باب:وضو کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :”قیامت کے دن میری اُمَّت اس حال میں بلائی جائےگی کہ ان کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں وضو کے اَثرات سے چمک رہے ہوں گےلہٰذا تم میں سے جس سے ہوسکے چمک زیادہ کرے۔“

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :اِنَّ اُمَّتِيْ يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِيْنَ مِنْ آ ثَارِالْوُضُوْ ءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ اَنْ يُّطِيْلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1024 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے اپنے حبیبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے:” مؤمن کا زیور وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔“

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوْ ءُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1025 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا تو اُس کے جسم سے اُس کی خطائیں نکل جاتی ہیں حتّٰی کہ اُس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں۔“

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْ ءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتّٰى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَظْفَارِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1026 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے جس طرح میں نے وضو کیا پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے اِس طرح وضو کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ پھر اُس کی نماز اور مسجد کی طرف چلنا مزید ثواب کا باعث ہیں۔“

عَنْ عُثْمَانَ بنِ عَفَّانَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: رَاَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّاَ مِثْلَ وُضُوْئیِ هٰذَا ثُمَّ قَالَ :مَنْ تَوَضَّاَ هٰكَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَكَانَتْ صَلَاتُهُ وَمَشْيُهُ اِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1027 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اور چہرہ دھوتا ہے تو اُس کے وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں جو اُس نے اپنی دونوں آنکھوں سے کئے تھے پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ جو ہاتھوں سے پکڑ کر کئے پانی کے ساتھ یا آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں پھر جب دونوں پاؤں دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ جن کی طرف پیرچل کر گئے پانی کے ساتھ یا آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ (وُضو کر کے) وہ گناہوں سے پاک ہوکر نکلتا ہے۔“

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا تَوَضَّاَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ اَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيْئَةٍ نَظَرَ اِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَاِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَاِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتّٰى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1028 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبرستان میں تشریف لائے اور فرمایا:”اے مومن قوم کی جماعت! تم پر سلامتی ہو،اِنْ شَآءَ اﷲہم بھی تم سے ملنے والے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھوں۔ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: یارسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ فرمایا: ”تم میرے صحابہ ہو ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے۔“ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کے اُمَّتی جو ابھی تک آئے نہیں آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تمہاری کیا رائے اس شخص کے بارے میں کہ جس کے پاس سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے ہوں اور وہ نہایت سیاہ گھوڑوں میں مِل جائیں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو پہچان لے گا؟“ صحابہ نے عرض کی: کیوں نہیں یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! پھر حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”بے شک وہ لوگ اس طرح آئیں گے کہ ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گی اور میں حوضِ کوثر پر اُن کا پیش رَو ہوں گا۔“

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَتَى الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ:السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ اَنَّا قَدْ رَاَيْنَا اِخْوَانَنَا قَالُوْا: اَوَلَسْنَا اِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ :’’اَنْتُمْ اَصْحَابِیْ وَاِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَاْتُوا بَعْدُ‘‘ فَقَالُوْا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَاْتِ بَعْدُ مِنْ اُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ :’’اَرَاَيْتَ لَوْ اَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ اَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟‘‘ قَالُوا: بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:’’فَاِنَّهُمْ يَاْتُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِيْنَ مِنَ الْوُضُوْ ءِ وَاَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ.‘‘

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1029 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے اعمال کے بارے میں نہ بتاؤں جن کے سبباﷲ عَزَّ وَجَلَّگناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند فرماتا ہے؟“صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: کیوں نہیںیارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فرمایا:”مشقت کے وقت کامل وضو کرنا، مسجد کی طرف زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنااوریہی تمہارے لیے رباط (اسلامی سرحد کی حفاظت)ہے۔

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلَا اَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوْا بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ! قَالَ:اِسْبَاغُ الْوُضُوْ ءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا اِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذٰلِكُمُ الرِّبَاطُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1030 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناابو مالک اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”طہارت نصف ایمان ہے۔“

عَنْ اَبِيْ مَالِكٍ الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الطُّهُورُ شَطْرُ الْاِيمَانِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1031 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”تم میں سے جو بھی وضو کرے اور اس میں مبالغہ کرے یا کامل طریقے سے وضو کرے پھر یوں کہے:”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُیعنی میں گواہی دیتا ہوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔“ تو اُس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں کہ جس سے چاہے داخل ہوجائے۔“ترمذی کی روایت میں (مذکورہ کلمات کے بعدآخر میں)یہ الفاظ زائد ہیں:”اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَیعنی اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّمجھے توبہ کرنے والوں سے بنا اور مجھے پاک و ستھرے لوگوں میں کردے۔“

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:”مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ اَوْ فَيُسْبِغُ الْوُضُوْ ءَ ثُمَّ يَقُوْلُ:اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اِلَّافُتِحَتْ لَهُ اَبْوَابُ الجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ اَيِّهَا شَاءَ“.( ) وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ:اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1032 ، باب:وضو کی فضیلت کا بیان