- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- حدیث نمبر 676
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قُلْتُ:يَارَسُولَ اللهِ اَلَا تَسْتَعْمِلُنِيْ؟فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِيْ ثُمَّ قَالَ:يَااَبَا ذَرٍّ! اِنَّكَ ضَعِيْفٌ وَاِنَّهَا اَمَانَةٌ وَاِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ اِلَّامَنْ اَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَاَدَّى الَّذِيْ عَلَيْهِ فِيْهَا.
عن ابي ذر رضي الله عنه قال:قلت:يارسول الله الا تستعملني؟فضرب بيده على منكبي ثم قال:ياابا ذر! انك ضعيف وانها امانة وانها يوم القيامة خزي وندامة الامن اخذها بحقها وادى الذي عليه فيها.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں میں نے عرض کی:یارسولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ مجھے (کسی علاقے کا)حاکم کیوں نہیں بنادیتے ؟نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دست مبارک میرے کندھے پر مارتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اے ابو ذر !تم کمزور ہو اور یہ (حکومت)ایک امانت ہے اور بیشک قیامت کے دن یہ ذلت و ندامت کا باعث ہوگی مگر اس شخص کیلئے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور ا س کے حقوق ادا کئے ۔‘‘
شرح حدیث
سیدنا ابو ذر کا زُہد:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرماناکہ”اے ابو ذر! تم کمزور ہو۔ ‘‘اس ضعف کی وجہ یہ تھی کہ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپر زُہد،دنیا کی حقارت اور اس سے اِعراض کا غلبہ تھا اور جو شخص اس مزاج کا ہو وہ دنیا کی مصلحتوں اور مال کی طرف توجہ نہیں دے سکتا حالانکہ ان کی رعایت کی وجہ سے دینی مصلحتیں اور امور مُنظّم ہوتے ہیں جبکہ حضرت ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُزُہد میں اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ آپ نے مطلقاً مال جمع کرنے کو حرام قرار دے دیا تھااگر چہ اس کی زکوۃ ادا کی جائے۔جب حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے زہد اور دنیا سے اِعراض کو جان لیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکونصیحت فرمائی اور انہیں عہدے اور مالِ یتیم کا متولی بننے سے منع فرمایا۔ یہ حکومت دنیا میں ایک امانت ہے جس نے اس کا پورا پورا حق ادا کیا اور خیانت نہ کی تو وہ بری الذمہ ہے اور جس نے خیانت کی اور مستحق کو اس کا حق نہ دیا تو یہ عہدہ قیامت کے دن اس کے لیے ذلت ہوگا۔جو شخص نا اہل ہونے کے باوجود حکومت حاصل کرے یا عدل و انصاف قائم نہ کرے تو یہ عہدہ اس کے لیے ندامت ہوگا اور جو عدل و انصاف قائم کرے تو اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جنہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّعرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔حکومت میں داخل ہوناپُر خطرہے:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حکومتی عہدہ طلب کرنے سے بچنے کے لئے یہ حدیث پاک بہت قوی دلیل ہےخصوصاًاس شخص کے لئے کہ جس میں ضعف اور کمزوری ہو۔جہاں تک ذلت اور ندامت کی بات ہے تو یہ اس شخص کے لئے ہے جو اَمارت و حکومت کی اہلیت نہ رکھتا ہو یا اہل تو ہو مگر عدل و انصاف قائم نہ کر سکےتو ایسے شخص کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن ذلیل ورُسوا کرے گا اور وہ اپنی ان کوتاہیوں پر نادم ہوگا جو اس سے سرزد ہوئیں۔رہا وہ شخص کہ جو اَمارت اور سربراہی کے لائق ہو اور حاکم بننے کے بعد عدل و اِنصاف قائم کرے تو اس کا اجر بہت بڑا ہے جیسا کہ کئی احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے بہر حال حکومت کرناخطرے سے خالی نہیں اسی وجہ سے بہت سےاَ کابر بزرگانِ دِین کوئی بھی عہدہ لینے سے انکار کر دیا کرتے تھے۔“مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: (اے ابو ذر!میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں)دیکھنے سے مراد ہے معلوم کرلینا چونکہ حضور کا اندازہ ہمارے عین الیقین سے اعلیٰ ہے اس لیےاَرَاكَ(یعنی میں دیکھتا ہوں)فرمایا ۔