Main Icon

باب:وضو کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1027

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُثْمَانَ بنِ عَفَّانَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: رَاَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّاَ مِثْلَ وُضُوْئیِ هٰذَا ثُمَّ قَالَ :مَنْ تَوَضَّاَ هٰكَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَكَانَتْ صَلَاتُهُ وَمَشْيُهُ اِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً.

عن عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا مثل وضوئی هذا ثم قال :من توضا هكذا غفر له ما تقدم من ذنبه وكانت صلاته ومشيه الى المسجد نافلة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے جس طرح میں نے وضو کیا پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے اِس طرح وضو کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ پھر اُس کی نماز اور مسجد کی طرف چلنا مزید ثواب کا باعث ہیں۔“

شرح حدیث

مکمل حدیثِ پاک:اِمَام اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے یہاں مکمل حدیثِ پاک بیان نہیں فرمائی، مکمل حدیث پاک یہ ہے: حضرت سَیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے غلام حضرت حمرانرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہروایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمانِ غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے وضو کیا تو ہاتھوں پر تین بار پانی بہایا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا پھرتین بارچہرہ دھویا، پھرسیدھا ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھرالٹا ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر سر کا مسح کیا، پھرسیدھا پھر اُلٹا پاؤں تین تین بار دھویا، پھر فرمایا کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ آپ نے میرے وضو کی طرح وضو کیا۔جن کے گناہ نہیں اُن کے درجات بلند ہوتے ہیں:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:ایک حدیث میں ہے کہ ”پانچوں نمازیں ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔“ ایک حدیث میں ہے: ”پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے جبکہ کبیرہ گناہ سے بچا جائے۔“ یہاں ایک اعتراض ہوتا ہے کہ جب وضو سے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو پھر نماز کون سے گناہوں کا کفارہ ہوگی؟ اور اگر پانچوں نمازوں سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو جمعہ کون سے گناہوں کا کفارہ ہوگا؟اور رمضان سے کون سے گناہ معاف ہوں گے؟ اسی طرح یومِ عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے، عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور ایک روایت میں ہے کہ” جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مِل گئی تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“تو ان اعمال سے کون سے گناہ معاف ہوں گے؟اس کا جواب جو علمائے کرام نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک عمل گناہوں کا کفارہ ہے لہٰذا جب بھی صغیرہ گناہوں کا کفارہ بننے والا کوئی عمل پایا جائے گا تو اس سے صغیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے اور اگر بندے کےنامہ اعمال میں کوئی گناہ نہ ہو تو پھر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی اور درجات بلند کئے جاتے ہیں ۔اسی طرح اگر بندے کے نامہ اعمال میں صغیرہ گناہ نہ ہوں لیکن کبیرہ گناہ ہوں تو ہمیںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے امید ہے کہ وہ اس کے کبیرہ گناہوں میں تخفیف فرمائےگا۔”نماز اور مسجد کی طرف چلنا مزید ثواب کا باعث ہیں۔“اس کی وضاحت کرتے ہوئےحَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”مطلب یہ ہے کہ گناہوں سے معافی تو وضو میں ہوچکی اب یہ اعمال معافی گناہ پر زائد ہیں جن سے آیندہ کے گناہ معاف ہوں گے یا درجات بلند ہوں گے۔“مدنی گلدستہ’’وضو‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) وضو ،پانچوں نمازیں،جمعہ،رمضان،یوم عرفہ او ر عاشورہ کا روزہ گناہوں کا کفارہ ہیں۔
(2) جن اعمال سے گناہ معاف ہوتے ہیں اگر کسی کے گناہ نہ ہوں تو وہ اعمال درجات کی بلندی کا سبب بن جاتے ہیں ۔
(3) جس کے صغیرہ گناہ نہ ہوں اور کبیرہ گناہ ہوں تو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے امید ہے کہ وہ وضو کے سبب اس کے کبیرہ گناہوں میں تخفیف فرمادے گا۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے اور ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1027