Main Icon

باب:وضو کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1024

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :اِنَّ اُمَّتِيْ يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِيْنَ مِنْ آ ثَارِالْوُضُوْ ءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ اَنْ يُّطِيْلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ.

عن ابی ہریرۃ رضي الله عنه قال: سمعت رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم يقول :ان امتي يدعون يوم القيامة غرا محجلين من ا ثارالوضو ء فمن استطاع منكم ان يطيل غرته فليفعل.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :”قیامت کے دن میری اُمَّت اس حال میں بلائی جائےگی کہ ان کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں وضو کے اَثرات سے چمک رہے ہوں گےلہٰذا تم میں سے جس سے ہوسکے چمک زیادہ کرے۔“

شرح حدیث

اِس اُمَّت کی خصوصیت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:جن کیپیشانی اور ہاتھ پاؤں وضو کے اثرات سے چمک رہے ہوں گے اُنہیں قیامت کے دن یوں پکارا جائے گا :”اے چمکتے اعضاء والوں جنت کی طرف چلو۔“ ایک قول یہ ہے کہ انہیں سب لوگوں کے سامنےیا محشر کی جانب یا جنت کی طرف اس حال میں بلایا جائے گا کہ ان کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:وضو کا پانی جن اعضاء کو پہنچتا رہا تھا وہاں تک ان کے اعضاء سفید ہوں گے اسی لئے ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکندھوں تک ہاتھ دھویا کرتے تھے تاکہ غُرّہ (چمک)زیادہ ہو۔علما کہتے ہیں وضو کے مواضع(یعنی اعضائے وضو)پر جو نور ہوگا اس کو قیامت کے دن غرہ کہا جائے گا اور یہ صرف اِس اُمَّت کی خصوصیت ہے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:وضو اِس اُمَّت کی خاصیت نہیں ہے بلکہ وضو کے سبب قیامت دن جوپیشانی اور ہاتھ پاؤں پر چمک پیدا ہوگی وہ اِس اُمَّت کی خاصیت ہے اور یہ خاصیت اس کے لئے ہے جو وضو کرتا ہے ۔چنانچہ صحیح ابنِ حبان میں ہے:بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی :یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ اپنی امت میں سے اُسے کیسے پہچانیں گے جسے آپ نے نہیں دیکھا؟ارشاد فرمایا:آثار وضو کے سبب چہرے اور ہاتھ پاؤں کی چمک سے۔چمک زیادہ کرنے سے مراد:”تم میں سے جس سے ہوسکے چمک زیادہ کرے“اس کی وضاحت کرتے ہوئے فقیہِ اعظم، حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مراد یہ ہے کہ جہاں تک اعضاء کے دھونے کا حکم ہے اس سے زیادہ دھوئے مثلاً کہنیوں تک ہاتھ دھونے کا حکم ہے تو کندھوں تک دھوئے، ٹخنوں تک پاؤں دھونے کا حکم ہے تو پنڈلی بھی دھولے نیز یہ بھی احتمال ہے کہ ہر نماز کے لئے وضو کرے جس کے نتیجے میں قیامت کے دن اس کی نورانیت کی شعائیں دور تک پہنچے۔‘‘حدیث سے ماخوذ چند مسائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِینےعمدۃ القاری میں مذکورہ حدیثِ پاک سے ماخوذ کچھ مسائل اور فوائد ذکرکئے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:(1)با وضو رہنا، وضو کی سنتوں کا خیال رکھنا اور ہر ہر عضو کو اچھی طرح دھونا مستحب ہے۔(2)اﷲ عَزَّ وَجَلَّوضو کرنے والوں پر فضل وکرم فرمائے گا(کہ ان کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے)۔(3)یہ حدیث اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ وضو میں پیروں کو دھونا فرض ہے ان پر مسح کرنا کافی نہیں۔(4)اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مستقبل میں ہونے والی غیب کی وہ خبریں بتائیں جو کسی اور نبیعَلَیْہِ السَّلَامکو نہیں بتائیں۔ (5)اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو مرنے کے بعد اٹھایابھی جائے گا۔مدنی گلدستہ’’وضو ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(7) قیامت کے دن وضو کرنے والوں کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔
(8) بروز ِ قیامت وضو کے سبب پیشانی اور ہاتھ پاؤں کی چمک اِس اُمَّت کی خاصیت ہے۔
(9)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے حبیبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بہت سے ایسے غیوب کا علم عطا فرمایا جو دیگر انبیاعَلَیْہِمُ السَّلَامکو عطا نہ کیا۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں سنت کے مطابق وضو کرنے کی توفیق عطا فرمائے اورہمیں قیامت کے دن اس کی فضیلت سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
α صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1024