Main Icon

باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 762

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنِ اخْتِنَاثِ الْاَسْقِيَةِ. يَعْنِى:اَنْ تُكسَرَ اَفْوَاهُهَا وَيُشْرَبُ مِنْهَا.

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اختناث الاسقية. يعنى:ان تكسر افواهها ويشرب منها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مشکوں کے مونہوں کو موڑنے سے منع فرمایا۔(امام زہریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:)یعنی (اس بات سے کہ)مشکوں کےمونہوں کو موڑ کر اِن سے پانی پیا جائے۔

شرح حدیث

بغیرمنہ موڑے پینا بھی منع ہے:حدیث کے الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشکوں کے منہ موڑ کر پانی پینا منع ہے اور بغیر منہ موڑے اُن سے منہ لگا کر پانی پی سکتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ بہر صورت ایسا کرنا منع ہے۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاِرشاد فرماتے ہیں:’’یہ نہی مُطْلق ہے اگرچہ حدیث میں منہ موڑ کر پینے کی قید ہے۔‘‘منع کرنے کی حکمتیں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: اِس ممانعت میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ممکن ہے کہ مشکیزے میں کوئی زہریلا کیڑا ہو جو اس طرح پینے سے منہ کے ذریعے پیٹ میں چلا جائے،ممکن ہے کہ مشکیزے کا منہ چوڑا ہو، پانی زیادہ گرے، کپڑے بھیگ جائیں(اور پانی کا اِسراف ہو)نیز پھر مشکیزہ کا پانی اِستنجے کے قابل نہ رہے کیونکہ پس خوردہ (جھوٹے) پانی سے استنجا کرنا منع ہے۔ جن روایات میں ہے کہ حضور اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مشکیزے کے منہ سے پانی پیا وہاں مشکیزہ چھوٹا تھا اور اُس کا منہ بہت چوڑا نہ تھا اور خبر تھی کہ پانی صاف ہے لہٰذا یہ حدیث اُس سے مُتعارض نہیں یا وہ حدیث بیانِ جواز کے لیے ہے اوریہ حدیث بیانِ اِستحباب کے لیے۔ مِرقات میں اِس جگہ ہے کہ ایک شخص نے بطورِ آزمائش مشکیزے کے منہ سے پانی پیا تو اُس کے منہ میں سانپ چلا گیا یا مقصد یہ ہے کہ اِس طرح ہمیشہ پینا ممنوع ہےکبھی اتفاقًا پی لیناجائزہے۔اورالنہایہ وحاشیہ سُنن اِبنِ ماجہ میں ہے کہ اِس طرح پیتے رہنے سے مشکیزے کا منہ گندہ اور بدبودار ہو جاتا ہے جس سے دوسرے مسلمان کو اَذِیَّت ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 762