Main Icon

باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 705

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَااَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًاشَدِيْدًاوَضَرْبًاوَصَوْتًا لِلْاِبِلِ فَاَشَارَ بِسَوْطِهِ اِلَيْهِمْ وَقَالَ:اَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِيْنَةِ فَاِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بالْاِيْضَاعِ.

عن ابن عباس رضي الله عنهماانه دفع مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم عرفة فسمع النبي صلى الله عليه وسلم وراءه زجراشديداوضرباوصوتا للابل فاشار بسوطه اليهم وقال:ايها الناس عليكم بالسكينة فان البر ليس بالايضاع.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَرْوِی ہے کہ وہ عَرفہ کے دن نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ(مَیدانِ عَرَفات سے مُزْدَلِفَہ کے لیے)نکلے،نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے پیچھے اونٹوں کو سخْت ڈَانٹ ڈَپٹ کرنےاور مارنے کی آواز سُنی توآپ نے اپنے چابُک سے لوگوں کی طرف اِشارہ کیا اور فرمایا:اے لوگو! اِطمینان وسُکون اِخْتِیار کروکیونکہ سُواری تیز دوڑانانیکی نہیں ہے۔

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت:میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!اِس حدیث شریف میں ہے کہ مَیدانِ عَرَفات سے مُزْدَلِفَہ کی طرف رَوانہ ہوتے وَقت سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِطمینان وسُکون اِختیار کرنے کا حکم اِرشادفرمایااور مُزْدَلِفَہ کی طرف رَخْتِ سفر عبادت کی اَدائیگی کے لیے باندھا جاتا ہےکہ مُزْدَلِفَہ میں رات گُزارنا سُنَّتِ مُؤکَّدَہ ہے اور اِس میں ٹھہرناواجِب ہے۔معلوم ہوا کہ جب آدمی عبادت کی جگہوں کی طرف جائے تو جلدی جلدی نہ جائے بلکہ سُکون و اِطمینان کے ساتھ جائےاور رِیاضُ الصَّالِحین کا یہ باب بھی چونکہ عبادت کے لیے سُکون اور وَقَار کے ساتھ جانے کے بارے میں ہے اِسی وجہ سےاِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِییہ حدیثِ مُبارَکہ اِس باب میں لے کر آئے۔
علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سید عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو آہستہ چلنے کی تعلیم دی اور کَوڑے سے اشارہ کرکے آہستہ چلنے کی تلقین فرمائی یعنی عرفات سے باہر نکلتے وقت بے تحاشہ نہ بھاگیں اور نہ ہی اونٹوں کو دوڑائیں کیونکہ اونٹ دوڑانا کوئی اچھا کام نہیں اس سے نقصان کا ڈر ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’مُزْدَلِفَہ‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیث مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) گھر سےنَماز کے اِرادے سے نکلتے ہی نَماز کا ثواب مِلنا شُروع ہوجاتا ہے۔
(2) نَماز وغیرہ عبادات اورعِلم کی مَحافِل میں شِرکت کے لیے دوڑتے ہوئے نہیں بلکہ اِطمینان سے آنا چاہئے کہ یہ مُسْتَحب ہے۔
(3) نَماز کے لیےاِطمینان کے ساتھ آنے میں قَدَم زِیادہ بنتے ہیں اورجتنے قدم زِیادہ ہوں گے اُتنے ہی دَرَجات زِیادہ بلندہوں گے۔
(4) گھبرا کر دوڑتے ہوئے آنے کی صُورت میں پاؤں پھسلنے، گِرنےاورچوٹ لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔
(5) تکبیرِ اُولیٰ پانے کے لیے قدر ےتیزی سے آنا جس میں چوٹ لگنے وغیرہ کا خطرہ نہ ہو تو اِس میں حَرَج نہیں۔
(6) کوشش کرکے جلد ہی گھر سے نِکلا جائے تاکہ عبادت شروع ہونے سے پہلے وہاں پہنچ کر آرام حاصل ہوجائے اور عبادت میں خُشُوع وخُضُوع کے ساتھ داخِل ہواجاسکے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں عبادت کی جگہوں میں سُکون و وَقَار کے ساتھ جانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 705