے کہ اس میں دین ودنیا کی بھلائی ہے۔
(8) مکروہِ تنزیہی سے بھی بچنا چاہیےتاکہ مکروہِ تحریمی وحرام کی طرف جانے کی ہمت ہی نہ ہو ۔
(9) جو ناجائز اُمور سے بچنا چاہے اسے چاہیے کہ فرائض وواجبات،سُنن ومُستحبات اورمُباح اُمور کی حُدود میں رہے ان سے تجاوز نہ کرے ۔
(10) جسمِ انسانی میں دِل کی حیثیت حاکِم کی طرح ہے۔
(11) جسم کی اِصلاح کے لئے دِل کی اصلاح ضروری ہے ۔
(12) دل کی سلامتی واصلاح اَمراضِ باطنیہ سے بچنے میں ہے۔
(13) دِ ل خوفِ خدا و عشقِ مصطفےٰ سے معمور ہوتوتمام اعضاء خوف و خشیت اور سنت نبوی کے مظہر ہوتے ہیں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حرام میں ڈالنے والے شُبہات اور مُباح اُمورسے تجاوز کرنے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 588