- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- حدیث نمبر 171
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي عَمْرٍو جَرِ یْرِ بْنِ عَبْدِاللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:كُنَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ اَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِمَا رَاَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ وَاَقَامَ، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: ( یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ) اِلَى آخِرِ الْآيَةِ: (اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا (۱) ) (پ۴، النساء:۱) وَالْآيَةُ الاُخْرَی الَّتِي فِي آخِرِالْحَشْرِ: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-) (پ۲۸، الحشر:۱۸) تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ:وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ‘‘ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَاَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَاَيْتُ وَجْهَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَهَلَّلُ كَاَ نَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ اَجْرُهَا، وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ. ( )
قَوْلُہُ ’’ مُجْتَابِی النِّمَارِ ‘‘ ہُوَ بِالْجِیْمِ وَبَعْدَ الْاَلِفِ بَاءٌمُوَحَّدَۃٌ.وَالنِّمَارُ:جَمْعُ نَمِرَ ۃٍ، وَہِیَ:کِسَاءٌمِنْ صُوْفٍ مُخَطَّطٌ، وَمَعْنَی ’’ مُجْتَابِیْہَا ‘‘ اَیْ لَا بِسِیْہَا قَدْ خَرَقُوْہَا فیِ رُؤُسِہِمْ. ’’ وَالْجَوْبُ ‘‘ الْقَطْعُ، وَمِنْہُ قَوْلُہُ تَعَالیٰ: (وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِﭪ (۹) ) (پ۳۰، الفجر:۹) اَیْ:نَحَتُوْہُ وَقَطَعُوْہُ.وَقَوْلُہُ ’’ تَمَعَّرَ ‘‘ ہُوَ بِالْعَیْنِ الْمُہْمَلَۃِ، اَیْ: تَغَیَّرَ. وَقَوْلُہُ: ’’ رَاَیْتُ کَوْمَیْنِ ‘‘ بِفَتْحِ الْکَافِ وَضَمِّہَا اَیْ:صُبْرَ تَیْنِ.وَقَوْلُہُ: ’’ کَاَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ ‘‘ ہُوَ بِالذَّالِ الْمُعْجَمَۃِ، وَفَتْحِ الْہَاءِ وَالْبَاءِ الْمُوَحَّدَۃِ. قَالَہُ الْقَاضِی عِیَاضٌ وَغَیْرُہُ. وَصَحَّفَہُ بَعْضُہُمْ فَقَالَ: ’’ مُدْہُنَۃٌ ‘‘ بِدَالٍ مُہْمَلَۃٍ وَضَمِ الْہَاءِ وَبِالنُّوْنِ، وَکَذَا ضَبَطَہُ الْحُمَیْدِیُّ، وَالصَّحِیْحُ الْمَشْہُوْرُ ہُوَ الْاَوَّلُ. وَالْمُرَادُ بِہِ عَلَی الْوَجْہَیْنِ: الصَّفَاءُ وَالْاِسْتِنَارَۃُ.
