Main Icon

باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 596

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن عَطِيَّةَ بْنِ عُرْوَةَ السَّعْدِيِّ الصَّحَابِیِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُاَنْ يَكُوْنَ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ حَتّٰى يَدَعَ مَالَا بَاْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ بَاْسٌ.

عن عطية بن عروة السعدي الصحابی رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لا يبلغ العبدان يكون من المتقين حتى يدع مالا باس به حذرا لما به باس.

حدیث ترجمہ

صحابی رسول حضر ت سَیِّدُنَا عطیہ بن عروہ سعدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کوئی بندہ اس وقت تک متقیوں کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا جب تک حرج والی چیزوں سے بچنے کے لئے بغیرحرج والی چیزوں کو نہ چھو ڑے ۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں متقیوں کے مقام تک رسائی کے لئے ایک لازمی عمل بتایا گیا کہ حرج والی اشیاءسے بچنے کے لئے بغیرحرج والی چیزوں کو بھی چھوڑ دیا جائے۔ یعنی حرام وگناہ سے بچنے کے لئے مکروہات ومشتبہ اشیاء کو چھوڑ دیا جائے ۔تقوی کا تیسرا درجہعَلَّامَہ مُحَمَّدعَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیمذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”یعنی حرام میں پڑنے کے خوف سے فضول حلال اشیاء کوبھی چھوڑ دینا اور یہ تقویٰ کے درجات میں تیسرا درجہ ہے۔ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ہم حرام میں پڑنے کے خوف سے حلال کے دس حصوں میں سے نو حصے چھوڑ دیتے ہیں ۔ بعض بزرگوں کی یہ عادت تھی جب کسی کا حق دینا ہوتا تو کچھ زائد دیتے اور جب کسی سے لینا ہوتا تو اپنے حق سے کچھ کم لیتے تاکہ لینے دینے میں کسی قسم کا کوئی شبہہ نہ رہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے دنیا کی زیب وزینت کو اس لئے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ اسے دیکھ کر ان کا دل دنیا کی طرف مائل نہ ہو۔زوجہ کو طلاق دے دی:احياء العلوم میں ہے:”حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہجب خلیفہ بنے تواپنی ایک محبوب زوجہ کو اس خوف سے طلاق دے دی کہ کہیں وہ کسی ناجائز کام میں سفارش نہ کردے اور آپ اس کی رضا جوئی کے لئے اس کی بات نہ مان لیں ۔یہ وہ درجہ ہے جس میں حرج میں پڑنے کے خوف سے ایسی چیزکو چھوڑدیا جاتا ہے جس میں حرج نہیں ہوتا۔اکثر جائز چیزیں گناہوں کی طرف لے جانے والی ہوتی ہیں،مثلاً زیادہ کھانا ،غیر شادی شدہ شخص کا زیادہ خوشبو استعمال کرنا کیونکہ یہ شہوت کو بھڑکاتی ہیں پھر شہوت خیال کو دعوت دیتی ہے اور خیال دیکھنے پر ابھارتا ہے اوردیکھنا گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔اسی طرح امیر لوگوں کے گھروں اور ان کی خوبصورتی کو دیکھنا جائز ہےمگر یہ دیکھناان جیسی اشیاء کے حصول پرابھارتا ہے اوریہ حرام میں ڈال سکتاہے۔اسی طرح تمام جائز چیزوں کا معاملہ ہے اگران کے نقصانات پہچان کربقدر ضرورت اختیار نہ کی جائیں تو ان کا انجام خطرے سےبہت کم خالی ہوتا ہے اورایسے ہی ہر وہ چیز جو خواہش کے سبب حاصل کی جائے وہ خطرے سے کم ہی خالی ہوتی ہے۔“تقویٰ کی تکمیل:حضرت سیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:’’تقویٰ کی تکمیل سے یہ بھی ہے کہ انسان ذرَّہ بھر مقدار میں بھی پرہیز گار ی اختیار کرے حتی کہ حرام کے خوف سے اس بعض کو چھوڑ دے جسے وہ حلال سمجھتا ہے، تاکہ وہ اس کے اورجہنم کے درمیان حجاب ( رکاوٹ)بن جائے۔‘‘متقی کیسے بنے؟