Main Icon

باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 69

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قِیلَ یَا رَسُولَ اللہِ! مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ:’’أَتْقَاہم ‘‘ فَقَالُوا: لَیْسَ عَنْ ہَذَا نَسْأَلُکَ ، قَالَ: ’’فَیُوسُفُ نَبِیُّ اللہِ ابْنُ نَبِیِّ اللہِ ابْنِ نَبِیِّ اللہِ ابْنِ خَلِیلِ اللہِ‘‘ قَالُوا: لَیْسَ عَنْ ہَذَا نَسْأَلُکَ، قَالَ: ’’فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِی؟ خِیَارُہم فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُہم فِی الْاِسْلَامِ إِذَا فَقُہُوْا۔‘‘(بخاری، کتاب احادیث الانبیائ،باب قولہ تعالٰی واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا، ۲/۴۲۱،حدیث:۳۳۵۳)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال:قیل یا رسول اللہ! من اکرم الناس؟ قال:’’اتقاہم ‘‘ فقالوا: لیس عن ہذا نسالک ، قال: ’’فیوسف نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن خلیل اللہ‘‘ قالوا: لیس عن ہذا نسالک، قال: ’’فعن معادن العرب تسالونی؟ خیارہم فی الجاہلیۃ خیارہم فی الاسلام إذا فقہوا۔‘‘(بخاری، کتاب احادیث الانبیائ،باب قولہ تعالی واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا، ۲/۴۲۱،حدیث:۳۳۵۳)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے عرض کی گئی :یارسولَاللہ(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! سب سے زیادہ عزت والا کون ہے؟ فرمایا:وہ جو لوگوں میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابۂ کرام نے عرض کی :ہم اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے، فرمایا: یوسف (عَلَیْہِ السَّلام) جن کے والد اور دادا نبی ہیں اورجَدِّ اعلیٰ ابراہیمعَلَیْہِ السَّلام اللہ عزَّوَجَلَّکے خلیل ہیں ، صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَاننے عرض کی ہم ان کے متعلق نہیں پوچھ رہے ،فرمایا: تو عرب کے خاندان کے متعلق پوچھتے ہو ؟(سنو! )جو جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے، وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں۔
’’
اِذَافَقُھُوْا کا مطلب ہے کہ جب شرعی احکام کو جانیں۔‘‘

شرح حدیث

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : (جب یہ سوال کیا گیا کہ سب سے زیادہ باعزت کون ہے) یعنیاللہ عزَّوَجَلَّکے نزدیک یا دنیا و آخرت میں کون مُحْتَرَمْ ہے؟(تو فرمایا:وہ جو لوگوں میں سب سے زیادہ متقی ہو) چنانچہ قراٰنِ کریم فرماتا ہے:اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ(پ۲۶، الحجرات:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک
اللہکے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔
خیال رہے کہ انسان کیلئے تقویٰ ذاتی شرافت وعزت ہے اسی حَسَبْ کہتے ہیں اور عالی خاندان ،عارضی عزت ہے ا سینَسَبْ کہتے ہیں۔ مبارک ہے وہ جوحسب و نسب دونوں میں اعلیٰ ہو( لوگوں نے کہا کہ ہم اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے تو فرمایا کہ یوسف (