( میں تمہارے لئے وہ ہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں) یعنی اگر ہم ضعیف ہوتے تو ہم بھی حکومت و سلطنت اختیار نہ فرماتےچونکہ ہم کواللّٰہتعالیٰ نے قوت و طاقت دی ہے کہ نبوت و حکومت دین و دنیا دونوں کو سنبھال سکتے ہیں اس لیے ہم نے یہ قبول کی،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔(دو آدمیوں پر امیر نہ بننا اور نہ ہی مالِ یتیم کی ذمہ داری لینا)یعنی اے ابوذر! عام لوگوں پر حکومت تو بہت مشکل ہے تمہارے لیے تو ضروری ہے کہ تم دو شخصوں کے پنچ (فیصلہ کرنے والے )بھی نہ بنو بلکہ ایک یتیم کے مال کے متولی بھی نہ بنو کہ اس کی ذمہ داری بھی بہت ہے اور تم تارک الدنیااللّٰہوالے ہو۔اس حدیث سے آج کل کے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ممبری وزارت صدارت کے لیے سر پھوڑے مرے جاتے ہیں۔ظالم کیلئے رُسوائی اور عادل کیلئے ندامت:مرآۃ المناجیح میں ہے:(حضرت سَیِّدُنا ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ مجھے (کسی علاقے کا )حکمران کیوں نہیں بنادیتے ؟) تاکہ مجھے عدل و انصاف کرنے کا ثواب ملے یہ ثواب بے شمار ہے آپ کی یہ گزارش حرصِ دنیا کی بنا پر نہ تھی بلکہ طلبِ اجر کے لیے تھی اور اس وقت تک طلبِ حکومت سے حضور نے منع نہ فرمایا تھا۔(نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دست مبارک ابوذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے کندھے پر مارتے ہوئے )از راہ شفقت و محبت تاکہ ان کو اس سے منع فرمادینے سے رنج نہ ہو۔(ارشاد فرمایا:اے ابو ذر تم کمزور ہواور یہ ایک امانت ہے)یعنی تم سیاستدان نہیں ہو عابد زاہد تارک الدنیا ہو اور حکومت کے لیے اسلامی سیاستدانی ضروری ہے،دیکھو رب تعالیٰ نے عابد و زاہد فرشتوں کو خلیفہ نہ بنایا۔حکومت کو امانت فرما کر اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا: (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ-اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ(۷۲))(پ۲۲،الاحزاب:۷۲)(ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی بے شک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے۔)( بیشک قیامت کے دن یہ ذلت و ندامت کا باعث ہوگا)یعنی حکومت و سلطنت ظالم کے لیے رسوائی ہے اور عادل کے لیے ندامت و شرمندگی،وہ سوچے گا کہ میں نے حکومت کرنے کے اوقات عبادت میں کیوں نہ گزارے۔(البتہ وہ شخص جس نے اسے حق کے ساتھ اختیار کیا اور ا س کے حقوق ادا کئے ) یعنی حکومت و سلطنت عادل حاکم کے لیے بھی ندامت ہے مگر دو شرطوں سے ندامت نہیں بلکہ باعث کرامت ہے:ایک یہ کہ حق کے ساتھ حکومت اختیار کرے کہ دوسرے لوگ نااہل ہوں اور ملک و قوم و دِین کو اس کی راہنمائی کی ضرورت ہو۔دوسرے یہ کہ حقوقِ رعایا ادا کرے اس کے لیے حکومتاللّٰہکی رحمت ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ سات شخصوں کو عرش الٰہی کا سایہ ملے گا ان میں ایک عادل سلطان ہے،نیز فرمایا نبی کریمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے کہ عادل بادشاہ نور کے منبروں پر ہوں گے۔حضرت یوسفعَلَیْہِ السَّلَاماورحضرت سلیمان و داؤدعَلَیْہِمَا السَّلَام،ہمارے حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسلطان بھی نبی تھے،ان کی سلطنت ان کے لیے درجاتِ عالیہ کا ذریعہ ہے،یہ حدیث بڑی دلیل ہے کہ نااہل کو حکومت میں دخل دینا نہ چاہیے اگرچہ وہ کتنا ہی متقی ہواللّٰہتعالیٰ حکام و سلاطین کو حضراتِ خُلَفَائےراشدین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق د ے۔مدنی گلدستہ’’صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) نا اہل اورجس میں حکومت وعہدہ سنبھالنے کی صلاحیت نہ ہو ایسے شخص کو حکومت سے دور رہنا چاہیے۔
(2) جو اہل اور لائق شخص حاکم بننے کے بعد عدل و انصاف قائم کرے تو اس کا اجر بہت بڑا ہے۔
(3) امارت و حکومت میں داخل ہونا خطرے سے خالی نہیں اسی وجہ سے بہت سے اکابرین کوئی بھی عہدہ لینے سے انکار کر دیا کرتے تھے۔
(4) انبیاءکرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ایسی قوت و طاقت عطا فرمائی ہے کہ وہ نبوت،حکومت،دِین و دنیا سب کو سنبھال سکتے ہیں۔
(5) اس حاکم کے لیے حکومتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے جو عوام کے حقوق کا خیال کرے ۔
(6) کسی شخص کو کسی کام سے روکنے کے لیےانداز ایسا ہونا چاہیے کہ اسے بُرا نہ لگے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 676