باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا

فیضان ریاض الصالحین جلد 2

:حضرتِ سَیِّدُناابو عَمرو جریر بنعبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی وقت میںرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر تھے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کچھ بے لباس لوگ آئے جنہوں نے اُون کی دھاری دار چادریں یا ٹاٹ کی چادریں پہنی ہوئی تھیں اوران کی گردنوں میں تلواریں لٹکی ہوئی تھیں ، ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب قبیلہ مُضَر سے تعلق رکھتے تھے۔اُن کو اِس فقر وفاقہ کی حالت میں دیکھ کر نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرہ اَنور متغیر ہوگیا۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماندر تشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے اور حضرتِ سَیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اذان کا حکم دیا ، سَیِّدُنابلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اذان دی اور اقامت کہی اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اوریہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
(
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا (۱)) (پ۴، النساء:۱)ترجمۂ کنزالایمان:اے لوگو اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مردوعورت پھیلادیے اوراللہسے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شکاللہہروقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔
پھریہ دوسری آیت پڑھی جو سورۂ حشر کے آخرمیں ہے:
(
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-) (پ۲۸، الحشر:۱۸)ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والواللہسے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے ‏لیےکیا آگے بھیجا۔
پھر ارشاد فرمایا: ’’ لوگ اپنے دینار، درہم، کپڑوں ، ایک صاع گندم، ایک صاع کھجوروں میں سے کچھ نہ کچھ صدقہ کریں اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ جنت نشان کو سننے کے بعد ایک انصاری صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک تھیلی لائے جس کےوزن کی وجہ سے ان کاہاتھ تھکنے والا تھا بلکہ تھک ہی چکا تھا۔اس کے بعد لوگ دھڑا دھڑ اپنے صدقات بارگاہِ رسالت میں پیش کرنے لگےیہاں تک کہ میں نے غلے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور میں نےدیکھا کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرۂ انورخوشی سےکُنْدَن (یعنی خالص سونے) کی طرح چمک رہا تھا۔پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے اسلام میں کوئی نیک اور اچھاطریقہ ایجاد کیا تواُسے اُس کا اَجر ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا اوراُن عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اُسے اس کاگناہ ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ملے گااور اُن عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ ‘‘

عَنْ اَبِي عَمْرٍو جَرِ یْرِ بْنِ عَبْدِاللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:كُنَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ اَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِمَا رَاَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ وَاَقَامَ، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: ( یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ) اِلَى آخِرِ الْآيَةِ: (اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا (۱) ) (پ۴، النساء:۱) وَالْآيَةُ الاُخْرَی الَّتِي فِي آخِرِالْحَشْرِ: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-) (پ۲۸، الحشر:۱۸) تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ:وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ‘‘ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَاَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَاَيْتُ وَجْهَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَهَلَّلُ كَاَ نَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ اَجْرُهَا، وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ. ( )
قَوْلُہُ ’’ مُجْتَابِی النِّمَارِ ‘‘ ہُوَ بِالْجِیْمِ وَبَعْدَ الْاَلِفِ بَاءٌمُوَحَّدَۃٌ.وَالنِّمَارُ:جَمْعُ نَمِرَ ۃٍ، وَہِیَ:کِسَاءٌمِنْ صُوْفٍ مُخَطَّطٌ، وَمَعْنَی ’’ مُجْتَابِیْہَا ‘‘ اَیْ لَا بِسِیْہَا قَدْ خَرَقُوْہَا فیِ رُؤُسِہِمْ. ’’ وَالْجَوْبُ ‘‘ الْقَطْعُ، وَمِنْہُ قَوْلُہُ تَعَالیٰ: (وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِﭪ (۹) ) (پ۳۰، الفجر:۹) اَیْ:نَحَتُوْہُ وَقَطَعُوْہُ.وَقَوْلُہُ ’’ تَمَعَّرَ ‘‘ ہُوَ بِالْعَیْنِ الْمُہْمَلَۃِ، اَیْ: تَغَیَّرَ. وَقَوْلُہُ: ’’ رَاَیْتُ کَوْمَیْنِ ‘‘ بِفَتْحِ الْکَافِ وَضَمِّہَا اَیْ:صُبْرَ تَیْنِ.وَقَوْلُہُ: ’’ کَاَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ ‘‘ ہُوَ بِالذَّالِ الْمُعْجَمَۃِ، وَفَتْحِ الْہَاءِ وَالْبَاءِ الْمُوَحَّدَۃِ. قَالَہُ الْقَاضِی عِیَاضٌ وَغَیْرُہُ. وَصَحَّفَہُ بَعْضُہُمْ فَقَالَ: ’’ مُدْہُنَۃٌ ‘‘ بِدَالٍ مُہْمَلَۃٍ وَضَمِ الْہَاءِ وَبِالنُّوْنِ، وَکَذَا ضَبَطَہُ الْحُمَیْدِیُّ، وَالصَّحِیْحُ الْمَشْہُوْرُ ہُوَ الْاَوَّلُ. وَالْمُرَادُ بِہِ عَلَی الْوَجْہَیْنِ: الصَّفَاءُ وَالْاِسْتِنَارَۃُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 171 ، باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا

:حضرتِ سَیِّدُناعبد اللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جسے بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہےتو حضرت سَیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامکے پہلے بیٹےکے حصے میں بھی اُس کاخون ہوتا ہے کیونکہ اُس نے سب سے پہلے قتل کو ایجاد کیا۔ ‘‘

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْاَ وَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِاَ نَّهُ كَانَ اَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 172 ، باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا