Main Icon

باب:وضو کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1031

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مَالِكٍ الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الطُّهُورُ شَطْرُ الْاِيمَانِ.

عن ابي مالك الاشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:الطهور شطر الايمان.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو مالک اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”طہارت نصف ایمان ہے۔“

شرح حدیث

طہارت نصف ایمان کیسے؟حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان ”طہارت نصف ایمان ہے۔“ کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ طہارت کا اجر بڑھ کر نصف ایمان تک پہنچ جاتا ہے۔دوسرامعنیٰ یہ ہے کہ جس طرح ایمان سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اسی طرح وضو بھی سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے لیکن چونکہ ایمان کے بغیر وضو نہیں ہوتا اس لیے طہارت کے ایمان پر موقوف ہونے کی وجہ سےاسے نصف ایمان کہا گیا۔تیسرا معنیٰ یہ ہے کہ ایمان سے مراد نماز ہے چونکہ نماز صحیح ہونے کےلئے طہارت شرط ہے لہٰذا طہارت نماز کے لئے بمنزلہ جزء ہے اسی وجہ سے فرمایا”طہارت نصف ایمان ہے“یعنی نماز کا جزء ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:ظاہر یہ ہے کہطُہُوْرسے ظاہری پاکی اورایمان سے عرفی ایمان مرادہے۔ چونکہ ایمان بھی گناہوں کو مٹاتا ہے اور وضوبھی،لیکن ایمان چھوٹے بڑے سارے گناہ مٹا دیتا ہے اور وضوصرف چھوٹے،اس لیے اسے آدھا ایمان فرمایا۔ایمان باطن کو عیبوں سے پاک فرماتا ہے اور وضو ظاہر کو گندگیوں سے،اور ظاہر باطن کا گویا نصف ہے۔یا ایمان دل کو برائیوں سے پاک اور خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے اور طہارت جسم کو فقط گندگیوں سے پاک کرتی ہےلہٰذا یہ نصف ہے۔طہارت کے چار درجات:حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمدبن محمد غزالیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیفرماتے ہیں:”نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان:”طہارت نصف ایمان ہے“ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ظاہر کو تو پانی بہا کر پاک کر لیا جائے مگر باطن کو گندگیوں سے پاک نہ کیا جائے۔طہارت کے چار درجات ہیں:
(1)ظاہر کو ناپاکیوں، نجاستوں وغیرہ سے پاک کرنا۔
(2)اعضاء کو جرائم اور گناہوں سے پاک کرنا۔
(3)دل کو بُرے اخلاق اور ناپسندیدہ خصلتوں سے پاک کرنا۔
(4)باطن کو
غَیْرُاللّٰہسے پاک کرنا۔ آخری درجے کی طہارت انبیا وصدیقین کی طہارت ہے۔ہر رتبہ میں طہارت اس عمل کا نصف ہے جس میں وہ پائی جاتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) طہارت نصف ایمان ہے۔
(2) ایمان چھوٹے بڑے سارے گناہ مٹا دیتا ہے اور وضوصرف چھوٹے گناہ مٹاتا ہے۔
(3) ایمان باطن کو عیبوں سے پاک فرماتا ہےجبکہ وضو ظاہر کو گندگیوں سےپاک کرتا ہے۔
(4) ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی گناہوں کی گندگی سے پاک کیا جائے۔
(5) باطن کو
غَیْرُ اللّٰہسے پاک کرنا انبیا وصدیقین کی طہارت ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے ظاہر و باطن کو پاک فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1031