Main Icon

نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 389

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَاِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبُّهُ

عَلٰی وَجْهِهِ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ. ( )

عن جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من صلى صلاة الصبح فهو في ذمة الله فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء فانه من يطلبه من ذمته بشيء يدركه ثم يكبه

علی وجهه في نار جهنم. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سیدنا جندب بنعبداللہرَضِيَ اللهُ تَعَالیٰ عَنْهُسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ رب تعالیٰ کی امان میں ہے لہٰذا رب تعالیٰ تم سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ نہ فرمائے کیونکہ جب وہ کسی سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ فرمائے گا تو اس کی سخت پکڑ فرمائے گااور پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :اس حدیث پاک میں نماز فجر کی ادائیگی کرنے والے کااللہ عَزَّ وَجَلَّکی امان میں ہونا بیان فرمایا گیا ہے ، چونکہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی امان ہے لہذا اب دیگر مسلمانوں کو اس کی حرمت کی تعظیم ، اس کے حقوق کی ادائیگی اور اُس پر رحمت وشفقت کرنا ضروری ہے ، اور اسے کسی بھی قسم کی تکلیف دینا منع ہے کیونکہ اب اسے کوئی تکلیف دینا ایسا ہے جیسااللہ عَزَّ وَجَلَّکے عہد کو توڑدینا ۔ یہ باب بھی نیک لوگوں کو تکلیف دینے سے ڈرانے کے بارے میں ہے اسی لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث مبارکہ اِس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥
عذاب الٰہی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں :شیخ عبد الحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی” اشعۃ اللمعات“ میںمذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی تم کوئی ایسا کام نہ کرو کہ جس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے عہد اور اس کی طرف سے لازم کئے ہوئے کاموں میں خلل واقع ہو اور رب تعالیٰ اس پر تم سے پوچھے اور تمہاری باز پرس فرمائے اور صبح کی نماز ادا کرنے والے کسی بھی شخص کو تکلیف نہ پہنچاؤکہ اس طرحاللہ عَزَّ وَجَلَّکاعہدٹوٹتا ہے اور اس کی امانت میں خیانت واقع ہوتی ہے اگر تم ایسا کرو گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا اور اس کے عذاب سے چھٹکارہ کی کوئی صورت بھی نہیں ہے ۔ ‘‘ ( )نماز فجر ادا کرنے والا ربّ کی امان میں ہے :مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :

’’فجر کی نماز پڑھنے والا
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی امان میں ایسا ہوتا ہے جیسے ڈیوٹی کا سپاہی حکومت کی امان میں کہ اس کی بے حرمتی حکومت کا مقابلہ ہے ۔ خیال رہے کہ کلمہ کی امان اور قسم کی ، نماز کی امان اور قسم کی ۔ لہٰذا اَحادیث میں تعارض نہیں ، یعنی ایسا نہ ہو کہ تم نمازی کوستاؤ اور قیامت میں سلطنت اِلٰہیہ کے باغی بن کر پکڑے جاؤ ۔ ‘‘ ( )
¥
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمہ کو نہ توڑو :’’رب تعالیٰ تم سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ نہ فرمائے ۔ ‘‘ اس کی شرح میں ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ”اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی چیزوں کے ارتکاب سے بچو جو اس بات کو لازم کریں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّان کے معاملے میں مطالبہ فرمائے کیونکہ اصل یہ ہے کہ تماللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذمہ داری کو مت توڑو ۔ مطلب یہ کہ جس نے صبح کی نماز ادا کی وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حفظ و امان اور اس کے ذمہ کرم میں آ گیا ، پس تم معمولی چیز کے ساتھ بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس ذمہ کو مت توڑو ۔ اگر تم ایسا کروگے تواللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری گرفت فرمائے گا اور تم اس گرفت سے بچ نہ سکو گے ۔ وہ ہر جانب سے تمہار احاطہ فرمائے گا اورتمہیں اُوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔ علامہ ابن حجر ہیتمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : یہاں حدیث پاک میں فقط اس شخص کے ساتھ برا سلوک کرنے سے منع کیا گیا ہے جو نماز فجر کی ادائیگی کرتا ہے تو جو پانچوں نمازوں کی ادائیگی کرتا ہے وہ تو بدرہ اولیٰ اس بات کا حق دار ہے کہ اس کے ساتھ برا سلوک نہ کیا جائے ۔ ‘‘ امام شعرانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نقل فرمایا ہے کہ حجاج بن یوسف بڑا ظالم وجابر ہونے کے باوجود جب اس کے پاس کسی شخص کو لایا جاتا تو وہ اس سے پوچھتا : کیا تم نے صبح کی نماز پڑھی ہے ؟اگر وہ ہاں کہتا تو حجاج اسے اسی وجہ سے کوئی تکلیف نہ پہنچاتا کہ یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی امان میں ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
نمازفجر کی ادائیگی کی خصوصیت :اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’فجر کی نماز کو خصو صیت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا کہ اس نماز کی ادائیگی دوسری نمازوں کے مقابلے میں نفس پر زیادہ گراں گزرتی