عن ابي عمرو جر یر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال:كنا في صدر النهار عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءه قوم عراة مجتابي النمار او العباء متقلدي السيوف، عامتهم من مضر ، بل كلهم من مضر فتمعر وجه رسول الله، صلى الله عليه وسلم، لما راى بهم من الفاقة فدخل ثم خرج، فامر بلالا فاذن واقام، فصلى ثم خطب فقال: ( یایها الناس اتقوا ربكم الذی خلقكم من نفس واحدة ) الى آخر الآية: (ان الله كان علیكم رقیبا (۱) ) (پ۴، النساء:۱) والآية الاخری التي في آخرالحشر: ( یایها الذین امنوا اتقوا الله و لتنظر نفس ما قدمت لغد-) (پ۲۸، الحشر:۱۸) تصدق رجل من ديناره من درهمه من ثوبه من صاع بره من صاع تمره، حتى قال:ولو بشق تمرة ‘‘ فجاء رجل من الانصار بصرة كادت كفه تعجز عنها بل قد عجزت، ثم تتابع الناس حتى رايت كومين من طعام وثياب، حتى رايت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، يتهلل كا نه مذهبة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سن في الاسلام سنة حسنة فله اجرها، واجر من عمل بها من بعده من غير ان ينقص من اجورهم شيء، ومن سن في الاسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير ان ينقص من اوزارهم شيء. ( )
قولہ ’’ مجتابی النمار ‘‘ ہو بالجیم وبعد الالف باءموحدۃ.والنمار:جمع نمر ۃ، وہی:کساءمن صوف مخطط، ومعنی ’’ مجتابیہا ‘‘ ای لا بسیہا قد خرقوہا فی رؤسہم. ’’ والجوب ‘‘ القطع، ومنہ قولہ تعالی: (و ثمود الذین جابوا الصخر بالوادﭪ (۹) ) (پ۳۰، الفجر:۹) ای:نحتوہ وقطعوہ.وقولہ ’’ تمعر ‘‘ ہو بالعین المہملۃ، ای: تغیر. وقولہ: ’’ رایت کومین ‘‘ بفتح الکاف وضمہا ای:صبر تین.وقولہ: ’’ کانہ مذہبۃ ‘‘ ہو بالذال المعجمۃ، وفتح الہاء والباء الموحدۃ. قالہ القاضی عیاض وغیرہ. وصحفہ بعضہم فقال: ’’ مدہنۃ ‘‘ بدال مہملۃ وضم الہاء وبالنون، وکذا ضبطہ الحمیدی، والصحیح المشہور ہو الاول. والمراد بہ علی الوجہین: الصفاء والاستنارۃ.
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُناابو عَمرو جریر بنعبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی وقت میںرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر تھے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کچھ بے لباس لوگ آئے جنہوں نے اُون کی دھاری دار چادریں یا ٹاٹ کی چادریں پہنی ہوئی تھیں اوران کی گردنوں میں تلواریں لٹکی ہوئی تھیں ، ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب قبیلہ مُضَر سے تعلق رکھتے تھے۔اُن کو اِس فقر وفاقہ کی حالت میں دیکھ کر نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرہ اَنور متغیر ہوگیا۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماندر تشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے اور حضرتِ سَیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اذان کا حکم دیا ، سَیِّدُنابلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اذان دی اور اقامت کہی اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اوریہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
(یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا (۱)) (پ۴، النساء:۱)ترجمۂ کنزالایمان:اے لوگو اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مردوعورت پھیلادیے اوراللہسے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شکاللہہروقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔
پھریہ دوسری آیت پڑھی جو سورۂ حشر کے آخرمیں ہے:
(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-) (پ۲۸، الحشر:۱۸)ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والواللہسے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیےکیا آگے بھیجا۔
