- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- حدیث نمبر 674
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ عَبْدِ الرَّحْمٰنِِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ،قَالَ:قَالَ لِيْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَا عَبْدَ الرَّحمٰنِ بْنِ سَمُرَةَ لَا تَسْاَلِ الْاِمَارَةَ فَاِنَّكَ اِنْ اُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْاَ لَةٍ اُعِنْتَ عَلَيْهَاوَاِنْ اُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْاَ لَةٍ وُكِلْتَ اِلَيْهَا وَاِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِيْنٍ فَرَاَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا فَاْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِيْنِكَ.
عن ابي سعيد عبد الرحمن بن سمرة رضي الله عنه،قال:قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عبد الرحمن بن سمرة لا تسال الامارة فانك ان اعطيتها عن غير مسا لة اعنت عليهاوان اعطيتها عن مسا لة وكلت اليها واذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها فات الذي هو خير وكفر عن يمينك.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو سعیدعبد الرحمن بن سَمُرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھےارشاد فرمایا:”اےعبد الرحمٰن بن سمرہ ! حکومت کا سوال نہ کرو اگر بغیر مانگے مل جائےتو تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر مانگنے پر حاصل ہوئی تو تمہیں اسی کے سپرد کر دیا جائے گااور اگر کوئی قسم کھاؤ پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھو تو بہتر کام کو انجام دو اور قسم کا کفارہ ادا کرو۔“
شرح حدیث
کوئی بھی عُہدہ مَشقت سے خالی نہیں:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’ممکن ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن سمرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کسی حکومتی عہدے کا سوال کیا ہو جس پر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں حکومتی عہدہ مانگنے سے منع فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےان کے دل کا حال آپ کو بتادیا ہو کہ وہ کوئی حکومتی منصب مانگنے آئے ہیں جس پر آپ نے انہیں حکومتی عہدے کی طلب سے ممانعت فرمادی۔امام قرطبیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: یہاں بظاہرممانعت سےمراد تحریم (یعنی حرام ہونا)ہےجس پر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !میں کسی ایسے شخص کو حاکم نہیں بناؤں گا جو عہدے کا سوال کرے یا اس کی حرص کرے۔‘‘بغیر مانگے مل جائے تو تمہاری مدد کی جائے گی یعنیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاپنی توفیق سے حق کے لئے تمہاری مدد فرمائے گا۔ علامہ مہلبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کی مدد کس طرح فرمائے گا؟ اس کی تفسیر اس حدیثِ پاک میں ہےکہ حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے منصبِ قضاء کو طلب کیا اور لوگوں سے سفارش کروا کے اس منصب کی طلب میں مدد حاصل کی تو وہ منصب اس کے نفس کے سپرد کر دیا جائےگا اور جس کو زبردستی منصبِ قضاء دیا گیا تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کی مدد کے لئے ایک فرشتہ بھیجے گا جو اس کو سیدھی راہ پر قائم رکھےگا ۔“ اگر مانگنے پر حکومتی منصب ملا تو اسی کے سپرد کر دیا جائے گا اور جسے اپنے نفس کے سپرد کیا گیا وہ ہلاک ہوا۔مطلب یہ ہے جس نے عہدے کو خود طلب کیا تو حرص کی وجہ سے اس کی مدد نہیں کی جائے گی۔فتح الباری میں ہے:” کوئی بھی عہدہ مشقت سے خالی نہیں ہوتااگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے اس کی مدد نہ ہو تو وہ مصیبت میں پڑے گا اور دنیا وآخرت میں نقصان اٹھائے گا۔