ہے اور اس نماز کی ادائیگی نمازی کے اخلاص پر دلالت کرتی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
باجماعت نماز فجر کی فضیلت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں نماز فجر کا ذکر ہے ، نماز فجرکی احادیث مبارکہ میں بہت اہمیت وفضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ باجماعت نماز فجر کی فضیلت پر تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے پوری رات قیام کیا ۔ ‘‘ ( ) (2 ) ’’منافقین پر سب نَمازوں سے بھاری فجر اور عشاء کی نَماز ہے ، اگر جان لیتے کہ ان دونوں نَماز وں میں کیا ہے تو ضرور حاضرہوتے اگرچہ گھسٹتے ہوئے آتے ، اور بیشک میں نے ارادہ کیا کہ میں نَماز قائم کرنے کاحکم دوں اور کسی شخص کو نَماز پڑھانے پر مقرر کروں ، پھر کچھ لوگو ں کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہوں جو لکڑیا ں اٹھائے ہوئے ہوں ، پھر ان لوگوں کی طر ف جا ؤں جو نَماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں ۔ ‘‘ ( ) ( 3 ) ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس طرح عبادت کرو گویاکہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، اگرتم اسے دیکھ نہیں سکتے تو بے شک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرواور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہوکیونکہ وہ ضرور قبول ہوتی ہے اور تم میں جو فجر اور عشاء کی نما ز میں حاضر ہوسکے اگرچہ گھسٹتے ہوئے ، تو اسے چاہیے کہ وہ ضرور حاضر ہو ۔ ‘‘ ( )
¥
ربّ تعالیٰ کی پکڑ اور گرفت بہت سخت ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پکڑ اور اس کی گرفت کا ذکر ہوا ، واقعی رب تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے ، وہ جس کی گرفت فرمائے گا ، اس کا انجام جہنم کے سوا کچھ نہیں ، ہمیں اس سے پناہ مانگنی چاہیے ، اس سے اس کا فضل وکرم طلب کرنا چاہیے ۔ قرآن واحادیث میں بھیاللہعَزَّوَجَلَّکی شدید پکڑ کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے :وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِؕ-ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌۙ-لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ(۱۰۳)وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ(۱۰۴)یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖۚ-فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ(۱۰۵)فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ(۱۰۶)خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(۱۰۷)وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ(۱۰۸)(پ۱۲ ،ھود :۱۰۲تا۱۰۸ )ترجمۂ کنزالایمان: اور ایسی ہی پکڑہے تیرے رب کی ، جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر ، بے شک اس کی پکڑ دردناک کری ( سخت ) ہے ، بے شک اس میں نشانی ہے اس کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے ، وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے ، جب وہ دن آئے گا ، کوئی بے حکمِ خدا بات نہ کرے گا ، تو ان میں کوئی بد بخت ہے اور کوئی خوش نصیب ، تو وہ جو بد بخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں ( چیخیں چلائیں ) گے وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بے شک تمہارا رب جب جو چاہے کرے اور وہ جوخوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی ۔
سرکار
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’ کیا جو کچھ میں سن رہا ہوں ، تم بھی سن رہے ہو؟ آسمان چِرچِرااُٹھا ہے اوروہ اس کا حق بھی ہے کیونکہ اُس پر ہر چار انگلیوں کی جگہ پر ایک فرشتہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے سجدے میں یاقیام یا رکوع میں ہے ، جو کچھ میں جانتا ہوں ، اگر تم بھی جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے خوف سے پہاڑوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے اوراس کی عظیم پکڑ اور سخت انتقام سے ڈرتے ہوئے اُس کی پناہ مانگتے ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے : ’’اور تم اس بات سے بے خبر ہو کہ تمہیں نجات ملے گی یانہیں ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’چل مدینہ ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)
اسلام میں کسی بھی مسلمان مردوعورت کو کوئی بھی تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں ہے ۔
(2) جب عام مسلمان کے لیے یہ حکم ہے تو نیک شخص کو تو بدرجہ اَولیٰ تکلیف دینے کی ممانعت ہے ۔
(3) جو شخص نمازِ فجر ادا کرتاہے وہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی امان میں چلا جاتا ہے اور اسے تکلیف دینا منع ہے تو پانچ وقت نماز ادا کرنے والا زیادہ مستحق ہے کہ اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے ۔
(4) نمازِ فجر کا خصوصیت کے ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ اس نماز کی ادائیگی دوسری نمازوں کے مقابلے میں نفس پر زیادہ گراں ہے اور اس نماز کی ادائیگی نماز ی کے اِخلاص پر دلالت کرتی ہے ۔
(5) اگرچہ تمام فرض نمازوں کی بہت اہمیت ہے مگر نماز ِفجر کی ایک لحاظ سے خصوصی اہمیت وفضیلت بیان کی گئی ہے ۔
(6) ہمیشہ نمازِ باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جس طرح نمازِ باجماعت کے فضائل احادیثِ مبارکہ میں بیان فرمائے گئے ہیں ویسے ہی ترکِ جماعت کی وعیدیں بھی بیان کی گئی ہیں ۔
(7) بندے کو چاہیے کہ تمام گناہوں سے اپنے آپ کو بچائے خصوصاً کسی بھی مسلمان کو تکلیف دینا کہ وہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی امان میں ہوتا ہے اور جوشخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی امان کو توڑ دیتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پکڑ فرماتا ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی پکڑ بہت سخت ہے ، جس شخص کیاللہ عَزَّ وَجَلَّپکڑ فرماتا ہے تو وہ اسے اوندھے میں جہنم میں داخل فرمادیتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں بالخصوص نیک لوگوں کو ہرقسم کی تکلیف پہنچانے سے محفوظ فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 389