پھر ارشاد فرمایا: ’’ لوگ اپنے دینار، درہم، کپڑوں ، ایک صاع گندم، ایک صاع کھجوروں میں سے کچھ نہ کچھ صدقہ کریں اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ جنت نشان کو سننے کے بعد ایک انصاری صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک تھیلی لائے جس کےوزن کی وجہ سے ان کاہاتھ تھکنے والا تھا بلکہ تھک ہی چکا تھا۔اس کے بعد لوگ دھڑا دھڑ اپنے صدقات بارگاہِ رسالت میں پیش کرنے لگےیہاں تک کہ میں نے غلے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور میں نےدیکھا کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرۂ انورخوشی سےکُنْدَن (یعنی خالص سونے) کی طرح چمک رہا تھا۔پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے اسلام میں کوئی نیک اور اچھاطریقہ ایجاد کیا تواُسے اُس کا اَجر ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا اوراُن عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اُسے اس کاگناہ ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ملے گااور اُن عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ ‘‘
شرح حدیث
مختلف الفاظ کے معانی:∞٭’’ ∞مُجْتَابِی النِّمَارِ‘‘ : ’’نِمَار‘‘نَمِرَۃٌکی جمع ہےجس کا معنی ہے: ’’ اُون کی دھاری دار چادر۔ ‘‘٭’’مُجْتَابِیْھَا‘‘ کا مطلب ہے کہ ’’ انہوں نے چادروں میں سوراخ کرکےاپنے سروں پر ڈالی ہوئی تھیں ۔ ‘‘٭’’اَلْجَوْبُ‘‘ کامعنی ہے: ’’ کاٹنا۔ ‘‘ جیسا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکافرمان ہے (وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِﭪ (۹))پ۳۰، الفجر:۹)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور ثمود جنہوں نے وادی میں پتھر کی چٹانیں کاٹیں ۔ ‘‘٭’’تَمَعَّرَ‘‘ کا معنی ہے: ’’ رنگ بدل گیا۔ ‘‘٭’’رَاَیْتُ کَوْمَیْنِ‘‘ میں ’’کوْمَیْنِ‘‘ کو ’’کَوْمَیْنِ‘‘ کاف پرزبر اور ’’کُوْمَیْنِ‘‘ کاف پر پیش کے ساتھ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں ۔اس کا معنی ہے: ’’ دو ڈھیر۔ ‘‘٭’’کَاَ نَّہُ مُذْھَبَۃٌ‘‘ کو بعض نے ’’مُدْھُنَۃٌ‘‘ بھی ذکر کیا ہے لیکن صحیح اور مشہور پہلے والا ہے البتہ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہے یعنی: ’’ چہرۂ اَنور کا روشن ہو نا ۔ ‘‘
¥رسول اللہکی دو عظیم سُنَّتِیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا حدیث پاک کے ابتدائی نصف حصے کا مضمون یہ ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبیلہ مُضَرکے فقروفاقہ والے اصحاب کو دیکھ کر انتہائی غمزدہ ہوگئےحتی کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چہرۂ اَنور کا رنگ متغیر ہوگیا، پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہاں موجود صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکواُن کی مددکرنے اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی، جب صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اُن کی مدد کی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ دیکھ کر بہت ہی زیادہ خوش ہو گئے۔ اِس سے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دوعظیم سنتوں کا پتا چلا: (1) ایک تویہ کہ غریبوں کی مدد کرنا، اُن کا اِحساس کرنا، اُن کے غم میں شریک ہونا، اُن کے دکھ کو محسوس کرنا، جن کے پاس کھانے اور پہننے کو نہیں ہے اُن کی اِس حالت کا اپنے دل میں اِحساس کرناآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے۔ (2) دوسرا یہ کہ غریبوں کی مدد کرنا اور اُس مدد پر خوش ہونایہ بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے۔