عَلَیْہِ السَّلام) سب سے زیادہ معززہیں ) یعنی یوسفعَلَیْہِ السَّلامحَسَبْ و َنسَبْ دونوں میں بہت اعلیٰ ہیں کہ خود بھی نبی ہیں یہ ان کیحَسَبِی عظمت ہے ان کی تین پشت میں نبوت ہے کہ والد نبی ،دادا، پَر دادا نبی یہ ان کی نَسَبی شرافت ہے۔ یہ ان کی خصوصیت ہے۔ جیسے حضرات صحابہ میں ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہ عَنْہم اَجْمَعِیْنکہ حسبی اشرف بھی ہیں کہ صدیق ہیں نسبی اشرف بھی کہ آپ کی چار پشتوں میں صَحَاِبیَّتْ ہے خود صحابی ،ماں باپ صحابی اولاد صحابی پوتے نَواسے صحابی ۔یہ آپ کی خصوصیت ہے ۔ حضرت یوسفعَلَیْہِ السَّلام میں نبوت، علم، عالی نسبی، جودو سخا، عَدْل دین، دنیا کی ریاست جمع ہیں۔ ( لوگوں نے کہا:ہم ان کے متعلق نہیں پوچھ رہے توفرمایا) کیا تم مجھ سے عرب کے قبائل کے متعلق پوچھتے ہو کہ کون سا قبیلہ اشرف ہے؟( توسنو ! جو جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے، وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں ) یعنی اسلام لانے سے اعلیٰ خاندانی آدمی کی شرافت گھٹ نہیں جاتی بلکہ بڑھ جاتی ہے اور اگر وہ عالِمِ باعمل بھی ہوجائے تو صرف خاندانی مسلمان سے افضل ہوگا ۔خلاصہ یہ ہے کہ جو زمانۂ کفر میں اپنی قوم میں اعلیٰ و افضل ہو وہ مسلمان ہو کر بھی اعلیٰ و افضل ہی رہے گا اسے نو مسلم سمجھ کر ذلیل نہ سمجھا جاوے گا ۔اگر وہ عالم باعمل بھی ہوجاوے تو اس کی شرافت کو اور چار چاند لگ جاویں گے ۔ مثلاً آج کوئی بڑا عزت والا پادری یا پَنْڈِتْ مسلمان ہوجاوے تو اسے نو مسلم کہہ کر حقیر نہ جانو اس کی عزت و احترام باقی رکھو اور اگر وہ عالم ہوجاوے تو اس کا بہت احترام کرو! غرضیکہ حسب ونسب دونوں کی شرافت کا اجتماع رب کی رحمت ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ،۶/۵۰۲ )فقہ کی تعریففِقْہ (فا کے کسرہ کے ساتھ) اس کے لغوی معنی ہیں ’’کسی شئے کو جاننا اور اس میں ماہر ہونا‘‘بعد میں اس لفظ کو علم دین کی فضیلت وشرف کی وجہ سے علم دین کے لئے ہی استعمال کیا جانے لگا۔
فقہ کی اِصطلاحی تعریف: ’’
اَلْعِلْمُ بِالاَحْکَامِ الشَّرْعِیَّۃِ الْفَرْعِیَّۃِ الْمُکْتَسَبِ مِنْ اَدِلَّتِھَا التَّفْصِیْلِیَّۃِ‘‘
ترجمہ: ان احکام شرعیہ فرعیہ کا جاننا جو اپنے تفصیلی دلائل سے اخذ کئے گئے ہوں۔ (د رمختار، ۱/ ۹۷،۹۸)
(جو جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے، وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں ) اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی معزز وشریف آدمی اسلام قبول کر لے اور احکامِ شرع سیکھ لے تو وہ اپنی خاندانی شرافت کے ساتھ دینِ اسلام کی برکتیں بھی جمع کرلیتاہے اوراگر اسلام نہ لائے تو وہ اپنی عزت و شرف کو گرادیتا ہے اور اپنی خاندانی شرافت کو ضائع کر دیتا ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الاداب باب المفاخرۃ والعصبیۃ، ۸/۶۳۰، تحت الحدیث: ۴۸۹۳)
حدیثِ مذکور میں سب سے مُعَزَّز ترین اسے بتایا گیا جو سب سے زیادہ متقی ہو ، تقویٰ بہت بڑی دولت ہے جسے یہ نصیب ہوجائے اس کے لئے جنت کی عظیم نعمتوں کا وعدہ ہے تمام نیکیوں کی اصل ہی تقویٰ ہے جو جتنا تقویٰ اختیار کرے گا اتنا ہی بڑ ا عالم بن جائے گا ، اس ضمن میں ایک بہت ہی پیاری حدیثِ پاک ملاحظہ فرمائیے!
