- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- حدیث نمبر 172
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْاَ وَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِاَ نَّهُ كَانَ اَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ. ( )
عن ابن مسعود رضي الله عنہ ان النبی صلى الله عليه وسلم قال: لیس من نفس تقتل ظلما الا کان على ابن آدم الا ول كفل من دمها لا نه كان اول من سن القتل. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُناعبد اللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جسے بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہےتو حضرت سَیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامکے پہلے بیٹےکے حصے میں بھی اُس کاخون ہوتا ہے کیونکہ اُس نے سب سے پہلے قتل کو ایجاد کیا۔ ‘‘
شرح حدیث
یہ حدیث قواعدِاِسلامِیَّہ میں سے ہے:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث قواعدِاِسلامیّہ میں سے ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جس کسی نے بھی کوئی بُری چیز اِیجاد کی تو اُس پر اُس کا گناہ ہے اورقیامت تک اُس عمل میں جو بھی اُس کی پیروی کرے گا اُس کا گناہ اُس ایجاد کرنے والے کے سر بھی ہوگا۔ اِسی طرح جس نے بھی کوئی اچھا عمل ایجاد کیا اُس کے لیے اُس کا اَجر وثواب ہے اور قیامت تک جو بھی اُس پرعمل کرےگااُس ایجاد کرنے والے کو بھی اُس کا ثواب ملےگا۔ ‘‘ ( )
¥ناحق قتل کی قرآن پاک میں مذمت:اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتاہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-(پ۶، المائدۃ:۳۲)ترجمۂ کنزالایمان:جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلا لیا۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس آیت مبارکہ کے تحت نورالعرفان میں فرماتے ہیں : ’’ ظلماً قتل بہت سے گناہوں کا باعث ہے کہ اسی قتل کی وجہ سے قابیل نبی زادہ ہونے کے باوجود ہلاک ہوا اور بنی اسرائیل نے بہت ناحق قتل کیے ۔ انبیائے کرام کو شہید کیا۔اس (آیت مبارکہ) سے معلوم ہوا کہ گناہ کا ایجاد کرنا زبردست گناہ ہے اور نیکی کا ایجاد کرنا زبردست نیکی ہے۔
اس سے اشارۃً بدعت سیئہ اور حسنہ کی تقسیم معلوم ہوئی کیونکہ مُوْجِدِ قتل کو تمام جہان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، ایسے ہی جو ایک جان کو بچائے اور پھر لوگ اس کی دیکھا دیکھی جانیں بچانا شروع کردیں تو ان سب کی نیکیوں میں اس مُوْجِد کا بھی حصہ ہوگا لہٰذا ہر نیک و بدکام کے اِیجاد کا یہی حال ہے۔ ‘‘ ( )
¥ناجائز کام میں مددکرنا بھی ناجائزہے:نیکی پر مدد کرنے والا نیک کام کرنے والے کی مثل اور بُرائی پر مدد کرنے والا بُرے کام کرنے والے کی مثل ہے۔چنانچہحَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث پاک اِس قاعدے کی اَصل ہےکہ حرام کام میں مددکرنابھی حرام ہے۔کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا: (وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-) (پ۶، المائدۃ:۲)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اورگناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ ‘‘ اور یقیناًنیکی پر مددکرنے والانیکی کرنے والے کی مثل اور برائی پر مدد کرنے والا بُرائی کرنے والے کی مثل ہے۔ ‘‘ ( )حضرت سَیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامکا پہلا بیٹا:مذکورہ حدیث پاک میں ’’ اِبنِ آدم ‘‘ کے ساتھ لفظ ’’ اَوَّل ‘‘ آیا ہے جس سے بعض شارحین نے اس بات پر استدلال کیا ہے یہ قتل کرنے والا حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَامکا سب سے پہلا بیٹا ہے، لیکن کئی شارحین ومفسرین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس بات کی تردیدکی ہے اور فرمایا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ پہلا بیٹا نہیں ہے بلکہ ان دونوں کا یہ واقعہ کئی اولادوں کے بعد ہوا تھا البتہ حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَامکا یہ وہ سب سے پہلا بیٹا ہے جس نے پہلا قتل کیا۔ ( )قاتل کا نام اور قتل کی جگہ:(1) حضرت سَیِّدُنَا آدمعَلَیْہِ السَّلَامکے جس بیٹے نے سب سے پہلے قتل کیا اس کے نام میں علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اختلاف ہے لیکن اکثر کے نزدیک درست یہی ہے کہ اس کا نام ’’ قابیل ‘‘ تھا۔ ( )
(2) جس جگہ یہ قتل ہوا اس مقام میں بھی علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اختلاف ہے لیکن علامہ بدر الدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَاعبد اللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ہابیل کو ہندمیں جبل نوذ پر قتل کیاگیا ہےاور یہی قول درست ہے۔ ‘‘ ( )
¥ہابیل وقابیل کاتفصیلی واقعہ:حضرت سَیِّدَتُنَا حوا ءعَلَیْہَا السَّلَامکے ہر حمل سے ایک بچہ اور ایک بچی پیدا ہوتی تھی سوائے حضرت سَیِّدُنَا شیثعَلَیْہِ السَّلَامکےکہ یہ تنہا پیدا ہوئے۔جب حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَامکودنیا میں تشریف لائے ہوئے سو100سال گزر چکے توقابیل اور اُس کی جڑواں بہن ’’ اقلیمہ ‘‘ پیدا ہوئے، اِن کے بعد ہابیل اور اُن کی جڑواں بہن ’’ لیوذا ‘‘ پیدا ہوئے۔بوجہ ضرورت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَامکی شریعت میں یہ جائز تھا کہ ایک حمل کے لڑکے کادوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کر دیا جاتا۔البتہ یہ جائز نہیں تھا کہ ایک ہی حمل سے پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا ایک ساتھ نکاح کیا جائے۔ جب یہ چاروں بالغ ہوگئے تو حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے چاہا کہ قابیل کا نکا ح لیوذا سے اور ہابیل کا نکاح اقلیمہ سے کردیں ۔قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی اس کی بہن اقلیمہ چونکہ بہت حسین وجمیل تھی، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ اقلیمہ سے اس کا نکا ح کردیا جائے حالانکہ یہ اُن کی شریعت میں جائز نہ تھا۔جب وہ اِس بات پر بضد ہوا تو حضرت سَیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامنے حکم دیا کہ دونوں اِس مسئلے کے حل کے لیے اپنی اپنی قربانی ربّعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں پیش کریں ، جس کی قربانی مقبول ہوگی اقلیمہ کا نکا ح اس کے ساتھ کردیا جائےگا۔
اُس دور میں یہی طریقہ رائج تھا اور جس کی قربانی ربّعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہوتی آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی اور اس کی قربانی کو کھاجاتی۔قابیل کاشت کارتھا اور ہابیل کے پاس بکریاں تھیں ۔قابیل نے سب سے ردی غلے کا ایک ڈھیرقربانی کے لیے پیش کیا اور اپنے دل میں سوچا کہ مجھے پرواہ نہیں میری طرف سے قبول ہو یا نہ ہو کیونکہ شرعاً تو ہابیل ہی میری بہن سے شادی کرے گا۔ہابیل نے ایک موٹا تازہ مینڈھا، دودھ اور مکھن قربانی کےلیے پیش کیا اور دل میں یہ سوچا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّجو فیصلہ فرمائے گا میں اس پر راضی ہوں ۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آسمان سے سفید آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کھا گئی، لہذا ہابیل سے قابیل کی بہن اقلیمہ کا نکاح ہوناطے پاگیا جو درحقیقت پہلے ہی طے تھا۔