Main Icon

باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 872

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ رِبْعِيِّ بْن حِرَاشٍ قَالَ حدَّثّنا رَجُلٌ مِّنْ بَنِي عَامرٍ اِسْتَاْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ:اَاَلِجُ ؟فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم لِخَادِمِهِ:اُخْرُجْ اِلٰى هٰذَا فَعَلِّمْهُ الْاِسْتِئْذَانَ فَقُلْ لَهُ قُلْ:اَلسَّلامُ عَلَيكُم، اَاَدْخُلُ؟فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ:اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ،اَاَدْخُلُ؟ فَاَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَدَخَلَ.

عن ربعي بن حراش قال حدثنا رجل من بني عامر استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم وهو في بيت فقال:االج ؟فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لخادمه:اخرج الى هذا فعلمه الاستئذان فقل له قل:السلام عليكم، اادخل؟فسمعه الرجل فقال:السلام عليكم،اادخل؟ فاذن له النبي صلى الله عليه وسلم فدخل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا رِبعی بن حراشرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ہمیں بنی عامر کے ایک شخص نے بتایاکہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے دولت خانے میں تشریف فرماتھے کہ ایک شخص نے عرض کی:کیا میں داخل ہو جاؤں؟رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے خادم سے فرمایا: ”باہر جاکر اسے اجازت لینے کا طریقہ سِکھاؤکہ پہلےاَلسَّلامُ عَلَيكُمکہو پھر کہو: کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ جب اس شخص نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالی سناتوعرض کی :اَلسَّلامُ عَلَيكُم،کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ اب نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے اجازت مرحمت فرمائی اوروہ اندرآ گیا۔

شرح حدیث

حدیثِ مذکور میں کسی کے گھر جانےکی اجازت لینے کاطریقہ بیان ہوا ہے کہ جب کسی کے گھر جاؤ تو پہلے صاحب ِخانہ کوسلام کرو پھر اندر جانے کی اجازت مانگو اوراجازت ملنےپر ہی اندر جاؤ۔گھرمیں داخلے کی اجازت کے آداب:”( کسی کے گھرجانے والے کوچاہیے کہ) دروازے کے سامنے کھڑانہ ہو، دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی تسبیح وتحمید کرے اور اس کے بعد سلام کرے، گھر میں موجود لوگوں کی باتیں نہ سنے،سلام کرنے کے بعد داخل ہونے کی اجازت طلب کرے پس اگر اجازت مل جائے توٹھیک ورنہ واپس لوٹ آئے، وہاں کھڑا نہ رہے،اور(جب پوچھا جائے ”کون“ تو جواب میں )’’اَنَا‘‘ یعنی ’’میں‘‘ نہ کہے بلکہ اپنانام بتائے تاکہ صاحبِ خانہ اس کو پہچان لے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 872