Main Icon

باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 70

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ وَإِنَّ اللہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیْہَا فَیَنْظُرُ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ فَاتَّقُواالدُّنْیَا وَاتَّقُواالنساء فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَۃِ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَانَتْ فِیْ النساء (مسلم ،کتاب الرقاق، باب اکثر اھل الجنۃ الفقرائ…الخ ص۱۴۶۵،حدیث:۲۷۴۲)

عن ابی سعیدن الخدری رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:إن الدنیا حلوۃ خضرۃ وإن اللہ مستخلفکم فیہا فینظر کیف تعملون فاتقواالدنیا واتقواالنساء فإن اول فتنۃ بنی إسرائیل کانت فی النساء (مسلم ،کتاب الرقاق، باب اکثر اھل الجنۃ الفقرائ…الخ ص۱۴۶۵،حدیث:۲۷۴۲)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّنے تمہیں اس میں اپنا نائب بنایا ہے ، وہ تمہارے اعمال کودیکھتا ہے، لہٰذا دنیا اور عورتوں سے بچو، بے شک !بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں ہی کے باعث ہوا۔

شرح حدیث

دنیا جلد فنا ہونے والی ہےعلّامہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرحِ مسلم میں حدیث مذکور کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’دنیا سرسبز ومیٹھی ہے‘‘ یا تو اس کا یہ معنی ہے کہ اس دنیا کی خوبصورتی نفس کو زیادہ اچھی لگتی ہیں اور دنیاکی ترو تازگی اور اس کی لذت سرسبز میٹھے پھل کی طرح ہے جس طرح نفس سر سبز میٹھے پھل کو بہت تیزی کے ساتھ طلب کرتا ہے اسی طرح دنیا کو بھی نفس طلب کرتا ہییا یہ معنی ہے کہ دنیا جلد فنا ہونیو الی ہے۔جس طرح سبزہ جلد ختم ہوجاتا ہے۔(شرح مسلم للنووی،کتاب الرقاق،باب اکثر اھل الجنۃ الفقراء واکثراھل النارالنساء ،۹/۵۵،الجزء السابع عشر)
حضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں حدیث مذکور کی شرح یوں بیان کرتے ہیں :
(دنیا سرسبز ومیٹھی ہے) یعنی تمہاری آنکھوں اور تمہارے دلوں میں یہ دنیا مزین ہے،( دنیا دیکھنے میں بھلی معلوم ہوتی ہے دل کو پسند آتی ہے )چونکہ اہل عرب سبزے کو بہت پسند کرتے ہیں اس لئے اسے سر سبز فرمایاگیا، نیز اسے سبز فرمانے میں اشارہ ہے کہ دنیا قریبُ الفناہے۔ سبزہ بہت جلد خشک ہوجاتا ہے ایسے ہی دنیا بھی بہت جلد ختم ہوجائے گی ۔
(
اللہ تعالٰینے دنیا میں تمہیں خلیفہ بنایا ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا حقیقی مالک تواللہ عزَّوَجَلَّہی ہے تم سب اس کے برتنے میں اس کے خلیفہ یا وکیل ہو( لہٰذا مالک کی مرضی کے بغیر اسے استعمال نہ کرو) یا یہ معنی ہے کہ تمہیں تم سے پہلوں کا وارث بنایا گیا ہے توجو کچھ ان کے پاس تھا اب وہ تمہارے پاس آگیا ہے ۔پس اب وہ جانچے گا کہ تم پچھلوں کے حالات وواقعات سے کتنی عبرت حاصل کرتے ہو اور ان کے انجام میں کتنا غور و فکر کرتے ہو۔اللہ عزَّوَجَلَّنے اس دنیا کو بطور ِ آزمائش و امتحان تمہارے لئے مزین کیا ہے تاکہ وہ جانچ لے کہ تم اس دنیا میں اس کے رضا والے کام کرتے ہو یا ناراضی والے ۔
( دنیا سے بچو!) یعنی اس کی دھوکہ دینے والی چیزوں حُبّ جاہ و مال وغیرہ سے بچو !بے شک!اس کا زوال بہت قریب ہے ۔ اس میں سے صرف اتنے ہی پر قناعت کرو جو اچھے انجام میں تمہارا معاون ہو کیونکہ اس کے حلال میں حساب اور حرام میں عذاب ہے ۔