اِس سے قابیل کے دل میں ہابیل کی دشمنی پیدا ہوگئی یہاں تک کہ اس نے ہابیل کو قتل کر ڈالا۔حضرت سَیِّدُناعبد اللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ہابیل کا وہ مینڈھازندہ جنت میں اٹھا لیا گیا اور جنت ہی میں رہایہاں تک کہ حضرت سَیِّدُنا اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَامکی قربانی میں وہی مینڈھا فدیہ بنا۔ ( )ناحق قتل کرنےوالےقابیل کےپیروکارہیں :علّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَامکی اولاد میں سب سے پہلا قاتل قابیل ا ور سب سے پہلامقتول ہابیل ہے۔چونکہ قابیل وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا اب جو بھی اس کے بعد (ناحق) قتل کرے گا، وہ اس کی اقتداء کرنے والا ہوگا، اب چاہے وہ ایک واسطے سے قتل کرے یا کئی واسطوں سے۔ ‘‘ ( )
¥ایک اہم وضاحت:اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ پاک میں ارشاد فرماتاہے:وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ-(پ۲۲، فاطر:۱۸)ترجمۂ کنزالایمان: اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔
آیت مبارکہ کو پڑھنے کے بعد بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس آیت مبارکہ اور مذکورہ حدیث پاک میں تعارض ہے کہ ’’ آیت مبارکہ میں اِس بات کا بیان ہے کہ کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی جبکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ بُرا طریقہ ایجاد کرنے کے بعد جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی اس بُرا طریقہ ایجاد کرنے والے کو ملے گا۔ ‘‘ جبکہ حقیقتاً ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، آیت مبارکہ کا معنی یہ ہے کہ کل بروزِ قیامت کسی کی دوسرے کے گناہوں کے عوض پکڑ نہ کی جائے گی البتہ وہ لوگ اس حکم سے خارج ہیں جن کے سبب دیگر لوگ گمراہ ہوئے کہ ان کی دیگر لوگوں کوگمراہ کرنے کے سبب پکڑ کی جائے گی، جیسا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘-(پ۲۰، العنکبوت:۱۳)ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ۔
چنانچہ صدرالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیپارہ ۲۲، سورہ فاطر، آیت نمبر۲۲ کے تحت ’’ خزائن العرفان ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’ معنی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہو گا جو اس نے کیے ہیں اور کوئی جان کسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی البتہ جو گمراہ کرنے والے ہیں اُن کے گمراہ کرنے سے جو لوگ گمراہ ہوئے اُن کی تمام گمراہیوں کا بار ان گمراہوں پر بھی ہو گا اور ان گمراہ کرنے والوں پر بھی جیسا کہ کلامِ کریم میں ارشا دہوا: (وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘-) (پ۲۰، العنکبوت:۱۳) اور درحقیقت یہ اُن کی اپنی کمائی ہے دوسرے کی نہیں ۔ ‘‘
¥بُرا کام ایجاد کرنے والے کی مثال اورتوبہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک کے مضمون سے یہ واضح ہوا کہ جو شخص کسی بھی بُرے طریقے کو ایجاد کرے گا تو اُس بُرے طریقے کو اِیجاد کرنے والے اور اُس پرعمل کرنے والے کو اپنے اُس عمل کا تو گناہ ملے گا لیکن ساتھ ہی اُن تمام لوگوں کے عمل کا بھی اُسے گناہ ملے گا جو اس طریقے پر عمل کرکے گناہ میں مبتلا ہوئے۔مثلاً کوئی شخصمَعَاذَ اللہگانے باجے کی تباہ کاریوں میں ملوث تھا، اس نے اپنے گانوں کا ایک البم یا سی ڈی وغیرہ جاری کردی۔اب اس گانے والے کو تو اپنے اس گانے اور البم یا سی ڈی وغیرہ جاری کرنے کا گناہ ملے گا لیکن اُس البم یا سی ڈی وغیرہ کو جو جو لوگ سنتے رہیں گے اُن تمام کا گناہ بھی اسے ملتا رہے گا کیونکہ اُس بُرے کام کو اِسی نے ایجاد کیا۔اسی طرح اگر کوئی شخص کاروبار کے اندر دھوکہ فراڈ، چوری، خیانت وغیرہ کرتا ہے، لوگوں کو یہ تمام گناہ سکھاتا ہے اور دیگر لوگ بھی اُس سے سیکھ کر اِن تمام گناہوں میں ملوث ہوجاتے ہیں تو اِسے اپنے اِن تمام بُرے اعمال کا تو گناہ ملے گا لیکن جو لوگ اِس کے سکھانے کی وجہ سے اِن تمام گناہوں میں ملوث ہوئے اُن کو اُن کے عمل کا گناہ ملنے کے ساتھ ساتھ اِسےبھی اُن کا گناہ ملتا رہے گا۔
