Main Icon

باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 870

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوْسٰى الاَشْعَرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اَلْاِسْتِئْذَانُ ثَلاَثٌ فَاِنْ اُذِنَ لَكَ وَ اِلَّا فَارْجِعْ.

عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:الاستئذان ثلاث فان اذن لك و الا فارجع.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”اجازت مانگنا تین بار ہے اگر مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس آجاؤ۔ “

شرح حدیث

حدیثِ مذکور میں بیان ہوا کہ کسی کے گھر جاؤ تو تین مرتبہ تک اجازت طلب کر و اگرپھربھی جواب نہ ملے تو واپس آجاؤ!اورسمجھ جاؤ کہ اہلِ خانہ کسی وجہ سے داخلے کی اجازت نہیں دے رہے ا ب وہیں ٹھہرے رہنا یا باربار اجازت طلب کرنا بے مروتی ہے،اخلاق کا تقاضابھی یہی ہےکہ ناراض ہوئے بغیر فوراً وہاں سے لوٹ آؤ۔ تفسیر رُوحُ البیان میں ہے:”اگر تمہیں اجازت نہ ملے اور واپس جانے کا کہا جائے تو لوٹ جاؤ ، اب وہاں لمحہ بھر بھی نہ ٹھہرو، نہ تو باربار اجازت کے لئے تکرار کرو نہ اِصرار، نہ انتظار، ورنہ اہلِ خانہ کے دلوں سے تمہارا وقار اٹھ جائے گااور یہ انداز ویسے بھی مُروَّت کے خلاف ہے اور واپس لوٹنے میں تمہارے لئے پاکیزگی ہے ،کیونکہ اس طرح نہ تمہاری خِفت ہوگی نہ ہی اہلِ خانہ کاتمہارے متعلق عناد پیدا ہونے کا خطرہ ہوگا ،ویسے بھی بِلا وجہ غیروں کے گھروں کے سامنے کھڑا ہونا بری عادت اور نہایت خسیس آدمیوں کا کام ہے اوراللّٰہتمہارے کردار کو خوب جانتاہے اگر اس کے احکام پرعمل کروگےتو ثواب پاؤ گے ورنہ عذاب مقدر ہوگا۔“
”اگر گما ن ہوکہ صاحبِ خانہ کو کسی کی آمد کی اطلاع ہی نہیں ہوئی یعنی دستک وغیرہ کی آواز ان تک نہ پہنچی تو بعض علما ئے کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے نزدیک اس صورت میں تین مرتبہ سے زیادہ بھی اجازت لی جاسکتی ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 870