( عورتوں سے بچو) یعنی ان کے سبب ناجائز امور میں نہ پڑو اور ان کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے دین کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچو۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب النکاح ، الفصل الاول ۶ /۲۶۷، تحت الحدیث:۳۰۸۶)
علّامہ نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرحِ مسلم میں فرماتے ہیں : ’’عورتوں کے فتنوں سے بچو‘‘ اس میں اپنی زوجات اور دوسری عورتیں بھی داخل ہیں اور اکثر فتنے زوجات کے ہی ہوتے ہیں ان کا فتنہ دائمی ہے اور اکثر لوگ ان ہی کے فتنے میں مبتلا ہوتے ہیں۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الرقاق، باب اکثر اھل الجنۃ الفقراء واکثر اھل النار النساء ،۹/۵۵، الجزء ا لسابع عشر )اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’ اس بات سے بچو کے تم عورتوں کے پاس حرام ذریعے سے آؤ یا ان کی( سب) باتیں قبول کرو، کیونکہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں اوراکثر اوقات ان کے کلام میں بھلائی نہیں ہوتی۔ بنی اسرائیل میں پہلے فتنے کا سبب عورتیں ہی بنیں۔ منقول ہے کہ
بنی اسرائیل کے عامِل یا عامِیْل نامی ایک شخص کے بھتیجے نے اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا لیکن اس نے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں بھتیجے نے اسے قتل کردیا تاکہ اس کی بیٹی سے شادی کر لے۔ اس قصے کے نتیجے میں ’’ذَبحِ بَقَرَہ‘‘ کا واقعہ پیش آیا جو سورۂ بقرہ میں مذکور ہے ۔
وَ اللہ تَعَالٰی اَعْلَمُ(شرح الطیبی،کتاب النکاح الفصل الاول، ۶/۲۴۱،تحت الحدیث:۳۰۸۶)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں :
(
اللہ تعالٰینے دنیا میں تمہیں خلیفہ بنایا ہے) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جیسے دنیا تم سے پہلے دوسروں کے پاس تھی پھر ان سے منتقل ہو کر تمہارے پاس آئی تم گزشتہ لوگوں کے خلیفہ بنے ایسے ہی تم سے منتقل ہو کر دوسروں کے پاس پہنچے گی تم پچھلوں کے خلیفہ ہو آیندہ نسلیں تمہاری خلیفہ بنیں گی یا (اس میں )صحابۂ کرام (عَلَیْہم الرِّضْوَان) کو پیش گوئی ہے کہ میرے بعد عرب و عجم کی دولتیں ، ممالک تمہارے قبضہ میں آنے والے ہیں ذرا درست رہنا۔
( دنیا سے بچو!) یعنی اس سے دھوکہ نہ کھاؤ یا ناجائز طور پر استعمال نہ کرو یا اس میں مشغول ہو کر بھول نہ جاؤ اُسے دینا بھی آتا ہے اور چھیننا بھی ،جو سِی سکتا ہے وہ اُدھیڑ بھی سکتا ہے۔دنیاکو ایسے استعمال کروجیسے عقل مند مکھی شہد لیتی ہے کہ کنارہ میں رہ کر چوس لیتی ہے اگر اس میں گرے تو مرجائے۔ دنیا جسم پر رہے دل میں نہ آئے تم دنیا میں رہو، تم میں دنیا نہ رہے۔
(بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں ہی کے باعث ہوا) یا تو فتنہ سے مراد بڑا فتنہ ہے یا اَوَّلِیَّت سے مراد اضافی اَوَّلِیَّتنہ کہ حقیقی کیونکہ بنی اسرائیل میں معمولی فتنے اس سے پہلے بھی ہوچکے تھے۔ (مراٰۃ المناجیح ،۵/ ۵ تا ۶ملتقطاً)
عورتوں کے فتنے سے متعلق 4 فرامینِ مصطفیٰ(1) میں نے مردوں پر اپنے پیچھے عورتوں سے بڑھ کر نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہ چھوڑا ۔(بخاری،کتاب النکاح، باب ما یتقی من شؤم المرأۃ،۳/۴۳۱، حدیث:۵۰۹۶)
