Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 590

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ النَّواسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ:اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِِثْمُ مَاحَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ اَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ.

عن النواس بن سمعان رضی اللہ تعالی عنہ عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قال:البر حسن الخلق والاثم ماحاك في نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا نَواس بن سَمعانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’نیکی اچھے اخلاق ہیں اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ با ت ناپسند ہو کہ لوگ اس سے واقف ہوں ۔ ‘‘

شرح حدیث

اچھے اَخلاق سے مراد:دلیل الفالحین میں ہے: نیکیوں کا بڑا حصہ حُسنِ اَخلاق پرمشتمل ہے۔ اچھے اَخلاق سے مراد خندہ پیشانی سے ملاقات،ایذا نہ دینا، سخاوت ، دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا جواپنے لئے پسند ہو۔بعض نے فرمایا کہ اَحکام و معاملات میں عدل و اِنصاف ، بحث وتکرار میں نرمی ، خوشحالی میں احسان و سخاوت اور تنگدستی میں ایثار جیسی اچھی صفات کا نام حُسنِ اَخلاق ہے۔” گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے۔“اس سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کے بارے میں ایسی بے چینی،بے قراری اورنفرت وکراہیت ہو کہ اطمینان حاصل نہ ہو۔اسی لئے تو اس پر کسی کا وا قف ہونا ناپسند ہوتاہے۔خیال رہے کہ یہاں پختہ ناپسندیدگی مرادہے عارضی نہیں جیسےکوئی پیدل چلنے والوں کے درمیان بطور عاجزی سوار ہو نا ناپسند کرےتو ایسی ناپسند یدگی گناہ نہیں۔دِل کا سچے کام وکلام سےمطمئن ہونا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: مؤمن کامل کا دِل سچے کام و سچے کلام سے مطمئن ہوتا ہے اور مشکوک اَشیاء سے قدرتی طور پر مُتَرَدِّد ہوتا ہے۔ جب آیتوں میں تعارض معلوم ہوتا ہو تو حدیث کی طرف رُجوع کرو اور اگر حدیثیں بھی متعارض نظر آئیں تو اَقوالِ علماء کو تلا ش کرو اور اگر ان میں بھی تعارض نظر آئے تو اپنے دِل سے فتویٰ لو اور احتیاط پرعمل کرو،یہ سارے اَحکام صاف دِل اور پاکیزہ نفوس کے لیے ہیں۔اگر کسی کو جھوٹ سے اطمینان ہو اور گناہ سے خوشی ہو،نیکیوں سے دل گھبرائے تو وہ دل کی آواز نہیں بلکہ نفس امارہ کی شرارت ہے۔نفس اگر دل پر غالب آجائے تو بہت پریشان کرتا ہے اوراگر دِل نفس پر غالب ہوتوسُبْحَانَ ا اللّٰہ۔یہ ہی حال عقل کا ہے۔اللّٰہتعالیٰ دل کو نفس و عقل پر غالب رکھے۔دوسروں کے حقوق کا اِحساس:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!پر ہیز گارو ں کےدل لمحہ بھر کے لئے بھی کسی ناجائز بات کی طرف تو دور کی بات ہے جس میں ایسا شبہہ بھی ہو اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے بلکہ ان کے دلوں میں فوراً وہ بات کھٹک جاتی ہے اوراس طرح وہ کسی ناجائز امرکے مرتکب نہیں ہوتے۔چنانچہ (1) منقول ہے کہ ایک نیک خاتون اپنے گھر میں آٹا گوندھ رہی تھی کہ اسی دوران اسے اس کے شوہر کی موت کی خبر ہوئی تو اس نے فوراًآٹے سے ہاتھ اٹھا لئے اور کہا:اب اس میں دوسروں کا حق بھی شامل ہوگیاہے۔ یعنی اب یہ میراث بن چکا ہے اور ورثاء کی اجازت کے بغیر یہ ہمارے لئے جائز نہیں ۔( )(2)اسی طرح ایک عورت کو اس کے شوہر کے انتقال کی خبر ہوئی تو اس نے فوراًچراغ بجھاتے ہوئے کہا:اب اس میں دوسروں کا حق بھی شامل ہو گیا ہے۔( )(3) حضرت سیدنا ابو صالح حمدونعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَیُّومکے بارے میں بھی منقول ہے کہ وہ ایک دوست کے پاس گئے، وہ حالت نزع میں تھا، جب اس کاانتقال ہوگیا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فوراًچراغ بجھا دیا۔ کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا: ’’اب تک چراغ کے تیل کا مالک یہ خود تھا لیکن اب سے یہ وارثوں کا ہوگیا۔‘‘(ان کی اجازت کے بغیر ہمارے لئے اس کا استعمال جائز نہیں۔)حسن اَخلاق کے فضائل:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں نیکی،حُسنِ اَخلا ق کو قرار دیا گیا ہے،حُسنِ اخلاق وہ نعمت ہے جس کے ذریعے بغیر مال کے صدقہ کرنے والوں کے مقام تک پہنچا جا سکتاہے۔جو جتنا زیادہ اچھے اخلاق کا حامل ہوگااسے بروزِ قیامت اتنا ہی زیادہ قُربِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنصیب ہوگا۔ حُسنِ اخلا ق سے متعلق 3 فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ فرمائیے:(1)میزانِ عمل میں حُسنِ اَخلاق سے وزنی کوئی اورعمل نہیں۔(2)کامل ترین اِیمان والا وہ ہے جس کا اَخلاق اچھا ہے ۔(3)حُسنِ اخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتاہے جس طرح سورج برف کو پگھلا دیتا ہے ۔مدنی گلدستہ’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو چیز دل میں کھٹکے اور لوگوں کا اس پر مطلع ہونا پسند نہ کیا جائے اسے حدیث پاک میں گناہ کہا گیا ہے لہٰذا اس سے بچنے ہی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
(2) پر ہیز گارو ں کےدل لمحہ بھر کے لئے بھی کسی ناجائز بات پر مطمئن نہیں ہوتے۔
(3) کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو ۔
(4) میزانِ عمل میں حُسن اَخلاق سے وزنی کوئی اورعمل نہیں ہوگا۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حسن اخلاق کا پیکر بنائے اور گناہوں کے مرض سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 590