Main Icon

باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 871

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم اِنَّمَا جُعِلَ الْاِسْتِئْذَانُ مِنْ اَجْلِ الْبَصَرِ.

عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم انما جعل الاستئذان من اجل البصر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سَہل بن سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اجازت نظر سے حفاظت کےلئے ہی لی جاتی ہے ۔“

شرح حدیث

اجازت لینا کیوں ضروری ہے؟حدیثِ مذکور سے معلو م ہواکہ کسی کے گھر جانے سے پہلے اجازت اس لئے لی جاتی ہے تاکہ اہلِ خانہ پر نظر نہ پڑے، جتنی دیر میں آنے والا شخص سلام کرے گا،اجازت لے گا اتنی دیر میں گھر والے پردے وغیرہ کا انتظام کر لیں گے اور آنے والےپر اہلِ خانہ کے نجی معاملات ظاہر نہ ہونگے چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اجازت لینا اس لئے ہے تا کہ آنے والے کی نظر گھر کی چُھپائی جانے والی چیزوں پر نہ پڑے اور وہ ان کے اَحوال پر مطلع نہ ہو۔“دوسروں کے گھروں میں جھانکنے والوں کے لیے عبرت:’’اجازت نظر سے حفاظت کےلئے ہے ۔‘‘اس فرمانِ عالی کے ارشاد فرمانے کا سبب یہ ہے کہ ایک شخص نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حجرے کے سوارخ میں سے جھانک رہا تھا ، نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہاتھ میں لوہے کی سَلاخ تھی جس سے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے مبارک سر کو کُھجا رہے تھے،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اگر مجھے تمہارے دیکھنے کا علم ہو جاتا تو میں یہ سَلاخ تمہاری آنکھوں میں مارتا،اجازت اس لیے رکھی گئی ہے تا کہ نظر سے حفاظت رہے ۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ تو ارادۃً تاک جھانک رہا ہے تو اس سلائی سے تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر قصدوارادہ اگر کسی کے گھر نظر پڑ جائے تو گناہ نہیں جیسے گزرتے ہوئے اتفاقًا کسی کے کھلے دروازہ میں نظر پڑ جائے۔ بغیر اجازت کسی کے گھر میں جھانکنا وہاں بِلا اجازت داخل ہوجانے کی طرح ہے جیسے وہ ممنوع ہے ایسے ہی یہ ممنوع کہ اس میں گھر والوں کی بے پردگی ہے۔اس عبارت سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ فرمانِ عالی ڈانٹ ڈپٹ جھڑک کے لیے ہے آنکھ پھوڑ دینے کی اجازت کے لیے نہیں کیونکہ کسی کے گھر میں بلا اجازت چلے جانے پر اس کا قتل یا آنکھ پھوڑ دینا جائز نہیں کردیتا،جیسے جان ،جان کے عوض ہے ایسے ہی آنکھ آنکھ کے عوض:﴿اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِۙ-وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ﴾(پ۶،المائدہ :۴۵)(ترجمہ ٔکنز الایمان:جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔)شیخ طریقت،امیر اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہکی مایہ نازتالیف’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘ کے صفحہ 310 پر ہے:
سُوال: کیا جان بوجھ کر کسی کے گھر میں جھانکناشریعت میں منع ہے؟
جواب:جی ہاں۔البتّہ دروازہ پہلے ہی سے کُھلا ہوا ور بے اختیار کسی کی نظر پڑ گئی تو حرج نہیں ۔افسوس! صدکروڑ افسوس! اب اِس اَمْر کی طرف اکثر مسلمانوں کی توجُّہ ہی نہیں۔لوگ گھروں کے دروازوں میں بِلاجِھجک جھانکتے ہیں ، حتّٰی کہ دروازہ کُھلا نہ ہو تو اُچک اُچک کر جھانکتے ہیں، دراڑ میں سے جھانکتے ہیں، کِھڑکی میں سے جھانکتے ہیں،پردہ ہٹا کر جھانکتے ہیں اور اس بات کی مُطْلَقاً پرواہ نہیں کرتے کہ کسی کے گھر میں جھانکنے کی شریعت میں مُمانَعت ہے۔
سُوال:اگر دستک دینے کے باوُجُود جواب نہ ملے تو کیا اب بھی گھر میں نہیں جھانک سکتے؟
جواب:نہیں جھانک سکتے۔حضرتِ سَیِّدُنَا ابُو ذَر غِفاری
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حُضُور تاجدارِ مدینہ منوّرہ، سلطانِ مکّہ مکرّمہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:جس نے اجازت ملنے سے پہلے ہی پردہ ہٹا کر مکان کے اندر نظر کی اور گھر والوں کے سِتْر کو دیکھااُس نے ایسا کام کیا جو اُس کیلئے حلال نہ تھاجب اُس نے دیکھا اگر کوئی بڑھ کر اُس کی آنکھ پھوڑ دے تو اِس پر میں اُسے(یعنی آنکھ پھوڑنے والے کو)شرم نہ دِلاؤں گا۔اگر کوئی ایسے دروازے کے پاس سے گزرا جس پر نہ کوئی پردہ ہے اور نہ دروازہ بند ہے،لہٰذا اُس نے(بِلاقَصد) دیکھا تو اُس پر گناہ نہیں بلکہ خطاگھر والوں کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 871