(2) عورت شیطان کی شکل میں آتی ہے اور شیطان کی شکل میں جاتی ہے ۔(مسلم، کتاب النکاح، باب من رای امرأۃ فوقعت فی نفسہ…الخ، ص۷۲۶،حدیث:۱۴۰۳)
(3)اجنبی مرد وعورت جب بھی تنہائی میں جمع ہوتے ہیں تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ (ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء فی کراھیۃ دخول علی المغیبات۲ /۳۹۱، حدیث:۱۱۷۴)
(4) جن عورتوں کے خاوند غائب ہوں ان کے پاس نہ جاؤ کیونکہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے خون کے ساتھ گردش کرتا ہے ۔ (ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء فی کراھیۃ دخول علی المغیبات، ۲/۳۹۱،حدیث:۱۱۷۵)
عورتوں کا فتنہحضرتِ سَیِّدُنا سَعِیْد بِنْ مُسَیَّبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہاللہ عزَّوَجَلَّنے جتنے انبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَامبھیجے شیطان کو یہی توقع تھی کہ میں عورتوں کے ذریعے ان کو ہلاک کر دوں گا۔اور میرے نزدیک بھی عورتوں سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں اور میں مدینہ طیبہ میں صرف اپنے گھر جاتا ہوں یا اپنی بیٹی کے گھرجمعہ کے دن غسل کرنے پھر واپس چلا آتا ہوں۔بعض بزرگوں نے فر مایا کہ شیطان عورت سے کہتا ہے کہ تو میرا نصف لشکر ہے اور میرا تیر ہے جسے میں پھینکتا ہوں تو یہ نشانے سے خطا نہیں کرتا۔تو میرے راز کی جگہ ہے اور میرے کام میں تو میری قاصد ہے۔توشیطان کا نصف لشکر شہوت ہے اور نصف لشکر غصہ ہے اورشہوتوں میں سے سب سے بڑی شہوت عورتوں کی شہوت ہے ۔ (احیاء العلوم، ۳/ ۱۲۴)
حضرتِ سَیِّدُنا سَعِیْد بِنْ مُسَیَّب
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : شیطان کسی سے مایوس نہیں ہوتا اور وہ عورتوں کے واسطے سے آتا ہے ۔ مزید فرماتے ہیں : مجھے عورتوں سے زیادہ کسی کا خوف نہیں ہے۔(احیاء العلوم ۳/ ۱۲۸)شیطان کے خطر ناک ہتھیارمنقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰکَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے سامنے ابلیس آیا اس کے سر پر کئی رَنگوں کی ٹوپی تھی ۔ جب وہ آپ کے قریب ہوا تو ٹوپی اتار کر رکھ دی ا ور کہا: اے موسیٰ! آپ پر سلام ہو! حضرتِ سَیِّدُناموسیٰعَلَیْہِ السَّلامنے پوچھا :تو کون ہے؟ کہا:میں ابلیس ہوں۔آپ نے فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّتجھے زندہ نہ رکھے! تو کیوں آیا ہے؟ کہا: آپ کواللہ عزَّوَجَلَّکے ہاں ایک خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے اس لئے آپ کی خد مت میں سلام عرض کرنے حا ضر ہوا ہوں۔ آپ نے پوچھا : میں تیرے سر پر جو چیز دیکھ رہا ہوں وہ کیاہے ؟بولا: یہ ٹوپی ہے جس کے ذریعے میں لوگوں کے دلوں کو اُچَک لیتا ہوں۔آپعَلَیْہِ السَّلامنے پوچھا : وہ کونسا عمل ہے کہ جب انسان کرتا ہے تو توُ اس پر غالب آجاتا ہے ؟ شیطان نے کہا :جب وہ اپنے آپ پر اِترائے( یعنی تکبر کرے ) اپنے اعمال کو زیادہ جانے اور گناہوں کو بھول جائے ۔پھر اس نے کہا : اے موسی !