- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1029
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَتَى الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ:السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ اَنَّا قَدْ رَاَيْنَا اِخْوَانَنَا قَالُوْا: اَوَلَسْنَا اِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ :’’اَنْتُمْ اَصْحَابِیْ وَاِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَاْتُوا بَعْدُ‘‘ فَقَالُوْا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَاْتِ بَعْدُ مِنْ اُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ :’’اَرَاَيْتَ لَوْ اَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ اَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟‘‘ قَالُوا: بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:’’فَاِنَّهُمْ يَاْتُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِيْنَ مِنَ الْوُضُوْ ءِ وَاَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ.‘‘
عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى المقبرة فقال:السلام عليكم دار قوم مؤمنين وانا ان شاء الله بكم لاحقون وددت انا قد راينا اخواننا قالوا: اولسنا اخوانك يا رسول الله؟ قال :’’انتم اصحابی واخواننا الذين لم ياتوا بعد‘‘ فقالوا: كيف تعرف من لم يات بعد من امتك يا رسول الله؟ فقال :’’ارايت لو ان رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم الا يعرف خيله؟‘‘ قالوا: بلى يا رسول الله قال:’’فانهم ياتون غرا محجلين من الوضو ء وانا فرطهم على الحوض.‘‘
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبرستان میں تشریف لائے اور فرمایا:”اے مومن قوم کی جماعت! تم پر سلامتی ہو،اِنْ شَآءَ اﷲہم بھی تم سے ملنے والے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھوں۔ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: یارسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ فرمایا: ”تم میرے صحابہ ہو ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے۔“ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کے اُمَّتی جو ابھی تک آئے نہیں آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تمہاری کیا رائے اس شخص کے بارے میں کہ جس کے پاس سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے ہوں اور وہ نہایت سیاہ گھوڑوں میں مِل جائیں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو پہچان لے گا؟“ صحابہ نے عرض کی: کیوں نہیں یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! پھر حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”بے شک وہ لوگ اس طرح آئیں گے کہ ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گی اور میں حوضِ کوثر پر اُن کا پیش رَو ہوں گا۔“
شرح حدیث
مُردے قبر پر آنے والے کو دیکھتے اور پہچانتے ہیں:مرآۃ المناجیح میں ہے:عوام کی قبور پر پہنچ کر سلام کرنا سنت ہے،کیونکہ مُردے زائرین کو دیکھتے ہیں،پہچانتے ہیں،ان کے کلام وسلام کو سنتے اورسمجھتے ہیں،کیونکہ نہ سننے والے اور نہ جواب دے سکنے والے کو سلام کرنا منع ہے،رب فرماتا ہے:﴿ وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ﴾(پ۵،النسآء:۸۶)(ترجمۂکنز الایمان:اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرےتو تم اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو۔)اس سےمعلوم ہوا کہ مُردوں اورزندوں کوسلام یکساں کیا جائے یعنی اس طرح کہ سلام پہلے علیکم بعد میں،وہ جو حدیث میں ہے کہعَلَیْکُمُ السَّلَاممُردوں کا سلام ہے،اس سے مراد یہ ہے کہ جب مُردے آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تب یہ سلام کرتے ہیں لہٰذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔
اس حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ موت تو یقینی امر ہے پھر نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےیہ کیوں فرمایا:”اِنْ شَآءَاﷲ(اگراﷲنے چاہا)ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔“اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں۔ زیادہ ظاہر جواب یہ ہے کہ نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شک کی وجہ سےاِنْ شَآءَاﷲنہیں فرمایابلکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے ذِکر سے برکت حاصل کرنے اوراﷲتعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنے کیلئے فرمایا۔چنانچہ قرآنِ مجید میں ہے:وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ(۲۳) اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ٘-(پ۱۵،الکھف:۲۳،۲۴)ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر گز کسی بات کو نہ کہنا کہ میں کل یہ کردوں گامگر یہ کہاﷲچاہے۔