- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- حدیث نمبر 596
باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 596
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَن عَطِيَّةَ بْنِ عُرْوَةَ السَّعْدِيِّ الصَّحَابِیِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُاَنْ يَكُوْنَ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ حَتّٰى يَدَعَ مَالَا بَاْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ بَاْسٌ.
عن عطية بن عروة السعدي الصحابی رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لا يبلغ العبدان يكون من المتقين حتى يدع مالا باس به حذرا لما به باس.
حدیث ترجمہ
صحابی رسول حضر ت سَیِّدُنَا عطیہ بن عروہ سعدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کوئی بندہ اس وقت تک متقیوں کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا جب تک حرج والی چیزوں سے بچنے کے لئے بغیرحرج والی چیزوں کو نہ چھو ڑے ۔“
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں متقیوں کے مقام تک رسائی کے لئے ایک لازمی عمل بتایا گیا کہ حرج والی اشیاءسے بچنے کے لئے بغیرحرج والی چیزوں کو بھی چھوڑ دیا جائے۔ یعنی حرام وگناہ سے بچنے کے لئے مکروہات ومشتبہ اشیاء کو چھوڑ دیا جائے ۔تقوی کا تیسرا درجہ:¥عَلَّامَہ مُحَمَّدعَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیمذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”یعنی حرام میں پڑنے کے خوف سے فضول حلال اشیاء کوبھی چھوڑ دینا اور یہ تقویٰ کے درجات میں تیسرا درجہ ہے۔ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ہم حرام میں پڑنے کے خوف سے حلال کے دس حصوں میں سے نو حصے چھوڑ دیتے ہیں ۔ بعض بزرگوں کی یہ عادت تھی جب کسی کا حق دینا ہوتا تو کچھ زائد دیتے اور جب کسی سے لینا ہوتا تو اپنے حق سے کچھ کم لیتے تاکہ لینے دینے میں کسی قسم کا کوئی شبہہ نہ رہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے دنیا کی زیب وزینت کو اس لئے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ اسے دیکھ کر ان کا دل دنیا کی طرف مائل نہ ہو۔زوجہ کو طلاق دے دی:احياء العلوم میں ہے:”حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہجب خلیفہ بنے تواپنی ایک محبوب زوجہ کو اس خوف سے طلاق دے دی کہ کہیں وہ کسی ناجائز کام میں سفارش نہ کردے اور آپ اس کی رضا جوئی کے لئے اس کی بات نہ مان لیں ۔یہ وہ درجہ ہے جس میں حرج میں پڑنے کے خوف سے ایسی چیزکو چھوڑدیا جاتا ہے جس میں حرج نہیں ہوتا۔اکثر جائز چیزیں گناہوں کی طرف لے جانے والی ہوتی ہیں،مثلاً زیادہ کھانا ،غیر شادی شدہ شخص کا زیادہ خوشبو استعمال کرنا کیونکہ یہ شہوت کو بھڑکاتی ہیں پھر شہوت خیال کو دعوت دیتی ہے اور خیال دیکھنے پر ابھارتا ہے اوردیکھنا گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔اسی طرح امیر لوگوں کے گھروں اور ان کی خوبصورتی کو دیکھنا جائز ہےمگر یہ دیکھناان جیسی اشیاء کے حصول پرابھارتا ہے اوریہ حرام میں ڈال سکتاہے۔اسی طرح تمام جائز چیزوں کا معاملہ ہے اگران کے نقصانات پہچان کربقدر ضرورت اختیار نہ کی جائیں تو ان کا انجام خطرے سےبہت کم خالی ہوتا ہے اورایسے ہی ہر وہ چیز جو خواہش کے سبب حاصل کی جائے وہ خطرے سے کم ہی خالی ہوتی ہے۔“تقویٰ کی تکمیل:حضرت سیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:’’تقویٰ کی تکمیل سے یہ بھی ہے کہ انسان ذرَّہ بھر مقدار میں بھی پرہیز گار ی اختیار کرے حتی کہ حرام کے خوف سے اس بعض کو چھوڑ دے جسے وہ حلال سمجھتا ہے، تاکہ وہ اس کے اورجہنم کے درمیان حجاب ( رکاوٹ)بن جائے۔‘‘متقی کیسے بنے؟