(عَلَیْہِ السَّلام)میں آپ کو تین باتیں بتاتا ہوں (1)کسی غیر محرم عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرناکیونکہ جو شخص ایسی عورت کے ساتھ علیحدگی میں ہوتا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں تو میں خود وہاں موجود ہوتاہوں اپنے چَیلوں کو نہیں بھیجتایہاں تک کہ میں ان دونوں کو ایک دوسرے کے فتنے میں مبتلا کردیتا ہوں۔(2) جب بھیاللہ عزَّوَجَلَّسے کوئی وعدہ کرو تو اسے پورا کرنا(3)جب صدقہ کا مال نکالو تو اسے خرچ کردینا(یعنی مستحقین تک پہنچادینا) کیونکہ جب کوئی شخص صدقہ کا مال الگ کرکے رکھتا ہے اور اسے خرچ نہیں کرتاوہاں بھی میں اپنے کارندوں کو بھیجنے کے بجائے خود جاتا ہوں یہاں تک کہ اسکے خرچ کرنے میں رکاوٹ بن جاتا ہوں۔ پھر شیطان یہ کہتا ہوا واپس ہوگیاکہ ہائے افسوس ! موسیٰ(عَلَیْہِ السَّلام) کو وہ بات معلوم ہوگئی جس کے ذریعے انسان کو ڈرایا جاتا ہے۔ (احیاء العلوم ۳/ ۱۲۳)نفس پرستی کاعبرتناک انجامحضرتِ سَیِّدُناعَبْدُ اللہ بِنْ مُسْلِم بِنْ قُتَیْبَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ جب ’’اَرْدََشِیْر‘‘نامی بادشاہ نے اپنی حکومت کو مستحکم کرلیا تو چھوٹے چھوٹے بادشاہوں نے اس کے تابع رہنے کا اقرار کرلیا ۔ اب اس کی نظر سلطنتِ’’سُرْیَانِیّہ‘‘پر تھی ۔ یہ بڑا ملک تھا ۔ چنانچہ’’اَرْدََ شِیْر‘‘نے اس پر چڑھائی کردی۔ وہاں کا بادشاہ ایک بڑےشہر میں قلعہ بند تھا ۔اَرْدَشِیْر نے شہر کا محاصرہ کرلیا لیکن کافی عرصہ گزر نے کے باوجود شہر فتح نہ ہو سکا ۔ ایک دن بادشاہ کی بیٹی قلعہ کی دیوار پر چڑھی تو اس کی نظراَرْدَشِیْرپر پڑی۔ اس کی مردانی وجاہت وخوبصورتی دیکھ کر شہزادی نفسانی خواہش میں مبتلا ہوگئی اورایک تیر پر یہ عبارت لکھ کر تیر اس کی جانب پھینک دیا :
’’اے حسین وجمیل بادشاہ! اگر تو مجھ سے شادی کرنے کا وعدہ کرے تومیں تجھے ایسا خفیہ راستہ بتاؤں گی کہ تھوڑی سی مَشَقَّت سے یہ شہر فتح کرلوگے ۔‘‘ بادشاہ نے شہزادی کی تحریر پڑھ کر یہ جواب بھیجا: ’’اگر ایساہوجائے تو میرا وعدہ ہے کہ میں تجھ سے شادی کر لوں گا۔‘‘
چنانچہ شہزادی نے فورا ًخفیہ راستے کا پتہ لکھ کر تیر بادشاہ کی طرف پھینک دیا۔ شہوت کے ہاتھوں مجبور ہونے والی اس بے مُرُوَّت شہزادی کے بتائے ہوئے راستے سے اَرْدََ شِیْرنے بہت جلد شہر فتح کرلیا ۔ بہت سارے سپاہی ہلاک ہو گئے اور شہزادی کا باپ شہر کا بادشاہ بھی قتل کردیا گیا ۔ حسب ِ وعدہ اَرْدََ شِیْر نے شہزادی سے شادی کر لی۔ شہزادی کو نہ تو اپنے باپ کی ہلاکت کا غم تھااور نہ ہی اپنے ملک کی بربادی کی کوئی پروا۔ بس اپنی نفسانی خواہش کے مطابق ہونے والی شادی پر وہ بے حد خوش تھی۔ دن گزرتے گئے اس کی خوشیوں میں اضافہ ہوتا رہا ۔ ایک رات جب وہ بستر پر لیٹی تو کافی دیر تک نیند نہ آئی بے چینی سے بار بار کروٹیں بدلتی ۔ اَرْدََ شِیْر نے اس کی یہ حالت دیکھ کر پوچھا : ’’کیا بات ہے،جو تمہیں نیند نہیں آرہی ؟‘‘ شہزادی نے کہا:’’ میرے بستر پر کوئی چیز ہے جس نے مجھے بے چین کر دیا ہے۔‘‘ اَرْدََ شِیْرنے جب بستر دیکھا تو چند دھاگے ایک جگہ جمع تھے ان کی وجہ سے شہزادی کا انتہائی نرم ونازک جسم بے چین ہورہاتھا ۔اَرْدََ شِیْر کواس کے جسم کی نرمی ونزاکت پر بڑا تعجب ہوا ۔ اس نے پوچھا:’’ تمہارا باپ تمہیں کون سی غذا کھلاتا تھا جس کی وجہ سے تمہارا جسم اتنا نرم ونازک ہے ؟‘‘ شہزادی نے کہا : ’’ میری غذامیں مکھن ،ہڈیوں کا گودا، شہد اور مغز شامل تھا۔