Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 595

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ نَافِعٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطّاب رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ كَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرينَ الْا َوَّلِينَ اَرْبَعَةَ اٰلَافٍ وَفَرَضَ لِاِبْنِهِ ثَلاَثَة اٰلَافٍ وَخَمْسَ مِائَةٍ فَقيلَ لَهُ:هُوَ مِنَ الْمُهَاجِريْنَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ؟فَقَالَ:اِنَّمَاهَاجَرَ بِهِ اَبُوْهُ يَقُولُ: لَيْسَ هُوَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ.

عن نافع ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ كان فرض للمهاجرين الا ولين اربعة الاف وفرض لابنه ثلاثة الاف وخمس مائة فقيل له:هو من المهاجرين فلم نقصته؟فقال:انماهاجر به ابوه يقول: ليس هو كمن هاجر بنفسه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا نافعرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہے کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمربن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے مہاجرین اولین کےلئےچار ہزاردرہم اوراپنے صاحبزادے کے لئے ساڑھے تین ہزار درہم وظیفہ مقررفرمایا۔ عرض کی گئی : ’’وہ بھی تو مہاجرین میں سے ہیں ،آپ نے ان کا وظیفہ کم کیوں رکھا ہے؟‘‘ فرمایا:’’اس کے ساتھ اس کے باپ نے بھی ہجرت کی تھی۔ یعنی وہ ان کی طرح نہیں جنہوں نے اکیلے ہجرت کی ۔‘‘