جو عقل مند ہوتا ہے وہ کبھی عہدے کی طلب میں نہیں پڑتااور اگر بغیر سوال کے مخفی طور پر دے بھی دیا جائے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے اس کی مدد کا سچا وعدہ ہے ۔“حکومتی منصب طلب کرنا مکروہ ہے:عمدۃ القاری میں ہے:”نفس کے سپرد ہونا ہلاکت میں پڑنا ہے اسی وجہ سے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ دعا فرمائی:”الٰہی! مجھے میرےنفس کے سپر د نہ کرنا۔“ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس منصب کا تعلق حکومت کے ساتھ ہو اس کو طلب کرنا مکروہ ہے ۔“بزرگانِ دِین حاکم بننے سے سخت مُتنفّرتھے :مرآۃ المناجیح میں ہے:دنیاوی امارت و حکومت طلب کرنا ممنوع ہے مگر دینی امارت طلب کرنا عبادت ہے،رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم سے دعا کیا کرو کہ (وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴))(پ۱۹، ا لفر قا ن :۷۴)خداوندا ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔ خیال رہے کہ سلطنت، حکومت، نفسانی خواہش، دنیاوی مال، عزت کی لالچ سے طلب کرنا حرام ہے کہ ایسے طالب جاہ لوگ حاکم بن کر ظلم کرتے ہیں مگرجب نااہل سلطان یا حاکم بن کر ملک کو بربادکررہے ہوں یا برباد کرنا چاہتے ہوں تو دِین و ملک کی خدمت کے لیے حکومت چاہنا حاصل کرنا ضروری ہے۔حضرت یوسفعَلَیْہِ السَّلَامنے بادشاہِ مصر سے فرمایا تھا: (اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ(۵۵))(پ۱۳،یوسف:۵۵) (ترجمۂ کنزالایمان: مجھے زمین کے خزانوں پر کر دے بے شک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔)لہٰذا یہ حدیث ان مذکورہ دونوں آیتوں کے خلاف نہیں کہ اس حدیث میں طمع دُنیاوی کے لیے دُنیاوی امارت چاہنے کی ممانعت ہے۔حضرت صدیق اکبر(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ) نے حضور کے پردہ فرمانے کے بعد بکوشش ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی تھی اور پھر امیربن کر دین و ملک کی خدمت کی جس سے دنیا خبردار ہے،آج تک اسلام و قرآن کی بقا حضرت صدیق کی مرہون منت ہے۔( اگر مانگے پر حاصل ہوئی تو تمہیں اسی کے سپرد کر دیا جائے گا)یہاں طلب سے مراد کوشش اور رب سے دعا دونوں ہیں جو دعائیں مانگ مانگ کر طمع مال و عزت کے لیے سلطان بنا تو رب تعالیٰ اس کی مدد نہ کرے گا وہ جانے اور حکومت جانے۔(اگر بغیر مانگے مل جائےتو تمہاری مدد کی جائے گی) یعنی اگر رب کی طرف سے تم کو سلطان بننا پڑگیا تو رحمتِ الٰہی تمہاری دستگیری کرے گی تمہارے فیصلے درست ہوں گے، ملک کا بوجھ تم سے اٹھ سکے گا،سلطنت کرنا آسان کام نہیں بغیر کرم پروردگار یہ بوجھ نہیں اٹھ سکتا۔اس حدیث کی بنا پر بزرگان دین حاکم بننے سے سخت متنفر تھے،امام ابوحنیفہ نے جان دے دی مگر قضا قبول نہ کی۔جان دے دی لیکن عہدہ قضا ءقبول نہ کیا:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المد ینہ کی مطبوعہ کتاب’’حکایتیں اورنصیحتیں‘‘ کے صفحہ 327 پر ہے:حضرت سیِّدُنا بشر بن ولیدعَلَیہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الوَحِیدسے منقول ہے کہ خلیفہ ابوجعفرمنصورنے امام اعظم ابوحنیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی طرف قاصد بھیجا اور عہدۂ قضا آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے سپرد کرنے کاارادہ کیا لیکن آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے انکار فرما دیا۔ابو جعفرنے قسم کھائی کہ تمہیں یہ کام ضرورکرنا پڑے گا۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی قسم کھائی کہ میں ہرگز نہیں کروں گا۔حضرت سیِّدُنا ربیعرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی:آپ دیکھتے نہیں کہ خلیفہ قسم کھا رہا ہے۔تو فرمایا:خلیفہ اپنی قسم کا کفارہ دینے پر مجھ سے زیادہ قادر ہے۔