‘‘ اَرْدَشِیْرنے کہا: ’’تیرے باپ کی طرح آسائش وآرام تجھے کسی نے نہ دیا ہوگا ۔ تو نے اس کے احسان اور قرابت کا اِتنا بُرا بدلہ دیا کہ اسے قتل کرواڈالا ۔ جب تو اپنے شفیق باپ کے ساتھ بھلائی نہ کر سکی تو میں بھی اپنے آپ کو تجھ سے محفوظ نہیں سمجھتا ۔‘‘پھراَرْدََ شِیْر نے حکم دیا کہ اس کے بالوں کو طاقتور گھوڑے کی دُم سے باندھ کر گھوڑ ے کو تیزی سے دوڑایا جائے ۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور چند ہی لمحوں میں اس نفس پرست شہزادی کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ۔ (عیون الحکایات ، ص۳۳۰)
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں نفسانی خواہشوں کی تباہ کاریوں سے ہم یشہ محفوظ رکھے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ نفسانی خواہشیں بادشاہوں کو غلام بنادیتی ہیں ،مُعَزِّزِین کو ذلت و رسوائی کے عمیق گڑھے میں ڈال دیتی ہیں۔عزت و دولت ،شان وشوکت سب خاک میں مل جاتی ہے ۔نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کو اگر دنیا میں چند روز عیش وعشرت مل بھی جائے تب بھی قلبی سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔ سمجھدار وہی ہے جو دائمی فائدے کا طلب گار ہو ، چند لمحوں کی لذت کی خاطر ہم یشہ کے سکون وسرور کو چھوڑ دینااَوَّل درجے کی نادانی ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے، نفسانی خواہشات سے محفوظ رکھے اور اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبے وفا عورت کاانجامِ بَدایک روز حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکا گزر ایک قبرستان سے ہوا ، تو وہاں ایک شخص ایک قبر کے پاس بیٹھا زار وقطار رو رہاتھا ۔ آ پعَلَیْہِ السَّلامنے رونے کا سبب پوچھا تو کہنے لگا : یہ میری زوجہ کی قبر ہے، یہ میرے چچا کی بیٹی تھی، مجھے اس سے بہت زیادہ پیار تھا میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰعَلَیْہِ السَّلامنے فرمایا: اگر چاہو تو میںاللہ عزَّوَجَلَّکے حکم سے تمہاری بیوی کو زندہ کر دوں ؟ اس نے بے قرار ہو کر کہا : ہاں ! ایسا ضرور کر دیجئے ! چنانچہ آپعَلَیْہِ السَّلامنے قبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا :اللہ عزَّوَجَلَّکے حکم سے اٹھ جا ! قبر پھٹی اوراس میں سے ایک حبشی غلام باہر نکلا جس پر آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے ۔ اس نے عیسیٰعَلَیْہِ السَّلامکو دیکھ کربآوازِ بلند کہا:لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ عِیْسٰی رُوْحُ اللہاس کا یہ کہنا تھا کہ آگ بجھ گئی ۔ عذابِ الٰہی اس سے دور ہو گیا ۔ اس شخص نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی میری بیوی کی قبر یہ نہیں بلکہ دوسری ہے ۔ آپعَلَیْہِ السَّلاموہاں تشریف لے گئے اور فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّکے حکم سے اٹھ جا ! قبر پھٹی اور اس میں سے ایک حسین وجمیل عورت باہر نکل آئی۔ اس شخص نے دیکھتے ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا : اے روحاللہ! یہی میری بیوی ہے۔ عیسیٰعَلَیْہِ السَّلامان دونوں کو وہیں چھوڑکر آگے تشریف لے گئے ۔ وہ اپنی بیوی سے مل کر بہت خوش تھا ۔ کچھ دیر بعد اس پر نیند کا غلبہ ہوا تو وہیں سو گیا اس کی بیوی اس کے قریب ہی بیٹھی رہی اِتنے میں وہاں سے ایک شہزادے کا گزر ہوا ، شہزادے نے اس عورت کو دیکھا تو اسے پسند آگئی، عورت کو بھی شہزادہ پسند آگیا اور وہ اپنے شوہر کو سوتا چھوڑ کر شہزادے کے ساتھ چلی گئی ۔ جب اس مرد کی آنکھ کھلی تو اپنی بیوی کو نہ پا کر بہت پریشان ہوا دھونڈتے دھونڈتے شہزادے کے محل تک پہنچ گیا ۔ وہاں اسے اپنی بیوی نظر آئی تو کہا :یہ میری بیوی ہے ۔ شہزادے نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو یہ تو میری لونڈی ہے، یقین نہیں آتاتو اسی سے پوچھ لو! یہ سن کر اس بے وفاعورت نے فوراً کہا: ہاں ! میں شہزادے کی لونڈی ہوں میں تو تمہیں جانتی تک نہیں تم بے جا مجھ پر الزام لگا رہے ہو ۔ یہ سن کر وہ روتا ہوا محل سے واپس آگیا ۔کچھ دنوں بعد حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰعَلَیْہِ السَّلامسے ملاقات ہوئی تو عرض کی:اے رُوحُاللہ عَلَیْہِ السَّلام! میری بیوی جسے آپ نے زندہ کیا تھا اب شہزدے کے پاس ہے شہزادہ اسے اپنی لونڈی بتاتا ہے اور وہ بھی یہی کہہ رہی کہ میں شہزادے کی لونڈی ہو تمہاری بیوی نہیں۔ آپ ہمارا فیصلہ فرما دیجئے ۔ چنانچہ آپعَلَیْہِ السَّلامنے اس عورت سے فرمایا: کیا تو وہی نہیں ہے جسے میں نےاللہ عزَّوَجَلَّکے حکم سے زندہ کیا تھا ؟ عورت نے کہا: نہیں میں وہ نہیں ہو ں۔ آپعَلَیْہِ السَّلامنے فریا : اچھا تو ہم اری دی ہوئی چیز ہمیں واپس کر دے ! اتنا فرمانا تھا کہ وہ جھوٹی وبے وفا عورت مردہ ہوکر زمین پر گر پڑی۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلامنے فرمایا : جو شخص ایسے مرد کو دیکھنا چاہے جو کافر ہوکر مرا تھا پھراللہ عزَّوَجَلَّنے اسے زندہ کرکے ایمان کی دولت سے نوازا تو وہ اس حبشی غلام کودیکھ لے اور جو ایسی عورت کو دیکھنا چاہے جو ایمان کی حالت میں مری پھراللہ عزَّوَجَلَّنے اسے زندہ کیا اور وہ کفر کی حالت میں مری تو وہ اس عورت کو دیکھ لے ۔ (نزہۃ المجالس باب حفظ الامانۃ وترک الخیانۃ وذکر النساء،۲/۵۶)تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہمدنی گلدستہ’’پرہیز گار‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1) دنیا بظاہر بہت اچھی لیکن حقیقت میں بہت بُری ہے ۔
(2) دنیا میں سب سے پہلے فتنے کاباعث عورت بنی۔
(3) عورت شیطان کا مہلک ہتھیار ہے جس کے ذریے یہ لوگوں پر حملہ کرتا ہے ۔
(4) نفس پرستی کا انجام ہم یشہ بُرا ہوتا ہے ۔
(5) عورتوں کے فتنے سے بچنے کے لئے ان سے اپنی نظروں کی خاص حفاظت کرنی چاہئے کہ نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک مہلک ترین تیر ہے ۔
(6) انسانوں کو بہکانے میں عورتیں شیطان کی قاصدو رہنما ہیں۔
(7) دنیا کی نعمتیں بقدرِ ضرورت استعمال کرنی چاہئیں دنیا میں مگن ہو کر اپنے رب کو بھول جانا دنیا وآخرت میں ذلت ورسوائی کا باعث ہے۔
(8) عورتوں کے مشوروں پر بلا سوچے سمجھے عمل نہیں کرنا چاہیے کہ ان میں اکثر ناقصُ العقل ہوتی ہیں۔
اللہ عزَّوَجَلَّہمیں دنیا اور عورتوں کے فتنوں سے محفوظ رکھے تمام گناہوں سے سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے، ہم یشہ ہمیں اپنی حِفظ واَمان میں رکھے !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 70