امام ابو حامد محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”متقی بننے کے لئے ان چیزوں سے بچنابھی لازم ہے جن میں لوگ چشم پوشی کر جاتے ہیں اگرچہ فتویٰ کی رُو سے وہ حلال ہوتی ہیں لیکن خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس کے غیر میں پڑجانے کا دروازہ نہ کھل جائے کیونکہ نفس تو یہی پسند کرتا ہے کہ آسانیاں اپنائے اورپرہیز گاری چھوڑ دے۔حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْاَ وَّلسے سوال کیا گیا: ایک شخص کا کاغذکہیں گر گیا جس میں کچھ احادیث تحریر تھیں پھروہ کاغذکسی دوسرے کو ملا تو کیااسےجائز ہے کہ نقل کر کے لکھ لے ،پھرمالک کو واپس کردے؟فرمایا:’’نہیں بلکہ پہلے اس سے اجازت لے پھر لکھے۔‘‘کیونکہ کاغذ کے مالک کا اس پر راضی ہونا یا نہ ہونا مشکوک ہے۔متقین کی پرہیزگاری میں سے یہ بھی ہے کہ زیب و زینت کو ترک کیا جائے کیونکہ اس سے ڈر ہوتا ہے کہ یہ گناہ کی طرف نہ لے جائے اگرچہ فی نفسہٖ زینت اختیار کرنا مباح(یعنی جائز) ہے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیک لوگ بسا اوقات جائز باتوں کو بھی اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ جائز کاموں کی خواہشات کو پورا کرنے سے ناجائز کاموں میں پڑنے کا خوف ہوتا ہےکیونکہ نفس جائزو ناجائز دونوں کی ایک جیسی خواہش کرتا ہے اور جب نفس خواہشات میں چشم پوشی کا عادی بن جائے تو وہ آگے بڑھتی ہیں،اس لئے تقویٰ ان تمام سے اجتناب کا تقاضا کرتا ہے۔
تقویٰ کے بارے میں بہترین کلام:حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”تقویٰ کی یہ باریک باتیں اُن کے لئے ہیں جو آخرت کے راستے پرگامزن ہیں۔ اس میں تحقیق یہ ہے کہ تقویٰ کی ایک ابتدا ہے اور ایک انتہا۔ابتدائی درجہ کا تقویٰ یہ ہے کہ ہر اس چیز سے بچا جائے جو فتویٰ کی رو سے حرام ہے اور یہ عادل لوگوں کا تقویٰ ہے اورتقویٰ کا انتہا ئی درجہ صدیقین کا تقویٰ ہےاوروہ یہ ہے کہ ہراس چیز سے بچا جائے جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکےلئے نہ ہوجیسے نفسانی خواہش سے کچھ حاصل کرنایا کوئی چیزاختیار کرنا جس کی وجہ سے کسی مکروہ میں پڑنے کا خوف ہویا اس کاحصول کسی مکروہ پر مشتمل ہو۔ان سب سے بچنا انتہائی درجے کا تقویٰ ہے اوران دونوں درجوں کے درمیان احتیاط کے درجات ہیں ۔الغرض انسان اپنے نفس پرجتنی زیادہ سختی کرے گا قیامت کے دن اس کی کمر اتنی ہی ہلکی ہوگی، وہ پل صراط کو جلد عبور کر لے گا اور اس کی نیکیوں کا پلڑا گناہوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا۔آخرت کی منزلیں پرہیزگاری کے درجات کے مختلف ہونے سے مختلف ہوں گی جیسے خباثت میں حرام کے درجات مختلف ہونے کی وجہ سے گناہ گاروں کے حق میں دوزخ کے طبقات مختلف ہوں گے ۔پس جب اصل حقیقت کو پہچان لیا توتمہیں اختیار ہے کہ احتیاط کرو یارخصت پر عمل کرو۔ احتیاط میں تمہارااپنا فائدہ اوررُخصت پرعمل کرنے میں نقصا ن کا اندیشہ ہےاورسلامتی ماننے والے کے لئے ہے۔مدنی گلدستہ’’مُتَّقِیْن ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جوچیز نفسانی خواہش کی وجہ سے حاصل کی جائے وہ خطر ے سے کم ہی خالی ہوتی ہے۔
(2) تقویٰ کا ابتدائی درجہ یہ ہے کہ ہر اس چیز سے بچا جائے جو فتوی کی رو سے نا جائز ہو۔
(3) دنیا میں اپنے نفس پر جو جتنی زیادہ جائز سختی کرے گا آخرت میں اسےاتنی ہی آسانی رہے گی ۔
(4) آخرت کی منزلیں تقویٰ کے درجات کے مطابق ہوں گی جو جتنا زیادہ متقی ہوگا اس کا مقام اتناہی بلند ہوگا۔
(5) اپنے کاموں میں احتیاط برتنے والا فائدے میں رہتاہے جبکہ لاپرواہی کرنے والا نقصان اٹھاتاہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے نفرت اور تقویٰ وپرہیزگاری کی دولت عطا کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 596