صحابہ بعد میں آنے والے مسلمانوں سے افضل ہیں:امام باجیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام سے فرمایا:” بلکہ تم میرے صحابہ ہو“ تو اس سے مراد یہ نہیں کہ تم بھائی نہیں ہو بلکہ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کے اُس مرتبہ کو بیان فرمایا جو حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت کی وجہ سے انہیں ملا، لہذا وہ لوگ صحابی بھی ہیں اور دینی بھائی بھی اور جو لوگ بعد میں آئیں گے وہ صرف دینی بھائی ہیں لیکن صحابی نہیں جیسا کہاﷲتعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ﴾(پ۲۶،الحجرات:۱۰)(ترجمہ ٔکنزالایمان:مسلمان مسلمان بھائی ہیں)۔حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو بھائی کہنا جائز نہیں:مُفَسِّر شہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث کے الفاظ ”میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھوں “کے تحت فرماتے ہیں:یعنی آئندہ پیدا ہونے والے مسلمانوں سے حیات ظاہری میں ملاقات کرتا،ورنہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمساری اُمَّت کو دیکھ رہے ہیں ان کو اپنا بھائی فرمانا انتہائی کرم کریمانہ ہے،اُمَّت کو یہ جائز نہیں کہ حضور کو اپنا بھائی کہے۔بادشاہ اپنی رعایاسےکہتا ہے کہ میں آپ کا بھائی اور خادم ہوں لیکن اگر رعایا اسے خادم کہہ کر پکارے سزا پائے گی۔(تم میرے صحابہ ہو)یعنی تم بھائی بھی ہواورصحابی بھی اورجولوگ مسلمان آیندہ آنے والے ہیں وہ صرف بھائی ہوں گے صحابی نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ بھائی ہونا ظاہری لحاظ سے ہے رشتۂ ایمانی کی بنا پر،ورنہ حضوراُمَّت کے لئے روحانی والدہیں،اوران کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں نہ کہ بھاوجیں۔رشتۂ ایمانی سے سگاباپ اور داد ا اسلامی بھائی ہیں اورحقیقی ماں اوربیوی اسلامی بہنیں،مگر اس رشتہ کی بنا پر ان لوگوں کو نہ بھائی بہن کہا جاتا ہےاور نہ ان پر بھائی بہن کے اَحکام مُرتب۔تو جو حضور کو بھائی کہے اور سمجھے وہ بھی سخت سزا کا مستحق ہے۔
(آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟) صحابہ کا یہ سوال حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے علم کی نفی کی بنا پر نہیں، ذریعۂ علم کے متعلق ہے، یعنی جن مسلمانوں کو دنیا میں آپ نے زندگی شریف میں ظاہری نگاہ سے نہیں دیکھا انہیں کل قیامت میں کیسے پہچانیں گے اور کیسے شفاعت کریں گے،محض نورِنبوت یا وحی سے؟ کچھ ان میں علامتیں بھی ہوں گی جن سے ہم بھی پہچان سکیں؟ ورنہ صحابہ کا تو یہ عقیدہ تھا کہ حضور کو اپنی ساری اُمَّت کے کھلے چھپے ایک ایک عمل کی خبر ہے۔حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ عَنْہَانے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کی اُمَّت میں کسی کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر بھی ہیں؟فرمایا :ہاں عمر کی،یہ سوال و جواب علیم وخبیرسے ہی ہوسکتے ہیں۔سُبْحَانَ ﷲ!(حدیثِ پاک میں)کیا نفیس تمثیل(مثال) ہے کہ جیسے پنج کلیان(یعنی سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والا) گھوڑا کالے گھوڑوں میں نہیں چھپتا ایسے ہی میری اُمَّت دیگر اُمَّتوں میں نہیں چھپے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچھلی امتوں کے سارے مؤمن سیاہ روہوں گے،سیاہ روئی تو صرف کفار کے لیےہے۔مطلب یہ ہے کہ آثار وضوکی خاص چمک صرف امت مصطفوی پر ہوگی۔حوض سے مراد حوض کوثر ہے جو ہمارے حضور کا ہےاور نبیوں کے بھی حوض ہوں گے مگر کوثر کسی کا بھی نہیں۔فَرَط(پیش رَو)اسے کہتے ہیں جو آگے پہنچ کر انتظام فرمائے۔مطلب یہ ہے کہ کوثر پر ہم تم سے پہلے پہنچ کر تمہارا انتظام اورانتظار فرمائیں گے،تمہیں اپنے انتظام سے پانی پلائیں گے۔مدنی گلدستہ’’صحابی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبعد میں آنے والے مسلمانوں سے افضل ہیں کیونکہ انہیں حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت کی وجہ سے صحابیت کا رتبہ ملا۔
(2) مُردے زائرین کو پہچانتے ہیں اور ان کے کلام کو سنتے ہیں۔
(3) حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھائی کہنا جائز نہیں۔
(4) حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رشتۂ ایمانی کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا بھائی کہا ورنہ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے روحانی والد ہیں۔
(5) حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے اُمتیوں کے اعمال کی خبر ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ کل بروزِ قیامت ہمیں سرکارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ مبارک سے آبِ کوثر کے جام پینا نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1029