Main Icon

باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 698

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَرِيْر بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: اِسْتَنْصِتِ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ:لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

عن جرير بن عبد الله رضي الله عنه قال:قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع: استنصت الناس ثم قال:لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیر بنعبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحَجَّۃالوَدَاعکےمَوقع پرمجھ سے اِرشادفرمایا:”لوگوں کو خاموش کراؤ۔“پھر آپ نے فرمایا: ”(اے لوگو!) میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ ایک دُوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“

شرح حدیث

عُلَما کی تعظیم و تکریم لازم ہے:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ذِی الْجَلَالاِس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حضرتِ سَیِّدُناابوالزِّنادرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:عُلَما کی تعظیم و تکریم کرنا اور ان کا کلام سُننے کے لیے لوگوں کو چُپ کرانامُتَعَلِّمِینپر لازِم ہے کیونکہ عُلَما اَنْبِیا کے وارِث ہیں اور بِلاشُبہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے مؤمنین بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی آوازیں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آواز سے بلند نہ کریں اور آپ کے حُضُور چِلَّا کر بات نہ کریں۔حضرتِ سَیِّدُنا امام عبد الرحمٰن بن مہدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیجب حدیثِ رَسول کی قِراءَ ت فرماتے تو لوگوں کو خاموش رہنے کا حکم دیتے اور یہ آیتِ مُبارَکہ تِلاوت فرماتے:لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ(پ۲۶، الحجرات :۲)ترجمۂ کنزالایمان:اپنی آوازیں اُونچی نہ کرو اُس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔
معلوم ہوا کہ جس طرح حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتَوقیر کرنا اور آپ کی بات سُننے کے لیے لوگوں کو چُپ کرانا واجب ہے اُسی طرح جب حدیث پڑھی جارہی ہو تواُس وقت بھی اُس کی تعظیم کرتے ہوئے لوگوں کوخاموش کرانا واجب ہے،ایسے ہی عُلَما کی تعظیم وتکریم کرنا اور ان کی بات سُننے کے لیے بھی لوگوں کوچُپ کرانا واجب ہے کیونکہ وہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سُنَّتوں کو زندہ کرتے ہیں اورآپ کی شریعت قائم کرتے ہیں۔مذہبی عبادت اور دِینی فرض:اَعلیٰ حضرت اِمامِ اَہِلسُنَّت مولانا شاہ اِمام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”عالِمِ دِین کااَمْر بِالمَعْرُوْف وَنَہْی عَنِ الْمُنْکَرکرنا(یعنی نیکی کی دعوت دینا اورگناہ سے منع کرنا)بندگانِ خُدا کو دِینی نصیحتیں کرنا جسے وَعظ کہتے ہیں ضرور اَعلیٰ فرائضِ دِین سے ہےاور حاضِرین کا اَدب وخاموشی ورُجوعِ قلب کے ساتھ اُسے سُنتے رہنا بھی مذہبی عبادت اور دِینی فرض ہے۔اِس میں دست اَندازی کرناغُلْ مَچانا گالیاں بکنا ضرورمذہبی توہین اور خاص عادت کُفَّارِبے دِین ہے۔“حَدِیْقَہ نَدِیَّہمیں ہے:”جومجلسِ وَعْظ میں بیٹھا ہو اُسے بھی بات کرناگُناہ ہے اگرچہ آہستہ ہی ہو،اِسی طرح صِرف بے ضرورت اِدھر اُدھر دیکھنا یاکوئی حَرَکت وجُنْبِش کرنا،کھڑے ہوجانا یاتکْیَہ لگالینا اور یہ سب گُستاخی وبے اَدَبی اور ہَلْکا پَن خفِیفُ الْحَرَکاتی اور جلدبازی اور حَماقت ہے بلکہ لازِم یہی ہے کہ اُسی کی طرف توجُّہ کئے خاموش کان لگائے سُنتے رہیں یہاں تک کہ اُس کا کلام ختْم ہو،اُس وقْت تک نہ اِدھراُدھر دیکھیں نہ کوئی جُنْبِش نہ اَصْلاً (یعنی بِالْکُل)کچھ بات کریں۔“
رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان عبرت نشان ہے:”بات کو بے توجہی سے سننے والے کے لئے ہلاکت ہے اورجان بوجھ کراپنے (بُرے اعمال) پر اِصرارکرنے (یعنی ڈٹ جانے) والوں کے لئے ہلاکت ہے۔“توجہ سے سننا کیوں ضروری ہے؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی بات کو ذہن نشین کرنے کے لئے حاضر دماغی اور مکمل توجہ سے سننا نہایت ضروری ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ کسیبات کو یاد رکھنے کے لئے ’’مکمل توجہ‘‘ کو اگر سب سے اہم ترین عنصر قرار دیا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ کسی بات کوسنتے وقت اگر پوری توجہ نہ ہوتو اس بات کے ذہن سے جلد نکل جانے کابہت امکان ہے اور غلط مفہوم ذہن میں محفوظ ہونے کا بھی احتمال ہے۔ اسی لیےاللّٰہوالے بغور سننے کی ترغیب دلایا کرتے تھے چنانچہ حضرت سیّدنا حسنرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضورِ قلبی (مکمل توجہ) سے بغور سن، کیوں کہ جب دل حاضر ہوتا ہے تو کہی جانے والی تمام باتیںسمجھتا ہے لیکن جب دل غائب ہوتا ہے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آتا۔
نوٹ:اِس حدیث کی مزید شرح کیلئے ’’فیضانِ ریاض الصالحین‘‘جلدسوم،باب26،حدیث نمبر205 اور اس کی شرح کا مطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’ عالِم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حدیثِ پاک جب پڑھی جائے تو خاموشی اور توجہ کے ساتھ اسے سننا چاہیے۔
(2) اَدَب وخاموشی اورحُضُورِ قَلب کے ساتھ عالِمِ دِین کا وَعظ سُننا مذہبی عبادت اور دِینی فرض ہے۔
(3) دَورانِ وَعظ بے ضرورت اِدھر اُدھر دیکھنااور حَرَکت وجُنْبِش کرنا بے اَدَبی وگستاخی ہے۔
(4) کسی بات کوسنتے وقت اگر پوری توجہ نہ ہوتو اس بات کے ذہن سے جلد نکل جانے اور غلط مفہوم ذہن میں بیٹھ جانے کااِمکان ہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں علما کی تعظیم وتوقیر کرنے اور اُن کے وعظ ونصیحت کو توجہ اور خاموشی کے ساتھ سننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 698