شرح حدیث

بیٹے کو کم وظیفہ دینے کی وجہ:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!حدیثِ مذکورمیں امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا عمرفاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا ایک بہترین احتیاطی پہلو بیان کیا گیاہے کہ انہوں اپنے شہزادے کے لئے دوسرے صحابہ سےکم وظیفہ مقرر فرمایا فقط اس لئے کہ ان کے صاحبزادے نے اکیلے ہجرت نہ کی بلکہ اپنے والد کے ساتھ کی تھی جبکہ دیگر مہاجرصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنا گھر بارواہل وعیال چھوڑ کراکیلے ہجرت کی،انہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرناپڑااوران کی قربانیاں بھی زیادہ ہیں اس لئے ان کا وظیفہ بھی زیادہ ہونا چاہیے۔دلیل الفالحین میں ہے :”امیر المومنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے مہاجرین اولین کے لئےچارچار ہزار وظیفہ مقرر فرمایا جبکہ اپنے بیٹے کے لئے ساڑھے تین ہزار مقرر فرمایا حالانکہ وہ بھی مہاجر ین میں شامل تھے ۔آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بطور احتیاط ایسا کیا اور فرمایا کہ میرے بیٹے نے تو اپنے والدین کےساتھ ہجرت کی ہے گویا کہ وہ تواپنے والدین کے سائے میں تھے لہٰذاوہ ان لوگوں کی طرح نہیں جنہوں نے بذاتِ خود ہجرت کرکے سفر کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ہجرت کے وقت آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے صاحبزادے حضرت سَیِّدُنَا عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی عمر گیارہ سال تھی ۔“
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!شریعت اسلامیہ میں حقوق العباد کی ادائیگی اورایک دوسرے سے خیر خواہی کی بہت زیادہ تاکید واہمیت ہے۔حقیقی مسلما ن اگرچہ کتناہی طاقتوراوراثر و رُسوخ کا مالک ہو ہر گز کسی کا حق مارتا ہے نہ کسی پر ظلم کرتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے عدل وانصاف اور رعایا کی خبر گیری و خیر خواہی کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ دوسری قومیں ان کے ہزارویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ وہ مسلمان حکمران ہی تو تھے کہ آدھی سے زیادہ دنیا پر حکمرانی کے باوجود ہاتھ کا تکیہ لگا کر زمین پر بغیر بستر کے سو جاتے۔ان کے دربار میں نہ کوئی دربان ہوتا نہ غر یبوں کے لئے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ ۔وہ خود بھوکے رہ کررعایا کو کھلاتے،ایک عام انسان ان کےدربار میں بلا جھجک خلیفۂ وقت سے وضاحت طلب کر سکتا تھا۔ غریب ولاچارعورت کے لئے اپنی پیٹھ پر اناج لاد کرلےجا نےاورپھر خودکھانا تیار کر کے اس کے بھوکے بچوں کو کھلا کرخوشی محسوس کرنے والے کوئی اور نہیں مسلمان حکمران ہی تھے۔ وہ مسلمان ہی تھے جن کے دورحکومت میں ایسا امن وعدل تھا کہ شیر و بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتےتھے۔ لیکن افسوس!صد افسوس ! آج مسلمانوں کی حالت زار ایسی ہو چکی ہے کہ اسلام دشمن یہود ونصاریٰ ان کی حالت پر ہنستے ہیں،مسلمان مغلوب اور غیرمسلم غالب ہیں۔ وہ قوم جس کے چند اَفراد ہزاروں کا منہ موڑ دیا کرتے تھے آج کروڑوں کی تعداد میں ہوکر بھی ہزاروں سے مَرعُوب ومَغْلُوب ہیں۔یہ سب تباہ کاریاں اپنے ہی کرتوتوں کانتیجہ ہے۔ اِسلامی اَحکامات کو چھوڑنے کا وبال ہے،قرآن وسنت سے رُوگردانی کی سزا ہے۔اگر آج بھی مسلمان اپنے پیارے نبی
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پرعمل پیرا ہوجائیں،اَحکاماتِ اِسلامیہ کی دل وجان سے پیروی کریں،تقویٰ وپرہیز گاری کا لباس پہن لیں تو وہ د ن دُورنہیں کہ مسلمان دنیا میں ایک مرتبہ پھر طاقتور قوم بن کر اُبھریں اور ساری دنیا میں اِسلام کاپرچم لہلہانےلگے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں کواُن کی کھوئی ہوئی شان وشوکت عطا فرمائے ،قرآن وسنت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمینصدقے کے دودھ سے بچنا:حضرت سَیِّدُنَا زید ابن اسلمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے دودھ پیا توآپ کو پسندآیا،پلانے والے سے پوچھاکہ یہ کہاں سے آیا ہے؟عرض کی:ایک گھاٹ پر گیا تھاوہاں صدقے کے جانور پانی پی رہے تھے اُن کا دودھ دوہا گیا تو میں بھی لے آیا یہ وہی دودھ ہے۔ یہ سن کر امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے منہ میں ہاتھ ڈال کر قے کر دی۔بیت المال میں شیرِ خدا کی اِحتیاط:امیر المومنین حضرت سیدناعلی المرتضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمبیت المال کی لونگوں کی ایک ڈھیری کے پاس موجودتھے،آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی ایک لونڈی نےعرض کی:اےامیر المومنین ! مجھے اپنی بچی کے لئے ا ن میں سے کچھ دانے دے دیجئے۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےفرمایا: قیمت ادا کر کے لے لو کیونکہ یہ مسلمانوں کا مال ہے یا پھر میرا حصہ ملنےکا انتظار کرو میں تمہیں اس میں سے دے دوں گا،اس کے علاوہ تمہیں ان میں سے کچھ نہیں مل سکتا ۔غنیمت کی کستوری نہ سونگھی:ایک مرتبہ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْعَزِیْزکی بارگاہ میں غنیمت کی کستوری لائی گئی تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی مبارک ناک بند کرتے ہوئے فرمایا :اس کی خوشبو ہی سے فائدہ اٹھایا جاتا ہےاور مجھے یہ پسندنہیں کہ میں اکیلااسےسونگھوں( کیونکہ یہ غنیمت کی کستوری ہے اس میں اوروں کا بھی حق ہے)۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پررحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’مُتَّقِی ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حاکم اسلام پر لازم ہے کہ بیت المال سے صرف حق داروں ہی کو دے ۔
(2) اگر بزرگوں کی کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو توادب کے دائرے میں رہ کروضاحت طلب کرسکتے ہیں۔
(3) راہِ خدا میں آنے والی سختیاں برداشت کرنے سے دنیاوآخرت میں انسان کی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہے۔
(4)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندےاس قدرتقویٰ وپرہیز گاری اختیار کرتے ہیں کہ عام انسان اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بزرگوں کے طریقوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 595