¥حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا چہرۂ انور متغیر ہونے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قبیلہ مُضَر کے اُن تمام لوگوں کو شدید حاجت مند دیکھ کراور اغنیا ءمسلمانوں کا اُن کی مدد کرکے اُن سے ضرر کو دُور نہ کرنے کی وجہ سےچہرۂ اَنور متغیر ہوا کیونکہ شریعت نےخوش حال مسلمانوں پر محتاج مسلمان سےضررکودُورکرنااِس طور پرواجب کیا ہےکہ وہ اس بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائیں ، بے لباس کو کپڑے پہنائیں ۔چونکہ قبیلہ مُضَر کے اُن مسلمانوں کی بھی یہی حالت تھی اور اَغنیاء مسلمان اُن کی حاجت روائی کی طرف متوجہ نہ ہورہے تھے پس اِسی سبب سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرۂ اَنورمتغیر ہوگیا نہ کہ اُن کے فاقہ کودیکھ کرکیونکہ فاقہ کرنا تو اِس اُمَّت کے صالحین کی شان ہے۔ ‘‘ ( )نیک مقاصد کےلیےلوگوں کوجمع کرنامستحب ہے:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں اِس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کونیک مہم کے لیے جمع کرنا ، اُن کو وعظ کرنا، اچھی مصلحتوں پر اُبھارنااوراُن کو بُری باتوں سے ڈرانا مستحب ہے۔اس موقع پریہ آیت تلاوت کرنے کا سبب یہ تھاکہ یہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوصدقہ پراُبھارنے کے لیے زیادہ فائدے مند تھی کیونکہ اس آیت میں مسلمانوں کے حق کو اس طور پر مؤکدکیا گیاہے تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ ‘‘ ( ) (اور ایک بھائی کا دوسرے بھائی پر حق ہوتاہے کہ وہ استطاعت کی صورت میں اپنے بھائی کی حاجت روائی کرے۔)
¥مسجد میں چندہ کرنے کی شرعی حیثیت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں البتہ مساجد ومدارسِ اسلامیہ وغیرہ دینی کاموں کے لیے چندہ کرنا نہ صرف جائز بلکہ کار ثواب ہے اور اُس کی اَصل سُنَّت سے ثابت ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت ، عظیم البرکت، مجدددین وملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہ ج۱۶، ص۴۱۸پر ارشاد فرماتے ہیں : ’’ مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایا ہے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ اور کسی دوسرے کے لیے مانگا یا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کے لیے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔ ‘‘ فتاویٰ رضویہ ج۲۳، ص۱۲۷پر ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں : ’’ اُمورِ خیر کے لیے مسلمانوں سے اس طرح چندہ کرنا بدعت نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ جو لوگ اِس سے روکتے ہیں (وہ اِس آیت) :(مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ (۱۲))(پ۲۹، القلم:۱۲)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بھلائی سے بڑا روکنے والا حدسے بڑھنے والا گنہگار ‘‘ میں داخل ہوتے ہیں ۔ ‘‘ پھر اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنا جریر بنعبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی مذکورہ بالا حدیث پاک بیان فرمائی۔ پیارے اسلامی بھائیو! مسجدوں ، مدرسوں ، اور مذہبی وسماجی اداروں کے چندہ کنندگان کے لیے چندے کے مسائل جاننا فرض ہے، چندے کے تفصیلی مسائل اور اس کی مختلف احتیاطوں کے بارے میں جاننے کے لیے شیخ طریقت امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف ’’ چندے کے بارے میں سوال جواب ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
¥اچھے کام کو جاری کرنے، بُرے کام سے رُکنے کی ترغیب:مذکورہ بالا حدیث پاک میں اچھے اور نیک کرنے کو ایجاد کرنے اور اُسے جاری رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے نیز بُرے اور گناہ والے کاموں سے ڈرایا گیا ہے۔ نیز اِس بات کو بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ جو اچھے کام کی اِبتداء کرے گا، اُسے جاری کرےگا، اُسے اُس کے اپنے عمل کا تو ثواب ملے گا ہی لیکن اُس کے بعدجو بھی لوگ اُس اچھے ونیک کام کو کرتے رہیں گے اُن کا بھی ثواب اُس اچھے کام کی ابتداء کرنے والے کو ملتا رہے گا، اِسی طرح جو بُرے اور گناہ والے کام کی ابتداء کرے گا اُسے اُس کے اپنے عمل کا تو گناہ ملے گا ہی لیکن اُس کے بعدجوبھی لوگ اُس بُرے وگناہ والے کام کو کرتے رہیں گے اُن کا بھی گناہ اُس بُرے کام کی ابتداء کرنے والے کو ملتا رہے گا۔
