Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 589

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَجَدَ تَمْرَةً فِي الطَّرِيْقِ فَقَالَ:لَوْلَا اَنِّيْ اَخَافُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَاَ كَلْتُهَا.

عن انس رضی اللہ تعالی عنہ:ان النبي صلی اللہ علیہ والہ وسلم وجد تمرة في الطريق فقال:لولا اني اخاف ان تكون من الصدقة لا كلتها.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنااَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راستے میں ایک کھجو رپائی تو فرمایا:” اگر مجھے اس کے صدقہ سے ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے ضرور کھاتا۔ “

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بارِگاہِ الٰہی میں جو زیادہ مقبول ہواس کی زندگی اتنی ہی زیادہ محتاط ہوتی ہے۔ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبارگاہِ الٰہی کی سب سے مقبول ترین ہستی ہیں اس لئے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسب سے زیادہ احتیاط فرمانے والے ہیں ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمارے پیارےنبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر مخلوق کا ذرہ ذرہ منکشف فرما دیا تھا اس کے باوجود آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشبہہ والی اشیاء سے بچتے تاکہ دوسروں کو ترغیب ہو ۔فتویٰ اورتقویٰ میں فرق:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(اگر مجھے اس کے صدقہ سے ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے ضرور کھا تا )یعنی خطرہ یہ ہے کہ یہ کھجور زکوۃ کی ہو جو مالک کے ہاتھ سے گر گئی ہو،اس لیے ہم اسے نہیں کھاتے،اگر یہ خطرہ نہ ہوتا توہم اسےکھالیتے۔اس سےچند مسئلےمعلوم ہوئے: *ایکیہ کہ حضورِانور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اورآپ کی اولادپرتاقیامت زکوۃ لیناحرام ہے کیونکہ یہ لوگوں کےہاتھ ومال کا میل ہے،ان ستھروں کو کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔*دوسرےیہ کہ لُقطہ یعنی پڑی ہوئی چیزاگرمعمولی ہو،جس کی تلاش مالک نہ کرے گا تو نہ اس کے مالک کو ڈھونڈناضروری ہےنہ اس کے سنبھالنے اوراعلان کرنےکی ضرورت ہے بلکہ فوراً اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔لقطہ کی احادیث قیمتی چیز کے متعلق ہیں جن کی مالک تلاش کرے۔*تیسرے یہ کہ فتویٰ اورتقویٰ میں فرق ہے۔ فتویٰ محرمات سے بچنے کا ہے مگر تقویٰ یہ ہے کہ شبہات سے بھی بچے،مگرشبہہ اور وہم میں فرق ہے۔ وہمیات کا اعتبار نہیں۔ ولایتی کپڑے کے تھان بازار میں فروخت ہوتے ہیں ان میں شبہہ کرنا کہ یہ گندے پانی سے دھوئے گئے ہوں گے تقویٰ نہیں وہم ہے ۔صحابہ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)غنیمت میں کفار کے لباس پاتے تھے اور بے تکلف استعمال کرتے تھے۔ حضور انور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے کفار بادشاہوں کے ہدیےلیے اوراستعمال فرمائے۔ خیال رہے کہ یہاں تعلیم امت کے لیے یہ ارشاد ہے کہ متشابہات سے بچو ورنہ حضور توہرایک چیز کی حقیقت و اصلیت سے خبردار ہیں۔سادات کیلئے صدقات حلال نہیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصدقہ کی اشیاء نہیں کھاتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صدقاتِ واجبہ و زکوٰۃ وغیرہ لوگوں کے مال کا میل ہوتےہیں اس لئے یہ ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورآپ کی اولادِ اَطہارکے لئےحلال نہیں۔اس ضمن میں دو احادیث ملاحظہ کیجئے: (1)حضرت سیدناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضرت سیدناحسن بن علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے(چھوٹی عمر میں )صدقہ کے چھوہاروں میں سے ایک چھوہارا اپنے منہ میں ڈال لیاتونبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں تھوکنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔ (2)حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس جب کوئی کھانا لایا جاتا تو اس کے متعلق پوچھتے کہ یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو صحابہ کو کھانے کا حکم فرماتے اور خودنہ کھاتےاور اگر عرض کی جاتی کہ ہدیہ ہے تو ان کے ساتھ کھاتے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عبادت کی مقبولیت ، راہِ راست پر استقامت اور دل کی اصلاح کے لئے حرام و مشتبہ اشیاء سے بچنا بے حد ضروری ہے۔حرام غذاکھا نے والا عبادت کی لذت نہیں پاسکتا۔ بسا اوقات ایک خراب لقمہ برسوں تک نیک اعمال کی سعادت سے محروم کر دیتا ہے ۔ چنانچہ،
ایک خراب لقمے کاوبال:حضرت سیِّدُنا مَعروف کَرخیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”صِرْف ایک خراب لُقمہ بعض اوقات دل کی کیفیت کو اس قَدَر تباہ کر دیتا ہے کہ پھرعُمْر بھر دل راہِ راست پر نہیں آتااور بعض اَوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ وُہی خراب لقمہ تہجُّد کی نعمت سے آدَمی کو محروم کر دیتا ہے ۔ نیز بعض اوقات ایک بار بد نگاہی کرنے والا قرآنِ پاک کی ایک سورت کی تلاوت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔‘‘مشتبہ کھانے سے حفاظت:حضرتِ سیِّدُنا ابو علی دقّاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الرَّزَاقسے منقول ہےکہ جب بھی حضرت سیِّدُنا حارِث مُحاسِبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکسی مُشْتَبہ کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی اُنگلی کی ایک رَگ پھڑک اُٹھتی اور آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسمجھ جاتے یہ کھاناجائز نہیں ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ’’مغفرت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بارِگاہِ الٰہی میں جو جتنا زیادہ مقبول ہواس کی زندگی اتنی ہی زیادہ محتاط ہوتی ہے ۔
(2) گری پڑی معمولی چیز جس کی کوئی قیمت نہ ہو تو اسے اٹھانے والااپنے استعمال میں لاسکتا ہے جیسے گندم یا کجھور کاایک دانہ وغیرہ ۔
(3) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورآپ کی اَولاد ِاَطہارکےلئے صدقاتِ واجبہ حلال نہیں۔
(4) بدنگاہی سے ہمیشہ بچنا چاہیے کیونکہ بدنگاہی ایسی بُری خصلت ہے کہ بسااوقات ایک بار بدنگاہی کرنے والا عرصہ ٔ دراز تک تلاوتِ قرآن کی سعادت سے محروم کردیا جاتا ہے۔
(5) حرام لقمے سے بچنا چاہیے کہ بسااَوقات اس کی وجہ سے عمربھردِل راہِ راست پر نہیں آتااور بندہ تہجد کی نعمت سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمیشہ حلا ل رزق کھانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 589