Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 593

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَ:حَفِظتُ مِنْ رَّسُوْلِ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم، دَعْ مَا یَرِيْبُكَ إِلٰی مَا لَا يَرِيبُكَ.مَعْنَاهُ :اتْرُكْ مَا تَشُكُّ فِيْهِ وَخُذْ مَا لَا تَشُكُّ فِيْهِ .

عن الحسن بن علي رضی اللہ عنہما قال:حفظت من رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم، دع ما یريبك إلی ما لا يريبك.معناه :اترك ما تشك فيه وخذ ما لا تشك فيه .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا امام حَسَن بِن علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمافرماتے ہیں: میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ فرمان یا د کیا:” جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کر۔ “

شرح حدیث

اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:معنی یہ ہے کہ جس چیز میں تجھے شک ہو اسے چھوڑ دے اور جس میں شک نہ ہو اسے اختیار کر۔مومن کا دل صحیح کام پر مطمئن ہوتا ہے:اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْعَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :”جب تمہارا نفس کسی کام کے بارے میں شک کرے تو وہ کام چھوڑ دو کیونکہ مومن کا نفس سچی بات پرہی مطمئن ہوتا ہے۔ کسی کام پر نفس کا مطمئن نہ ہونا اُسکے باطل ہونے کی دلیل ہےاورکسی کام پر نفس کا مطمئن ہوجانا اس کےصحیح ہونے کی دلیل ہے۔ ہمیشہ وہی کام کرنا چاہئے جس پر نفس مطمئن ہو لیکن یہ حکم ان نفوسِ قُدْسِیَہ کے ساتھ خاص ہے جن کے دل گناہوں کی گندگی اور بُرائیوں کے میل سے پاک ہوں۔سمجھدار بچے کا حدیث سننا معتبر ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :ظاہر یہ ہے کہ (حضرتِ سَیِّدُنا امام حسنرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)نے بِلاواسطہ حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے یہ (فرمان) سنا اور یاد کیا، کیونکہ حضور ِاَنور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی زندگی شریف میں امام حَسن (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ) قدرے سمجھدار تھے، بچوں کا حدیث سننا معتبر ہے جبکہ کچھ سمجھدار ہوں اور ہوسکتا ہے کہ آپ نے کسی صحابی سے سنا ہو ۔(جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو)یعنی جو کام یا کلام تمہارے دل میں کھٹکے کہ نہ معلوم حرام ہے یا حلال، اسے چھوڑ دو اور جس پر دل گواہی دے کہ یہ ٹھیک ہے اسے اختیار کرو، مگر یہ ان حضرات کے لئے ہے جو امام حَسَن (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ) جیسی قوتِ قُدْسِیَہ و علم لَدُنِّی والے ہوں جن کا فیصلۂ قلب کتاب و سنت کے مطابق ہو عام لوگ یا جو نفسانی و شیطانی وَہمیات میں پھنسے ہوں اُن کے لئے یہ قاعدہ نہیں، بعض لاپروا لوگ قطعی حراموں میں کوئی تَرَدُّدنہیں کرتے اور بعض وَہم پرست جائز چیزوں کو بلاوجہ حرام و مشکوک سمجھ لیتے ہیں ان کے لئے یہ قاعدہ نہیں ہے ۔شرح اربعین نوویہ میں ہے:”ہرمتقی شخص کوچاہیے کہ شبہے والے مال سےاس طرح بچے جیسےحرام سے بچتاہے اورایسا کھانا استعمال کرے جس پر اس کا قلب ونفس مطمئن ہو۔“مشکوک اَشیاء سے بچنے کی اہمیت :*حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مبارکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :’’میرے نزدیک ایک مشکوک درہم لینے سے رُک جانا چھ لاکھ درہم صدقہ کرنے سے بہترہے۔‘‘*امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:’’ہم ستر قسم کی حلال وجائز چیزوں کو حرام میں پھنسنے کے خوف سے چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘قیمتی جانور چھوڑ دیا:منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاعبداللّٰہبن مبارکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے ایک قیمتی جانور کومسجد کے باہر باندھ کرظہر کی نمازادا کرنے گئے۔ وہ کھل کر شاہی چراگاہ میں چلا گیا،آپ نے وہ جانور چھوڑ دیااوراس پر سواری نہ کی ۔مشکوک برتن واپس نہ لیا:حضرت سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے مکہ مکرمہ میں ایک سبزی فروش کے پاس اپنا تانبے کا ایک برتن گروی رکھ کر کچھ قرض لیا ۔ پھرجب قرض واپس کرنے گئے تو وہ ایک جیسے دو برتن لے آیا اور کہا:ان میں سے جو آپ کا ہے وہ لے لیجئے!آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاپنا برتن نہ پہچان سکے تو لینے سے انکار کر دیا ۔اس نے کہا:میں آپ کو آزمانا چاہتا تھا، لیجئے! یہ آپ کا برتن ہے۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:یہ مشکوک ہو گیا ہے اب میں اسے نہیں لے سکتا۔ یہ کہہ کر اس کا قرض بھی لوٹا دیا ور برتن بھی واپس نہ لیا ۔مدنی گلدستہ’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مشکوک چیز چھوڑ کر قابل اطمینان شے اختیار کرنی چاہئے۔
(2) عام لوگ یا جو نفسانی و شیطانی وہمیات میں پھنسے ہوں انہیں کسی شے کی حلت وحرمت میں تردد ہو تودلی فیصلوں کے بجائے علمائے کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامسے رہنمائی لینی چاہئے ۔
(3) اہل تقویٰ کے نزدیک ایک مشکوک درہم سےبچ جانا لاکھوں درہم صدقہ کرنے سے افضل ہے ۔
(4) ظالموں کے مال سے دور رہنا چاہئےکہ ان کا مال شبہہ سے کم ہی خالی ہوتا۔
(5) چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بھی بچنا چاہئے کیا خبر کہ کوئی چھوٹی غلطی ہی عتاب کا باعث بن جائے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مشکوک اشیاء چھوڑ کر تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 593