چنانچہ علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِس اِرشادمیں اچھے کام کی ابتداءاوراچھے طریقے کوجاری کرنے اورباطل وقبیح کام ایجاد کرنےسے ڈرانے پر اُبھاراگیاہے۔ جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شروع میں صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی تو ایک انصاری صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک تھیلی لائے جس کےوزن کی وجہ سے اُن کاہاتھ تھک گیا۔پھراُن کی پیروی کرتے ہوئے دیگرصحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےبھی خیرات کی تو اِس فضیلت وعظمت کاسہرااُس صحابی کےسرجاتاہےجواِس نیک کام کی ابتداء کرنے والےتھے اوراُس بھلائی کادروازہ کھولنےوالےتھے۔اِس حدیث پاک میں حضورِاکرم نورِ مُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِس ارشاد: ’’ ہرنیا کام بدعت ہےاورہربدعت گمراہی ہے۔ ‘‘ کے حکم کی بھی تخصیص ہے کہ یہاں ’’ ہربدعت گمراہی ہے۔ ‘‘ سے اِیجاداتِ باطلہ اور بدعاتِ سیئہ ومذمومہ مراد ہیں ۔ ‘‘ ( ) (کہ اچھا کام اِیجاد کرنا نہ صرف محمود یعنی قابل تعریف بلکہ باعث اجروثواب ہے بلکہ جو لوگ اُس پرعمل کرتے رہیں گے اُس نیک عمل ایجاد کرنے والے کو اُن تمام کا بھی ثواب ملتا رہے گا اور اُن کے اجروثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔) ( )
¥حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے خوش ہونے کی وجہ:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوش ہونےکی دو ۲وجہیں ہیں : (1) ایک یہ کہ مسلمانوں نےآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ترغیب پر اپنے مالاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کیےاور صدقہ کرنے میں سخاوت کی۔ (2) دوسری وجہ یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےاس واقعے کےبعد اس فقر والے لشکر پرفتوحات کادروازہ کھول دیا۔ ‘‘ ( )
¥صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکاجذبۂ جہاد:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : ’’ یعنی غربت کی وجہ سے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے پاس سوائے ایک کمبل کے تن ڈھکنے کو کوئی کپڑا نہ تھا اس کے باوجود غزوے اور جہاد کے شوقین تھے کہ تلواریں ہر ایک کے پاس تھیں ۔اُن کی فقیری سے خاطر اقدس کو بہت ملال پہنچا جس کے آثار چہرۂ انور پر نمودار ہوئے، کیوں نہ ہو بے نواؤں فقیروں کے غم خوار جو ہیں ، ہم غریبوں پر وہ رنج نہ کریں تو کون کرے؟ یہ حدیث پاک اس آیت کی تفسیر ہے:(عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ) (پ۱۱، التوبہ:۱۲۸)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ جن پر تمہارامشقت میں پڑنا گراں ہے ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ اِس حدیث پاک سے دو مسئلے معلوم ہوئے:
(1) ایک یہ کہ بوقت ضرورت چندہ کرنا جائز ہے۔
(2) دوسرے یہ کہ مسجد میں دوسروں کے لیے سوال جائز ہے۔جن احادیث میں مسجد میں مانگنے کی ممانعت ہے وہاں اپنے لیے مانگنا مراد ہے لہٰذا یہ حدیث ان کے خلاف نہیں ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ فقراء کی حاجت روائی اور صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی خیرات پر خوشی کی وجہ سے معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنی اُمَّت کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور جواللہرسول کو راضی کرنا چاہے وہ فقیروں کی حاجت پوری کرے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ مُوْجِدِ خیر (یعنی کسی اچھی کام کو ایجاد کرنے والا) تمام عمل کرنے والوں کے برابر اجر پائے گا لہٰذا جن لوگوں نے علم فقہ، فن حدیث، میلاد شریف، عُرسِ بزرگان، ذکر خیر کی مجلسیں ، اسلامی مدرسے، طریقت کے سلسلےاِیجاد کیے اُنہیں قیامت تک ثواب ملتا رہے گا۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ یہاں اِسلام میں اچھی بدعتیں ایجاد کرنے کا ذکر ہےنہ کہ چھوڑی ہوئی سنتیں زندہ کرنے کا جیسا کہ اگلے عبارت سے معلوم ہورہا ہے۔ اس حدیث سے بدعت حسنہ کے خیر ہونے کا اعلیٰ ثبوت ہوا، یہ حدیث اُن تمام احادیث کی شرح ہے جن میں بدعتوں کی برائیاں آئیں ، صاف معلوم ہوا کہ بدعتِ سیئہ بُری ہے اور اُن احادیث میں یہی مراد ہے۔یہ حدیث پاک بدعت کی دو قسمیں فرمارہی ہے: (1) بدعتِ حسنہ اور (2) بدعت سیئہ۔ اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی، اُن لوگوں پر افسوس ہے جو اِس حدیث پاک سے آنکھیں بند کر کے ہر بدعت کو بُرا کہتے ہیں حالانکہ خود ہزاروں بدعتیں کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ سُنَّتُوں پر عَمَل کرو ‘‘ کے13حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے13مدنی پھول
(1)حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناورتمام مسلمانوں پر کمال مہربان ہیں ، اُن کا مشقت یا تکلیف میں پڑنا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر بہت گراں ہے۔
(2) وعظ ونصیحت یا بیان کرتے ہوئے موضوع کی مناسبت سے آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرنا سنت ہے۔
(3) نیک مقاصد کے لیے لوگوں کو جمع کرنا، وعظ ونصیحت کرنا، راہِ خدا میں خرچ کرنے پر اُبھارنا سنت ہے۔
(4) مسجد میں اپنے لیے مانگناجائز نہیں البتہ مساجد ومدارسِ اِسلامیہ وغیرہ دینی کاموں کے لیے چندہ کرنا نہ صرف جائز بلکہ کار ثواب ہےاور اس کی اصل سنت سے ثابت ہے۔
(5) اِسی طرح کسی بھی کارِ خیر کے لیے چندہ مانگنے والے کو بلاوجہِ شرعی روکنے کی ممانعت ہے۔
(6) غریبوں کی غربت یا فَقروفاقہ دیکھ کراس پر غمگین ہونااور اُن کی غربت وفَقر کو دور کرنے کے لیے اِقدامات کرنا، نیز اُن کی تکلیف دور ہونے پر خوشی کا اِظہار کرنا سنت سے ثابت ہے۔
(7) اپنے غریب مسلمان بھائیوں کی مالی مُعاونت کرنا صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔
(8) اگر کوئی شخص اسلام میں اچھا اور نیک طریقہ ایجاد کرے یا اس کی بنیاد رکھے تواسے اس کا ثواب ملے گا اور جو جو لوگ اس پرعمل کرتے رہیں گے ان کا بھی ثواب ملتا رہے گا اوران عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔
(9) اِسی طرح اگرکوئی شخص اِسلام میں بُرا اور گناہ والا طریقہ اِیجاد کرے یا اُس کی بنیاد رکھے تو اُسے اُس کا گناہ ملے گا اورجوجولوگ اُس پرعمل کرتے رہیں گے اُن کابھی گناہ اُسے ملے گااوراُس بُراعمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔
(10) جن لوگوں نے مختلف دینی علوم جیسے علم فقہ، علم اُصولِ فقہ، علم تفسیر، علم اُصولِ تفسیر، علم حدیث، علم اُصولِ حدیث، مدارس اسلامیہ، ان میں پڑھایاجانے والا دینی نصاب، میلاد شریف، عرس بزرگانِ دین، ذکر خیر کی مجلسیں ، طریقت کے سلسلے، تصوف وسلوک کی اہم باتیں وغیرہ ایجاد کیں انہیں قیامت تک اِن کا ثواب ملتا رہے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ(11) ’’ ہر بدعت گمراہی ہے ‘‘ سے مُراد ہروہ نیا کام ہےجو خلافِ شریعت، باطل اور بدعت سیئہ ہو۔
(12) راہِ خُدامیں مال خرچ کرنے اور صدقہ کرنے، مسلمانوں کی مالی معاونت کرنے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا وخوشنودی ہے۔
(13) حضورنبی کریم رؤف رحیم اپنی اُمَّت کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں ، فقیروں کی حاجت روائی کرنے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خوشنودی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہےکہ وہ ہمیں فرائض وواجبات، سنن ومستحبات کے ساتھ ساتھ نیک اور اچھے طریقوں پر عمل کرنے کی اور بُرے طریقوں سے بچنے کی توفیق عطافرمائے، نیز ہمیں راہِ خدا میں خوب صدقہ وخیرات کرنے، مسلمانوں کی مالی معاونت کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 171