Main Icon

باب:وضو کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1025

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوْ ءُ.

عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال:سمعت خليلي صلى الله عليه وسلم يقول: تبلغ الحلية من المؤمن حيث يبلغ الوضو ء.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے اپنے حبیبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ہے:” مؤمن کا زیور وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔“

شرح حدیث

جنت میں مردوں کا زیور:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”وُضو واؤ کے پیش سے اُسی مشہوروضوکو کہتے ہیں اور واؤ کے زبر سے وضو کا پانی۔ یعنی جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا وہاں تک نوراوررونق وزینت ہوگی یا وہاں تک زیور پہنایا جائے گا۔دنیا میں مسلمان مرد کو زیور پہننا حرام تاکہ وہ جہاد کی شجاعت نہ کھو بیٹھے جنت میں زیوروہاں کی نعمتوں میں سے ہوگا۔‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس سے مراد یہ ہے کہ جنت میں مؤمن کو وہاں تک زیور پہنایا جائے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہےجیساکہ صحیح ابن حبان میں حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”مومن کے وضو کا پانی جہاں تک پہنچتا ہے وہاں تک جنتیوں کو زیور پہنایا جائے گا۔“شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس حدیث سے مرادیہ ہے کہ وضو کرنے والے کے ہاتھ اور پاؤں کی چمک ونورانیت کا نشان وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے ۔بعض شارحین نے زیور ہی مراد لیا ہے جو جنتیوں کے ہاتھ پاؤں کو پہنایا جائے گا۔مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) مسلمان مرد کو دنیا میں زیور پہننا حرام ہے سوائے چاندی کی ایک انگوٹھی جس میں چاندی کا وزن ساڑھے چارماشے سے کم ہو اور ایک نگ بھی ہو۔
(2) مردکو اس دنیا میں زیورپہننااس لیے منع ہے کہ کہیں جہاد کی شجاعت نہ کھو بیٹھے۔
(3) جنت میں مؤمن کو وہاں تک زیور پہنایا جائے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں اچھی طرح وضو کرنے اور اس کی فضیلت سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1025