چنانچہ، خلیفہ نے آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو قید کرنے کا حکم دے دیا۔ قید خانہ میں ہی آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا انتقال ہوا اور آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو خیزران کے قبرستان میں سِپُردِخاک کیاگیا۔قسم پوری کرنے یا توڑنے کا شرعی حکم :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک میں قسم کھانے اور پھر اس کے خلاف بہتری دیکھنے میں قسم توڑ کر کفارہ دینے کا ذکر ہے چنانچہ صدر الشریعہ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیبہار شریعت میں فرماتے ہیں :”قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو کمی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھانی نہ چاہیے اور بعض لوگوں نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھاہے (یعنی دورانِ گفتگو بار بار قسم کھانے کی عادت بنا رکھی ہے ) کہ قصد و بے قصد(ارادۃً اور بغیر ارادہ کے) زبان سے جاری ہوتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی یہ سخت معیوب ہے (بہت بُری بات ہے )اور غیر خدا کی قسم مکروہ ہے اور یہ شرعاً قسم بھی نہیں یعنی اس کے توڑنے سے کفارہ لازم نہیں۔ بعض قسمیں ایسی ہیں کہ ان کا پورا کرنا ضروری ہے مثلاً کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کا بغیر قسم کرنا ضروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی تو اس صورت میں قسم سچی کرناضرورہے۔ مثلاً خدا کی قسم ظہر پڑھوں گا یا چوری یا زنا نہ کروں گا۔ دوسری وہ کہ اس کا توڑنا ضروری ہے مثلاً گناہ کرنے یا فرائض و واجبات (ادا)نہ کرنے کی قسم کھائی جیسے قسم کھائی کہ نماز نہ پڑھوں گا یا چوری کروں گا یا ماں باپ سے کلام نہ کروں گا تو قسم توڑ دے۔ تیسری وہ کہ اس کا توڑنا مستحب ہے۔مثلاً ایسے امر(معاملہ،کام ) کی قسم کھائی کہ اس کے غیر میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔ چوتھی وہ کہ مباح کی قسم کھائی یعنی کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہیں اس میں قسم کا باقی رکھنا افضل ہے۔قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس ۱۰ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔“مدنی گلدستہ’’ملائکہ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جس منصب کا تعلق حکومت کے ساتھ ہو اس کو طلب کرنا مکروہ ہے اور جو اس کی حرص کرے گااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے اس کی مدد نہ ہو گی ۔
(2) نفسانی خواہش اور دنیا وی مال و عزت کی لالچ سے حکومتی عہدہ طلب کرنا حرام ہے کہ ایسے لوگ حاکم بن کر ظلم کرتے ہیں۔
(3) جب نااہل لوگ سلطان یا حاکم بن کر ملک کو بربادکررہے ہوں یا برباد کرنا چاہتے ہوں تو دین و ملک کی خدمت کے لیےاہل لوگوں کا حکومت حاصل کرنا ضروری ہے۔
(4) جو دعائیں مانگ کر،رشوت دے کر ،لوگوں سے مدد طلب کر کے مال و عزت کی لالچ کے لیے سلطان بنا تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کی مدد نہ فرما ئے گا اب وہ جانے اوراس کا عہدہ ۔
(5) اگر کسی کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے کوئی عہدہ مل جائے یا زبردستی اسے کوئی منصب سونپ دیا جائے تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس کی مدد کے لئے ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو سیدھی راہ پر قائم رکھتا ہے۔
(6) اگر کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی کہ اس کےنہ کرنے میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہےاور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ہر کام میں اخلاص عطا فرمائے اور دنیاوی عزت اورشان و شوکت کی غرض سے عہدہ طلب کرنے سے محفوظ فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 674