- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- حدیث نمبر 595
باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 595
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ نَافِعٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطّاب رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ كَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرينَ الْا َوَّلِينَ اَرْبَعَةَ اٰلَافٍ وَفَرَضَ لِاِبْنِهِ ثَلاَثَة اٰلَافٍ وَخَمْسَ مِائَةٍ فَقيلَ لَهُ:هُوَ مِنَ الْمُهَاجِريْنَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ؟فَقَالَ:اِنَّمَاهَاجَرَ بِهِ اَبُوْهُ يَقُولُ: لَيْسَ هُوَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ.
عن نافع ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ كان فرض للمهاجرين الا ولين اربعة الاف وفرض لابنه ثلاثة الاف وخمس مائة فقيل له:هو من المهاجرين فلم نقصته؟فقال:انماهاجر به ابوه يقول: ليس هو كمن هاجر بنفسه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا نافعرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہے کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمربن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے مہاجرین اولین کےلئےچار ہزاردرہم اوراپنے صاحبزادے کے لئے ساڑھے تین ہزار درہم وظیفہ مقررفرمایا۔ عرض کی گئی : ’’وہ بھی تو مہاجرین میں سے ہیں ،آپ نے ان کا وظیفہ کم کیوں رکھا ہے؟‘‘ فرمایا:’’اس کے ساتھ اس کے باپ نے بھی ہجرت کی تھی۔ یعنی وہ ان کی طرح نہیں جنہوں نے اکیلے ہجرت کی ۔‘‘
شرح حدیث
بیٹے کو کم وظیفہ دینے کی وجہ:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!حدیثِ مذکورمیں امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا عمرفاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا ایک بہترین احتیاطی پہلو بیان کیا گیاہے کہ انہوں اپنے شہزادے کے لئے دوسرے صحابہ سےکم وظیفہ مقرر فرمایا فقط اس لئے کہ ان کے صاحبزادے نے اکیلے ہجرت نہ کی بلکہ اپنے والد کے ساتھ کی تھی جبکہ دیگر مہاجرصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنا گھر بارواہل وعیال چھوڑ کراکیلے ہجرت کی،انہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرناپڑااوران کی قربانیاں بھی زیادہ ہیں اس لئے ان کا وظیفہ بھی زیادہ ہونا چاہیے۔دلیل الفالحین میں ہے :”امیر المومنین حضرت سیدناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے مہاجرین اولین کے لئےچارچار ہزار وظیفہ مقرر فرمایا جبکہ اپنے بیٹے کے لئے ساڑھے تین ہزار مقرر فرمایا حالانکہ وہ بھی مہاجر ین میں شامل تھے ۔آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بطور احتیاط ایسا کیا اور فرمایا کہ میرے بیٹے نے تو اپنے والدین کےساتھ ہجرت کی ہے گویا کہ وہ تواپنے والدین کے سائے میں تھے لہٰذاوہ ان لوگوں کی طرح نہیں جنہوں نے بذاتِ خود ہجرت کرکے سفر کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ہجرت کے وقت آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے صاحبزادے حضرت سَیِّدُنَا عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی عمر گیارہ سال تھی ۔“
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!شریعت اسلامیہ میں حقوق العباد کی ادائیگی اورایک دوسرے سے خیر خواہی کی بہت زیادہ تاکید واہمیت ہے۔حقیقی مسلما ن اگرچہ کتناہی طاقتوراوراثر و رُسوخ کا مالک ہو ہر گز کسی کا حق مارتا ہے نہ کسی پر ظلم کرتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے عدل وانصاف اور رعایا کی خبر گیری و خیر خواہی کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ دوسری قومیں ان کے ہزارویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ وہ مسلمان حکمران ہی تو تھے کہ آدھی سے زیادہ دنیا پر حکمرانی کے باوجود ہاتھ کا تکیہ لگا کر زمین پر بغیر بستر کے سو جاتے۔