دنیا وآخرت میں کامیابی کے بہترین اُصولحضرتِ سَیِّدُنااَبُوالْعَبَّاس مُسْتَغْفِرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں علم دین کی طلب میں مصر گیا تاکہ وہاں مشہور مُحَدِّث حضرتِ سَیِّدُنا امام ابوحامد مصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے حضرتِ سَیِّدُنا خالد بن ولیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی حدیث سنوں۔ جب وہاں پہنچا تو انہوں نے فرمایا:پہلے ایک سال روزے رکھو پھر حدیث سناؤں گا۔ چنانچہ حدیث کی طلب میں میں نے ایک سال کے روزے رکھے اور شیخ کی خدمت میں حاضر ہو ا تو انہوں نے یہ حدیث پاک سنائی :
حضرتِ سَیِّدُنا خالد بن ولید
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی :یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ سے دنیا اور آخرت کے متعلق سوال کرنا چاہتاہوں ؟ رحمتِ عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا :جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو ! اس نے عرض کی:میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں ؟ فرمایا :اللہ عَزَّوَجَلّسے ڈرتے رہو سب سے زیادہ علم والے بن جاؤ گے ۔عرض کی:میں سب سے زیادہ غنی بننا چاہتا ہوں ؟ فرمایا:قناعت اختیار کرو سب سے زیادہ غنی بن جاؤ گے۔ عرض کی: سب سے بہتر بنناچاہتا ہوں ؟فرمایا:لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچا تا ہو لہٰذا تم لوگوں کو نفع پہنچا نے والے بن جاؤ! عرض کی: سب سے زیادہ عدل کرنے والا بننا چاہتا ہوں ؟ فرمایا : لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو تو سب سے بڑے عادل بن جاؤ گے ۔عرض کی:اللہ عزَّوَجَلَّکا خاص بندہ بننا چاہتا ہوں ؟فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّکا کثرت سے ذکر کرو اس کے خاص بندے بن جاؤ گے ۔عرض کی: میں مُحْسِنِیْن میں شامل ہونا چاہتا ہوں ؟ فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّکی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اگرتم اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ توتمہیں ضرور دیکھ رہا ہے ۔
عرض کی: میں چاہتا ہوں کہ میرا ایمان کامل ہو جائے؟ فرمایا :اپنے اخلاق اچھے کر لو ،تمہارا ایمان کامل ہوجائے گا۔ عرض کی: میں
اللہ عزَّوَجَلَّکے فرمانبرداروں میں ہونا چاہتاہوں ؟ فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّکے فرائض ادا کرو اس کے فرمانبردار وں میں شامل ہوجاؤ گے ۔ عرض کی: میں گناہوں سے پاک وصاف ہوکراللہ عزَّوَجَلَّسے ملنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: پاک ہونے کے لئے جنابت سے غسل کیا کر و قیامت کے دناللہ عزَّوَجَلَّسے اس حال میں ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔عرض کی: چاہتا ہوں کہ بروزِ قیامت مجھے نو ر عطا کیا جائے ؟ فرمایا: کبھی بھی کسی پرظلم نہ کرنا قیامت کے دن تمہارا حشر نور میں ہوگا ۔عرض کی:میں چاہتا ہوں کہ میرا رب مجھ پر رحم کرے؟ فرمایا: اپنے آپ پر رحم کرواور مخلوقِ خدا پر رحم کرو، خالقِ کائنات تم پر رحم فرمائے گا۔عرض کی: میں اپنے گناہوں میں کمی چاہتا ہوں ؟ فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّسے مغفرت طلب کیاکرو تمہارے گناہ کم ہوجائیں گے ۔
