Main Icon

باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 763

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:نَهٰى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اَن يُشْرَبَ مِنْ فِيِّ السِّقاءِ اَوِ الْقِرْبَةِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يشرب من في السقاء او القربة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہُریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بات سے منع فرمایا کہ مشک کے منہ سےپیا جائے(راوی کوشک ہے کہ حدیث میںسِقَاءفرمایا یاقِرْبَہ

شرح حدیث

قِرْبَہاورسِقَاءدونوں مَشک کے نام ہیں، ان میں فرق یہ ہے کہقِرْبَہاُس مَشک کو کہتے ہیں جو صِرف پانی کے لئے ہوتی ہے جبکہسِقاءوہ مَشک ہےجو دودھ اور پانی دونوں کےلیے ہوتی ہے۔صُراحی سے منہ لگاکر پینے کی ممانعت وحکمت:اس حدیث سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مشکیزوں کے منہ موڑ کر پانی پینے پر جو نہی وارد ہوئی ہے وہ عام ہے یعنی چاہے ایسی چیز سے منہ لگا کر پانی پئے جس کا منہ موڑا جاسکے یاایسی چیز سےجس کا منہ موڑا نہ جاسکےجیسے کہ مٹی کے وہ برتن (صراحی، مٹکا وغیرہ) جو آگ میں پکائے جاتے ہیں۔ بہر صورت منہ لگا کر پینا منع ہے۔ علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’صُراحی کے منہ سے منہ لگا کر ہر گز کبھی پانی نہ پیو کیونکہ اَوَّلاً تو یہ خلافِ تہذیب ہے دوسرے یہ خطرہ ہے کہ صراحی میں کوئی کیڑا مکوڑا چھپا ہو اور وہ پانی کے ساتھ پیٹ میں چلا جائے۔‘‘
عمدۃ القاری میں ہے:
اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے فرمایا ہے کہ فقہاء کا اس پر اتفاق ہے مشک کے منہ سے پینے کی ممانعت کراہتِ تنزیہی کےلئے ہے تحریمی کے لئے نہیں۔اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکے اتفاق کے دعویٰ پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ امام ابو بکر اثرمرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا ہے:ممانعت کی اَحادیث جواز کی اَحادیث کے لئے ناسخ ہیں کیونکہ صحابہ پہلے مشک کے منہ سے پانی پیتے تھے حتّٰی کہ چھوٹا ساسانپ کسی شخص کے پیٹ میں چلا گیا جس نے مشک کے منہ سے پانی پیا تھاتو پھر یہ جواز منسوخ کردیا گیا۔ ممانعت کی یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص مشک کے منہ سے پئے گا وہ اِس بات سے بے خوف وخطر نہیں ہوگا کہ پانی کے ساتھ حشراتُ الارض (کیڑے مکوڑوں)میں سے کوئی چیز مشک کےاندر ہو اور وہ پینے والے کے منہ کے ذریعے اُس کے پیٹ میں چلی جائے۔اِسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ جس آدمی نے خود مشک میں پانی بھرا ہو اوروہ یہ دیکھ رہا ہو کہ مشک کے اندر صرف پانی ہی گیا ہےاور پھر وہ مشک کے منہ کو ڈوری سے باندھ دے پھر جب اس کو ضرورت ہو تو وہ مشک کے منہ سے پی لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اب یہ خطرہ نہیں ہے کہ کوئی کیڑا وغیرہ اُس کے منہ میں چلا جائےاور اِس صورت کو حدیث کی ممانعت شامل نہیں اور اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے ایک روایت میں یوں ہے کہ ’’نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مشکیزے کومنہ لگا کرپینےسے منع فرمایا ۔‘‘کیونکہ اس سےمشکیزے کا منہ بدبودار ہوجائے گا،یہ ممانعت عام ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشکیزے کو منہ لگا کر پینے سے بسااوقات حاجت سے زائد پانی منہ میں چلا جاتا ہے تو بندہ اس بات سے محفوظ نہیں رہ پائے گا کہ پانی اس کے حلق میں پھنس جائے یا پانی باہر گرنے سےاس کے کپڑے آلودہ ہوجائیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشکیزے کو منہ لگا کر پانی زور سے کھینچنے سے بسااوقات دل کے قریب کمزورنسیں کٹ جاتی ہیں جو بسااوقات ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔پانی پینے کے چند آداب:(1)بیٹھ کر (2)بِسْمِ اللّٰہپڑھ کر (3)اُجالے میں دیکھ کر (4)چوس کر (5)تین سانس میں پیئیں(6) پینے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہکہیں (7) بچا ہوا پانی مت پھینکیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 763