امام ابو حامد محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”متقی بننے کے لئے ان چیزوں سے بچنابھی لازم ہے جن میں لوگ چشم پوشی کر جاتے ہیں اگرچہ فتویٰ کی رُو سے وہ حلال ہوتی ہیں لیکن خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس کے غیر میں پڑجانے کا دروازہ نہ کھل جائے کیونکہ نفس تو یہی پسند کرتا ہے کہ آسانیاں اپنائے اورپرہیز گاری چھوڑ دے۔حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْاَ وَّلسے سوال کیا گیا: ایک شخص کا کاغذکہیں گر گیا جس میں کچھ احادیث تحریر تھیں پھروہ کاغذکسی دوسرے کو ملا تو کیااسےجائز ہے کہ نقل کر کے لکھ لے ،پھرمالک کو واپس کردے؟فرمایا:’’نہیں بلکہ پہلے اس سے اجازت لے پھر لکھے۔‘‘کیونکہ کاغذ کے مالک کا اس پر راضی ہونا یا نہ ہونا مشکوک ہے۔متقین کی پرہیزگاری میں سے یہ بھی ہے کہ زیب و زینت کو ترک کیا جائے کیونکہ اس سے ڈر ہوتا ہے کہ یہ گناہ کی طرف نہ لے جائے اگرچہ فی نفسہٖ زینت اختیار کرنا مباح(یعنی جائز) ہے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیک لوگ بسا اوقات جائز باتوں کو بھی اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ جائز کاموں کی خواہشات کو پورا کرنے سے ناجائز کاموں میں پڑنے کا خوف ہوتا ہےکیونکہ نفس جائزو ناجائز دونوں کی ایک جیسی خواہش کرتا ہے اور جب نفس خواہشات میں چشم پوشی کا عادی بن جائے تو وہ آگے بڑھتی ہیں،اس لئے تقویٰ ان تمام سے اجتناب کا تقاضا کرتا ہے۔تقویٰ کے بارے میں بہترین کلام:حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”تقویٰ کی یہ باریک باتیں اُن کے لئے ہیں جو آخرت کے راستے پرگامزن ہیں۔ اس میں تحقیق یہ ہے کہ تقویٰ کی ایک ابتدا ہے اور ایک انتہا۔ابتدائی درجہ کا تقویٰ یہ ہے کہ ہر اس چیز سے بچا جائے جو فتویٰ کی رو سے حرام ہے اور یہ عادل لوگوں کا تقویٰ ہے اورتقویٰ کا انتہا ئی درجہ صدیقین کا تقویٰ ہےاوروہ یہ ہے کہ ہراس چیز سے بچا جائے جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکےلئے نہ ہوجیسے نفسانی خواہش سے کچھ حاصل کرنایا کوئی چیزاختیار کرنا جس کی وجہ سے کسی مکروہ میں پڑنے کا خوف ہویا اس کاحصول کسی مکروہ پر مشتمل ہو۔ان سب سے بچنا انتہائی درجے کا تقویٰ ہے اوران دونوں درجوں کے درمیان احتیاط کے درجات ہیں ۔الغرض انسان اپنے نفس پرجتنی زیادہ سختی کرے گا قیامت کے دن اس کی کمر اتنی ہی ہلکی ہوگی، وہ پل صراط کو جلد عبور کر لے گا اور اس کی نیکیوں کا پلڑا گناہوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا۔آخرت کی منزلیں پرہیزگاری کے درجات کے مختلف ہونے سے مختلف ہوں گی جیسے خباثت میں حرام کے درجات مختلف ہونے کی وجہ سے گناہ گاروں کے حق میں دوزخ کے طبقات مختلف ہوں گے ۔پس جب اصل حقیقت کو پہچان لیا توتمہیں اختیار ہے کہ احتیاط کرو یارخصت پر عمل کرو۔ احتیاط میں تمہارااپنا فائدہ اوررُخصت پرعمل کرنے میں نقصا ن کا اندیشہ ہےاورسلامتی ماننے والے کے لئے ہے۔مدنی گلدستہ’’مُتَّقِیْن ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جوچیز نفسانی خواہش کی وجہ سے حاصل کی جائے وہ خطر ے سے کم ہی خالی ہوتی ہے۔
(2) تقویٰ کا ابتدائی درجہ یہ ہے کہ ہر اس چیز سے بچا جائے جو فتوی کی رو سے نا جائز ہو۔
(3) دنیا میں اپنے نفس پر جو جتنی زیادہ جائز سختی کرے گا آخرت میں اسےاتنی ہی آسانی رہے گی ۔
(4) آخرت کی منزلیں تقویٰ کے درجات کے مطابق ہوں گی جو جتنا زیادہ متقی ہوگا اس کا مقام اتناہی بلند ہوگا۔
(5) اپنے کاموں میں احتیاط برتنے والا فائدے میں رہتاہے جبکہ لاپرواہی کرنے والا نقصان اٹھاتاہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے نفرت اور تقویٰ وپرہیزگاری کی دولت عطا کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 596