عرض کی: میں لوگوں میں معزز ترین بندہ بننا چاہتا ہوں ؟ فرمایا:مخلوق سے
اللہ عزَّوَجَلَّکی شکایت نہ کیا کرو لوگوں میں معزز ہو جاؤ گے ۔عرض کی: میں اپنے رزق میں وُسعت چاہتا ہوں ؟ فرمایا: طہارت پر ہم یشگی اختیارکرو تمہارے رزق میں وُسعت کر دی جائے گی۔عرض کی: میںاللہ عزَّوَجَلَّاور اس کے رسول کا محبوب بننا چاہتاہوں ؟ فرمایا : جسےاللہ عزَّوَجَلَّاور اس کا رسول محبوب رکھتے ہیں تم بھی اسے محبوب رکھو اور جسے وہ مبغوض سمجھتے ہوں اسے تم بھی مبغوض سمجھو۔عرض کی: میں غضبِ الٰہی سے محفوظ رہنا چاہتا ہوں ؟ : فرمایا: کسی پر غصہ نہ کیا کرواللہ عزَّوَجَلَّکے غضب سے محفوظ رہو گے۔
عرض کی:میں اپنی دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں ؟ فرمایا:حرام کاموں سے بچتے رہو تمہاری دعائیں قبول ہونگی۔عرض کی:چاہتاہوں کہ بروزِ قیامت مجھے سرِعام رُسوا نہ کیا جائے؟فرمایا:اپنی شرم گاہ کی حفاظت کروتاکہ بروزِ قیامت تمہیں سب کے سامنے رُسوا نہ کیا جائے۔عرض کی: میں چاہتا ہوں کہ
اللہ عزَّوَجَلَّمیرے عُیوب پر پردہ ڈالے رکھے ؟ فرمایا : اپنے بھائیوں کے عیبوں کی پردہ پوشی کیا کرواللہ عزَّوَجَلَّتمہاری عیب پوشی فرمائے گا ۔عرض کی:کونسی چیزمیری خطاؤں کو مٹادے گی ؟ فرمایا: آنسو،خُضُوْعْ اور اَمراض۔عرض کی: کو ن سی نیکیاللہ عزَّوَجَلَّکے ہاں افضل ہے؟ فرمایا:حُسنِ اخلاق،تواضع،آز مائش کے وقت صبراور رضا بِالقضا۔ عرض کی:سب سے بڑی برُائی کونسی ہے۔ فرمایا: بَدْخُلْقِیْ اور بخل۔عرض کی:کونسی چیزاللہ عزَّوَجَلَّکے غضب کو مٹاتی ہے؟۔فرمایا: چُھپا کرصدَقہ دینا اور صلہ رحمی کرنا۔ عرض کی:کونسی چیز جہنم کی آگ کو بجھاتی ہے ؟ فرمایا : روزہ دوزخ کی آگ کو بجھاتا ہے۔ (کنز العمال،کتاب المواعظ والرقائق والخطب والحکم، قسم الافعال،۸/۵۳،حدیث:۴۴۱۴۷، الجزء السادس عشر)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’خوفِ خدا‘‘کے6حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے6مد نی پھول
(1)بارگاہِ خدا وندی میں سب سے معزز ترین وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو ۔
(2) حسب ونسب اسی وقت فائدہ مندہے جب اسلام کے ساتھ ہو ،جس نے اسلام قبول نہیں کیا تو اس نے خود اپنے ہاتھوں اپنی عزت وشرافت ضائع کرلی۔
(3) جو زمانۂ کفر میں اپنی قوم میں اعلیٰ و افضل ہو وہ مسلمان ہو کر بھی اعلیٰ و افضل ہی رہے گااور اگر وہ عالم باعمل بن جائے تو اس کی عزت وشرافت مزید بڑھ جائے گی ۔
(4) جو علم کی روشنی سے نور بار ہونا چاہے اسے تقویٰ اختیار کرنا چاہیئے۔
(5)ہر نیکی کی اصل تقویٰ وپرہیز گاری ہے ۔
(6)مُتَّقِیْنْ کے لئے جنت اور اس کی اعلیٰ ترین نعمتوں کی بشارت ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں تقویٰ واِخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے ، دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 69