یہاں ایک اہم بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بُرا طریقہ اِیجاد کرنے والا یا جس کے سبب لوگ کسی بُرے طریقے پر عمل کرنا شروع کردیں ، اگر اُسے اپنے اُس بُرے عمل پر شرمندگی ہوئی، ندامت ہوئی اور اُس نے اُس بُرے طریقے یاعمل سے توبہ کرلی تو کیا اب بھی اُن لوگوں کا گناہ اُسے ملتا رہے گاجو لوگ اُس کے ایجاد کردہ بُرے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے؟ جی نہیں !اگر اُس شخص نے اپنے اُس برے عمل یا طریقے سے توبہ کرلی ، اُس پر ندامت اختیار کی، حتی المقدور اپنے اُس بُرے عمل کے خاتمے کی کوشش کی تو اب اُسے دیگر لوگوں کے عمل کا گناہ نہیں ملے گا کیونکہ کسی گناہ پر نادم ہونا اُس گناہ سے توبہ ہے اور کسی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ، لہذا اب جو لوگ اُس پر عمل کریں گے اُنہیں اپنے عمل کا گناہ ملے گا اِسے اُن کے عمل کا کوئی نقصان نہ ہوگااِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عُبَیْدَہ بنعبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہُیعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔ ‘‘ ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: ’’اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌیعنی ندامت توبہ ہے۔ ‘‘ ( )گلوکار کیسے سُدھرا۔۔۔؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گناہوں سے توبہ کرنے، اُن سے چھٹکارہ پانے کا ایک بہترین ذریعہ اچھی صحبت بھی ہے کہ صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، اچھی صحبت اچھا بنادیتی ہے اور بُری صحبت بُرا۔تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کامشکبار مدنی ماحول بھی اچھی صحبت فراہم کرتا ہے، اس مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر بے شمار ایسے لوگوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی جو اپنی سابقہ زندگی نہ صرف گناہوں میں گزار رہے تھے بلکہ اُن کے گناہوں بھرے بُرے طریقوں پر عمل کرکے دیگر لوگ بھی اپنی آخرت کو تباہ وبرباد کررہے تھے۔ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاِس کی برکت سے پابندسنت بننے، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا۔ترغیب کے لیے ایک بہار پیش خدمت ہے:
حیدرآباد دکن (ہند) کے 26 سالہ نوجوان کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ میں گناہوں کی پُرخار وادیوں میں بھٹک رہا تھا، عملی حالت بہت خراب تھیپڑوسیوں کو ستانا ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان سے جھگڑا کرنا، کلب کے بے ہودہ ماحول میں وقت بر باد کرنا، موڈلنگ کرنا، داڑھی منڈوانا، نت نئے فیشن اپنا نا اور گھر والوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا میری روز مرہ زندگی کا ایک حصہ بن چکاتھا۔ انہی عاداتِ بد کی وجہ سے پڑوسی اور اہلِ محلہ اپنے بچوں کو میری صحبت تو صحبت میرے سائے سے بھی دور رکھتے اور مجھے نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے، مگرمجھ پر ان کے اس برتاؤ کا کچھ اثر نہ ہوتا۔
