Main Icon

باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 764

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ ثَابِتٍ كَبْشَةَ بِنْتِ ثَابتٍ اُخْتِ حَسَّانَ بْنِ ثابتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ اِلٰى فِيهَا فَقطَعْتُهُ.

عن ام ثابت كبشة بنت ثابت اخت حسان بن ثابت رضي الله عنه وعنها قالت: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فشرب من في قربة معلقة قائما فقمت الى فيها فقطعته.

حدیث ترجمہ

حضرت حسان بن ثابترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی بہن حضرت سَیِّدتُنا اُمِّ ثابت کبشہ بنتِ ثابترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے یہاں تشریف لائے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے منہ سے کھڑے کھڑے پانی نوش فرمایا۔ پھر میں مشکیزے کی طرف اُٹھ کھڑی ہوئی اور اس کا منہ (تبرکاً) کاٹ لیا۔

شرح حدیث

برکت والی جگہ کی حفاظت:اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: اُس صحابیہ نے اِس وجہ سے مشکیزے کا منہ کاٹا تھا تاکہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دہنِ اَقدس لگنے کی جگہ محفوظ رکھ سکیں اور اس سے برکت حاصل کریں اور اسے ضائع ہونے سے بچائیں۔ یہ حدیث(مشکیزے سے منہ لگا کر اور کھڑے کھڑے پینے کے)بیانِ جواز پر محمول ہے اور سابقہ دو حدیثیں (جن میں نہی وارد ہے) بیانِ افضل و اَکمل پرمحمول ہیں۔ایمان کی نشانی:علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْھَادِیمذکورہ حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اس سے پتا چلتا ہے کہ حضرات صحابہ و صحابیاترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْکو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کتنی والہانہ اور عاشقانہ محبت تھی کہ جس چیز کو بھی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے تعلق ہوجاتا تھا وہ چیز ان کی نظروں میں باعثِ تعظیم اور لائقِ احترام ہو جایا کرتی تھی کیوں نہ ہوکہ یہی ایمان کی نشانی ہے کہ مسلمان نہ صرف حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات سے محبت کرے بلکہ حضور کی ہر ہر چیز سے بھی محبت کرے اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر چیز کو اپنے لئے قابلِ تعظیم جانے اور اس کا ایمانی محبت کے ساتھ اعزاز واکرام کرے۔‘‘کھڑے کھڑے پانی پینا مکروہِ تنزیہی ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:مشکیزے کے منہ سے پانی پینےاور کھڑے کھڑے پانی پینے پر جو نہی وارد ہوئی ہے وہ کراہتِ تنزیہہ کے لئے ہے نہ کہ تحریم کے لئے یا یہ بیان کرنے کے لئے کہ اُس وقت اِسی طرح پینا ممکن تھا۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اس سے معلوم ہوا کہ مشکیزے سے منہ لگا کر پینا اور کھڑے کھڑے پینا دونوں جائز ہیں۔جہاں ممانعت آئی وہاں ممانعت تنزیہی یا خلافِ اَولیٰ مراد ہے۔حتی الامکان بیٹھ کر ہی پینا چاہئے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:اگر یہ کہا جائےکہ ان اَحادیث میں جوکہ مشکیزے سے منہ لگا کر پینے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں اور وہ احادیث جو کہ منع پر دلالت کرتی ہیں ان میں کس طرح جمع وتطبیق ممکن ہے؟ تو اس کے جواب میں ہمارے شیخ نے فرمایا ہے کہ ان دونوں میں یہ فرق کیا جائےمثلاً مشک لٹکی ہوئی ہو اور جس کو پانی پینے کی ضرورت ہو وہاں کوئی ایسا برتن نہ ہو جس میں پانی ڈال کر وہ پی سکے اور وہ اپنے ہاتھ میں مشک کا پانی لے کر پینے پر قادر بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں مشک کے منہ سے پانی پینا جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں ہےلہٰذا جن احادیث میں جواز ہے وہ اسی صورت پر محمول ہیں اور جب کوئی عذر نہ ہو تو پھر ممانعت کی احادیث پر عمل کیا جائے ۔یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ جواحادیث مشک کےمنہ سے پانی پینے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ان میںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافعل بیان کیا گیا اور جن احادیث میں ممانعت کی گئی ہے ان میںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قول بیان کیا گیا ہےاور رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قول فعل پر راجح ہوتا ہے۔مشکیزے کا منہ کاٹنے کی وجہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:مشکیزے کے منہ کا چمڑا جسےحضورِاَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لب لگے تھے اُن صحابیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے کاٹ کر رکھ لیا۔ کیوں؟ اِس کی تین وجہ ہیں: *ایک شفا کے لئےتا کہ مدینہ کے بیماروں کو اس چمڑہ کو ڈبوکر پانی پلایا کروں۔*تبرک کے لئے کہ اپنے پاس برکت کے لئے رکھ لیا اور* اس لئے کہ کسی اور کا منہ اُسے نہ لگے کہ یہ بے ادبی ہے اسے حضور کا منہ شریف لگا ہے۔ترمذی نے حضرت اُمِّ سلیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکایہ ہی واقعہ نقل فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو مقبول بندوں کا منہ لگ جائے وہ شفا بن جاتی ہے۔یوسفعَلَیْہِ السَّلَامکی قمیض حضرت یعقوبعَلَیْہِ السَّلَامکی آنکھ کی شفا بن گئی جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کے جسم شریف سے لگی ہوئی چیز سے برکت لینا جائز ہے، وہ متبرک ہے۔مدنی گلدستہ’’قرآنِ پاک‘‘کے7حروف کی نِسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(26) مشک، صراحی، مٹکے اور ٹونٹی وغیرہ سے منہ لگا کر پینا منع ہے۔
(27) بلا عذر کھڑےہوکر پانی نہیں پینا چاہیے ۔
(28) جھوٹے پانی سے استنجا ءکرنا منع ہے۔
(29) اسلام صفائی وستھرائی کا درس دیتا ہے۔
(30) جن اشیاءکو
اللّٰہوالوں سے نسبت ہوجائے وہ بابرکت ہوتی ہیں، ان کی حفاظت کرناسنتِ صحابہ ہے۔
(31) جس چیز کو مقبول بندوں کا منہ لگ جائے وہ شفا بن جاتی ہے۔
(32) حضور
عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُکے اَفعال کو اپنے افعال جیسا نہ سمجھا جائے ان میں بہت سی حکمتیں ہوتی ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اداؤں کو اَپنانے اورپانی پینے کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 764