ان کے دربار میں نہ کوئی دربان ہوتا نہ غر یبوں کے لئے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ ۔وہ خود بھوکے رہ کررعایا کو کھلاتے،ایک عام انسان ان کےدربار میں بلا جھجک خلیفۂ وقت سے وضاحت طلب کر سکتا تھا۔ غریب ولاچارعورت کے لئے اپنی پیٹھ پر اناج لاد کرلےجا نےاورپھر خودکھانا تیار کر کے اس کے بھوکے بچوں کو کھلا کرخوشی محسوس کرنے والے کوئی اور نہیں مسلمان حکمران ہی تھے۔ وہ مسلمان ہی تھے جن کے دورحکومت میں ایسا امن وعدل تھا کہ شیر و بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتےتھے۔ لیکن افسوس!صد افسوس ! آج مسلمانوں کی حالت زار ایسی ہو چکی ہے کہ اسلام دشمن یہود ونصاریٰ ان کی حالت پر ہنستے ہیں،مسلمان مغلوب اور غیرمسلم غالب ہیں۔ وہ قوم جس کے چند اَفراد ہزاروں کا منہ موڑ دیا کرتے تھے آج کروڑوں کی تعداد میں ہوکر بھی ہزاروں سے مَرعُوب ومَغْلُوب ہیں۔یہ سب تباہ کاریاں اپنے ہی کرتوتوں کانتیجہ ہے۔ اِسلامی اَحکامات کو چھوڑنے کا وبال ہے،قرآن وسنت سے رُوگردانی کی سزا ہے۔اگر آج بھی مسلمان اپنے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پرعمل پیرا ہوجائیں،اَحکاماتِ اِسلامیہ کی دل وجان سے پیروی کریں،تقویٰ وپرہیز گاری کا لباس پہن لیں تو وہ د ن دُورنہیں کہ مسلمان دنیا میں ایک مرتبہ پھر طاقتور قوم بن کر اُبھریں اور ساری دنیا میں اِسلام کاپرچم لہلہانےلگے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں کواُن کی کھوئی ہوئی شان وشوکت عطا فرمائے ،قرآن وسنت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمینصدقے کے دودھ سے بچنا:حضرت سَیِّدُنَا زید ابن اسلمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے دودھ پیا توآپ کو پسندآیا،پلانے والے سے پوچھاکہ یہ کہاں سے آیا ہے؟عرض کی:ایک گھاٹ پر گیا تھاوہاں صدقے کے جانور پانی پی رہے تھے اُن کا دودھ دوہا گیا تو میں بھی لے آیا یہ وہی دودھ ہے۔ یہ سن کر امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے منہ میں ہاتھ ڈال کر قے کر دی۔بیت المال میں شیرِ خدا کی اِحتیاط:امیر المومنین حضرت سیدناعلی المرتضٰی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمبیت المال کی لونگوں کی ایک ڈھیری کے پاس موجودتھے،آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی ایک لونڈی نےعرض کی:اےامیر المومنین ! مجھے اپنی بچی کے لئے ا ن میں سے کچھ دانے دے دیجئے۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےفرمایا: قیمت ادا کر کے لے لو کیونکہ یہ مسلمانوں کا مال ہے یا پھر میرا حصہ ملنےکا انتظار کرو میں تمہیں اس میں سے دے دوں گا،اس کے علاوہ تمہیں ان میں سے کچھ نہیں مل سکتا ۔غنیمت کی کستوری نہ سونگھی:ایک مرتبہ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْعَزِیْزکی بارگاہ میں غنیمت کی کستوری لائی گئی تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی مبارک ناک بند کرتے ہوئے فرمایا :اس کی خوشبو ہی سے فائدہ اٹھایا جاتا ہےاور مجھے یہ پسندنہیں کہ میں اکیلااسےسونگھوں( کیونکہ یہ غنیمت کی کستوری ہے اس میں اوروں کا بھی حق ہے)۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پررحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’مُتَّقِی ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حاکم اسلام پر لازم ہے کہ بیت المال سے صرف حق داروں ہی کو دے ۔
(2) اگر بزرگوں کی کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو توادب کے دائرے میں رہ کروضاحت طلب کرسکتے ہیں۔
(3) راہِ خدا میں آنے والی سختیاں برداشت کرنے سے دنیاوآخرت میں انسان کی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہے۔
(4)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندےاس قدرتقویٰ وپرہیز گاری اختیار کرتے ہیں کہ عام انسان اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بزرگوں کے طریقوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 595