Main Icon

باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 704

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِذَااُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَاْتُوْهَا وَاَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَاْتُوْهَا وَاَنْتُمْ تَمْشُوْنَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِيْنَةُ فَمَا اَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوْاوَمَافَاتَكُمْ فَاَتِمُّوا. زَادَ مُسْلِمٌ فِيْ رِوَايَةٍ لَهُ: فَاِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا كَانَ يَعْمِدُ اِلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ فِيْ صَلَاةٍ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:اذااقيمت الصلاة فلا تاتوها وانتم تسعون واتوها وانتم تمشون وعليكم السكينة فما ادركتم فصلواومافاتكم فاتموا. زاد مسلم في رواية له: فان احدكم اذا كان يعمد الى الصلاة فهو في صلاة.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابوہُرَیرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سنا :’’جب اِقامت کہی جائے تونَماز کے لیے دوڑتے ہوئے مَت آؤ بلکہ اِطمینان کے ساتھ چل کر آؤ اور جو رکعتیں (جماعت کے ساتھ) مل جائیں اُنہیں پڑھ لو اور جو رہ جائیں انہیں (تنہا) پوری کرلو۔“ اور مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”کیونکہ جب تم میں سے کوئی نَماز کا اِرادہ کرلیتا ہے تو اس وَقت سے وہ نَماز میں ہوتا ہے۔“

شرح حدیث

تیز چلنے سے منع کرنے کی حکمت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:حدیث شریف میں اِقامت کا ذِکر اِس لیے کیا گیا تاکہ اِقامت کے علاوہ پر بھی تَنْبِیْہ ہوجائے کیونکہ جب نَماز کا کچھ حصہ چُھوٹ جانے کے اَندیشے کے باوُجود اِقامت کے وَقْت تیز چل کر آنے سے مَنْع کردیا گیا تو اِقامت سے پہلے تیزآنا بَدَرَجہ اَولیٰ مَمنُوع ہوگا اور ایک قول کے مُطابِق اِقامت کے وَقْت تیز چل کر آنےسے اِس لیے مَنْع کیا گیاکہ جب اِقامت ہورہی ہوگی توتیز آنے والانَماز میں اِس حالت میں داخل ہوگاکہ دوڑنے کی وجہ سے اس کا سانس پُھول رہا ہوگاتو اَیسی حالت میں اسے کامِل خشوع حاصل نہیں ہوگا اِس کے بَرْعکس اگر وہ اِقامت سے پہلے آئے گا تو اِقامت شُروع ہونے سے پہلے اُسے آرام مِل جائے گا۔(آگے چل کر مزید فرماتے ہیں:)نَماز کے لیے تیز چل کر آنااِس لیے ممنوع ہے کہ یہ خُشُوع کے مُنافی ہے اورتیز نہ چلنےسے قَدَم زِیادہ بنتے ہیں اور یہ عمل پسندیدہ اور شریعت کو مَطلوب ہے کہ(نَماز کے لیے باوُضو ہو کر جانے میں)ہر قَدَم پر ایک دَرَجہ بلند ہوتاہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی جماعت کے لئے گھبرا کردوڑتے نہ آؤ کہ اِس میں گِرجانے،چوٹ کھانے کا اَندیشہ ہے۔(نیز فرماتے ہیں:)اِس سے چند مَسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت میں شامل ہونے کے لئے سُکون سے آنامُسْتَحَب ہے،دوڑنا مُسْتَحَب کےخِلاف ہےحرام نہیں۔دُوسرے یہ کہ آخِری جُزْو مِل جانے سے جماعت مل جاتی ہے،لہٰذا جو نَمازِجمعہ کی التحیات میں مِل جائے وہ جمُعہ پڑھے۔تیسرے یہ کہ جس رَکْعَت میں مُقْتَدِی مِلے وہ تعداد کے لِحاظ سے رَکْعتِ اَوَّل ہے اورقِرَاءَت کے لِحاظ سے رَکْعَتِ آخِری۔(اِس حصّۂ حدیث’’جب تم میں سے کوئی نَماز کا اِرادہ کرلیتا ہے تو اُس وَقْت سے وہ نَماز میں ہوتا ہے ‘‘کے تحت فرماتے ہیں:)یعنی جب سے وہ نَماز کے اِرادے سے گھر سے چلا اُسے نَماز کا ثواب مل رہا ہے پھرجلدی کیوں کرتا ہے،کیوں گِرتا اورچوٹ کھاتا ہے،اِطمینان سے آئے جو پائے اُس کو ادا کرے۔خیال رہے کہ اگرتکبیرِاُولیٰ یارُکوع پانے کے لئے قَدرے تیزی سے آئے مگر نہ اِتنی کہ چوٹ لگنے گِرنے کا اَندیشہ ہوتومُضائقہ نہیں ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 704