ان تمام بری خصلتوں کے ساتھ ساتھ فنکاری اور گلوکاری کا بھوت ہر وقت میرے سر پر سوار رہتا اور اپنے اس مقصد میں کامیابی کے لیے تو میں رات دن تگ و دو کرتا رہتا، بالآخر مجھے کامیابیاں ملنے لگیں لہٰذا میں اسٹیج ڈراموں اور مختلف ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں اپنی مسحور کُن آواز سے لوگوں کو متأثر کرنے لگا۔ جب لوگ مجھے دادِ تحسین سے نوازتے تو میں خوشی سے پھولا نہ سماتا اور جس روز مجھے ’’ تیلگو ‘‘ فلم میں ہیرو کے ساتھ ایک فلمی رول ادا کرنے کا موقع ملا اس روز تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا کیونکہ یہ میرا برسوں پرانا خواب تھا جو اب شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ غرض روز بروز کی بڑھتی ہوئی شہرت نے مجھے اس قدر اندھا کر دیا تھا کہ میں انجامِ آخرت سے یکسر غافل ہوکر شب و روز گناہوں سے نامۂ اعمال سیاہ کر رہا تھا، مگر قربان جائیے دعوتِ اسلامی کے مشکبا ر مدنی ماحول پر کہ جس نے مجھ گنہگا ر و بدکار کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی سے بچا کر نیکی کی راہ پر گامزن کردیا۔ میری اصلاح کا سبب کچھ اس طرح بنا کہ ایک دن مدنی ماحول سے منسلک ایک اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہوگئی، انہوں نے نہایت گرم جوشی سے ملاقات کے بعد بڑی اپنائیت سے میری خیریت دریافت کی، ان کے اس اندازِ دل رُبائی نے مجھے متأثر کردیا یہی وجہ تھی کہ جب انہوں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی پر خلوص دعوت پیش کی تو میں انکار نہ کر سکا اور سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوگیا۔ وہاں متعدد اسلامی بھائیوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو سفید لباس میں ملبوس سروں پر سبز سبز عماموں کے تاج سجائے دیکھ کر میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی اور یہ سوچ کر اپنے آپ پر ندامت ہونے لگی کہ آخر یہ بھی تو میری طرح نوجوان ہیں مگر انہوں نے ’’ جوانی دیوانی ہوتی ہے ‘‘ کے مصداق میری طرح اپنی جوانی کے قیمتی لمحات کو نادانی والے کاموں میں برباد کرنے کے بجائے رضائے الٰہی کے حصول کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ خیر میں بھی ان عاشقانِ رسول کے قُر ب کی بر کتیں لوٹنے لگا۔ یہاں مجھے وہ قلبی سکون ملا جو آج سے پہلے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔
اجتماع کے اختتام پر ایک مبلغ دعوتِ اسلامی نے مجھ پر انفرادی کوشش کی تو ان کے ترغیب دلانے پر میں راہِ خدا میں مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ قافلے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور یوں میری زندگی میں ایک نمایاں تبدیلی آنے لگی مگر اس سب کے باوجود ابھی تک میرے دل و دماغ سے عالمی شہرت یافتہ گلوکار اور فنکا ر بننے کا خمار مکمل طور پر نہیں اترا تھا۔ ایک روز ایک مبلغ دعوتِ اسلامی نے مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بیان کی کیسٹ بنام ’’ مُردے کی بے بسی ‘‘ تحفۃً دی جسے سن کر مجھ پر رقت طا ری ہو گئی۔ میرے جسم کا رُواں رُواں کانپ اُٹھا، گناہوں پر ندامت کی وجہ سے میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور میری ہچکیاں بندھ گئیں ۔ موت کے مراحل میری نظروں میں گھومنے لگے اور مجھ پر یہ بات آشکار ہو گئی کہ عنقریب اس دنیا ئے فانی کی تمام تر آسائشیں چھوڑ کر مجھے بھی مرنا ہے اور گھپ اندھیری قبر میں اترنا ہے، دولت و شہرت نہ تو قبر و آخرت میں میرے کچھ کام آئے گی اور نہ ہی عذابِ نار کا حقدار بننے سے مجھے بچا پائے گی۔ یقیناً زندگی بھر کے کرتوتوں کا حساب میری گردن پر ہوگا، اگر گلوکا ری اور فنکاری کی حالت میں مر گیا تو میرا کیا بنے گا؟ میں نے اس بیان کو متعدد بار سنا مگر ہربا ر دل میں ایک مدنی انقلاب محسوس کیا بالآخر اس بیان کی برکت سے میں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہو کر غوث پاکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقکی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اس کے بعد بھی میں نے کئی مرتبہ یہ بیان سنالیکن جب جب سنتا میری آنکھوں سے آنسوجاری ہو جاتے۔ مجھ جیسا گناہگار جو کل تک نمازوں کی ادائیگی کے معاملے میں سستی کا شکا ر تھا، آج نہ صرف خود نمازی بن گیا تھا بلکہ دوسروں کو نمازیں پڑھانے والا بن گیا۔ مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفرمیرا معمول بن گیا۔ میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنّتوں پر عمل کا کچھ ایسا جذبہ ملا کہ میں نے اپنا چہرہ پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنّت (داڑھی شریف) سے مزیّن کرلیا۔ سر پر سبزعمامے شریف کا تاج سجا کر سفید مدنی لباس میں ملبوس رہنے لگا۔ میرے تمام گھر والے اور پڑوسی حیران تھے کہ آخر اسے کیا ہوگیا، اس کی زندگی میں اس قدر بڑی تبدلی کیسے رونما ہو گئی؟ مگر انہیں کیا خبر کہ یہ انقلابِ پُر اثر میرے پیر و مرشد امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے فیضانِ نظر کا کرشمہ تھا۔ تا دمِ تحریراَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّحیدرآباد (ہند) میں شہر مشاورت کے رکن کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی ترقی کے لیے کوشاں ہوں ۔ ( )
آتش میں نہ جلوں گافردوس میں رہوں گا
جاؤں گا خلد کہہ کر عطار رہنما ہیں
¥مدنی گلدستہ
خواجہ غریب نواز کی چھٹی شریف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھولاس حدیث پاک میں اسلام کا ایک بہت بڑا قاعدہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جوکوئی بھی اچھا یا برا ایسا عمل ایجاد کرے جس کی لوگ اتباع کریں ، اس پر عمل کریں تو ان کے عمل کی اچھی یا بری جزا میں وہ شخص بھی شریک ہوگا جس نے وہ کام سب سے پہلے کیا ہوگا۔
(1) قتل ناحق اور ظلماً قتل کی اسلام میں بہت مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر فرمایا گیا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کا اس سے بچنا لازم وضروری ہے۔
(2) سب سے پہلا قتل ناحق چونکہ قابیل نے کیا تھا اس لیے اب قیامت تک جو بھی ناحق قتل ہوتے رہیں گے ان سب کے گناہ میں قابیل کا بھی حصہ ہوگا۔
(3) جس طرح جائزکام میں مدد کرنا جائز اور شرعاً مطلوب ہے اسی طرح ناجائز کام میں مدد کرنا بھی ناجائز اور شرعاً مذموم یعنی قابل مذمت ہے۔
(4) بُراکام ایجاد کرنے والا اگر بعد میں اس بُرے کام سے سچی توبہ کرلے تو اب اس بُرے کام پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں وہ شریک نہ ہوگا کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔
(5) اس حدیث مبارکہ میں ہمارے لیے بے شمار عبرت کے مدنی پھول ہیں کہ ہمیں کسی بھی برے کام کو ایجاد کرنے یا رواج دینے سے بچنا چاہیے کہ اس میں دنیا وآخرت دونوں کا نقصان ہے، نیز برے طریقوں سے بچتے ہوئے انہیں ختم کرنااور اچھے طریقوں کو ایجاد کرنا اور مسلمانوں میں رائج کرنا ایک اچھا عمل ہے۔یااللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی تمام برے طریقوں سے نجات عطا فرما ، اچھے طریقوں پر چلنے کی توفیق عطا فرما، حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کا عامل بنا، ہمیں نیک پرہیزگار، ماں باپ کا فرمانبردار، نمازی ، سنتوں کا پابند اور سچا پکا عاشق رسول بنا، ہماری ہمارے ماں باپ اور ساری اُمَّت مسلمہ کی مغفرت فرما، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرما۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 172