- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- حدیث نمبر 73
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ صُدَیِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاھِلِی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقَالَ:اِتَّقُوااللہَ،وَصَلُّوْاخَمْسَکُمْ ،وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ ،وَأَدُّوْا زَکَاۃَ اَمْوَالِکُمْ، واَطِیْعُوْا اُمَرَآئَکُمْ تَدْخُلُوْاجَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔(ترمذی، کتاب السفر ، باب ما ذکر فی فضل الصلوۃ، ۲/۱۱۹، حدیث:۶۱۶، بتغیر قلیل)
عن ابی امامۃ صدی بن عجلان الباھلی رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب فی حجۃ الوداع فقال:اتقوااللہ،وصلواخمسکم ،وصوموا شہرکم ،وادوا زکاۃ اموالکم، واطیعوا امرائکم تدخلواجنۃ ربکم۔(ترمذی، کتاب السفر ، باب ما ذکر فی فضل الصلوۃ، ۲/۱۱۹، حدیث:۶۱۶، بتغیر قلیل)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابواُمامہ صُدَی ّبن عَجْلان باہِلیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : میں نے نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حجۃ الوداع کے خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا : اپنے ربّ عزَّوَجَلَّ سے ڈرو! اپنی پانچوں نمازیں پڑھو!اپنے رمضان کے روزے رکھو!اپنے اموال کی زکوۃ دو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو!تم اپنے رَبّعزَّوَجَلَّکی جنت میں داخل ہوجاؤگے۔
شرح حدیث
حضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں فرماتے ہیں :اس حدیث پاک میں نماز کاذکر زکوٰۃ سے پہلے اس لئے ہوا کہ نماز زکوٰۃ سے پہلے فرض ہوئی ۔ کثیرآیات ِمقدسہ واحادیثِ مبارکہ میں زکوۃ اور نماز کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا اس وجہ سے کہ نماز عبادتِ بدنیہ کی اصل ہے اور زکوٰۃ عبادتِ مالیہ کی اصل ہے ۔
حدیثِ پاک میں ’’أَدُّوْازَکَاتَکُمْ‘‘کے بجائے ’’اَدُّوْازکاۃَ اَمْوَالِکُمْ‘‘ کہا گیا کیونکہ زکوٰۃ مطلقاًمال میں فرض نہیں ہوتی بلکہ ایک مخصوص مال میں فرض ہوتی ہے ۔وأَطِیْعُوْا اُمَرَائَکُمْ( اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو!)حکمران سے مسلمانوں کا خلیفہ ،اسلامی حاکم یا علمائے دین مراد ہیں یا پھر یہ لفظ اپنے عموم پر ہے اور اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو کسی بھی معاملے میں تمہارا سر پرست ہو ۔
(اپنے ربّعَزَّوَجَلّکی جنت میں داخل ہوجاؤگے)یعنی تم جنت کے اعلیٰ درجات پا لوگے کیونکہ جنت میں داخلہ محضاللہ عزَّوَجَلَّکے فضل سے ہوگا لیکن وہاں درجات بمطابقِ اعمال ملیں گے (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلوۃ، الفصل الثانی، ۲/۲۷۴، تحت الحدیث:۵۷۱)
’’شرحُ الطِّیْبِی‘‘ میں حدیث مذکور کے تحت لکھا ہے کہ نماز ،روزہ اور زکوٰۃ کی نسبت بندوں کی طرف کی گئی تاکہ عمل ثواب(یعنی جنت) کا عوض بن جائے نیز ربّ اور بندوں کے درمیان خرید و فروخت منعقد ہو جائے۔جیسا کہ ربّ کریم فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-(پ۱۱، التوبہ:۱۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشکاللہنے مسلمانوں سے ان کے مال اورجان خریدلئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنت ہے۔(شرح طیبی، کتاب الصلوۃ ، الفصل الثانی، ۲/۱۸۰، تحت الحدیث:۵۷۱)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:( اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو!) حکم والوں سےخَلِیْفَۃُ الْمُسْلِمِین،اسلامی حُکّام ،علمائے دین سب ہی مراد ہیں۔ اطاعت سے مراد ان کے جائز احکام میں فرمانبرداری کرنا ہے خلافِ شرع حکم کی اطاعت لازم نہیں۔ چونکہ رمضان کے روزے صرف اسی امّت پر فرض ہوئے اس لئے شَہْرَکُم فرمایا۔ زکوٰۃ روزے کے بعد فرض ہوئی اس لئے اس کا ذکر بھی روزے کے بعد ہوا۔خیال رہے کہ مختلف احادیث مختلف اوقات کی ہیں ، جس زمانہ میں کوئی عبادت نہ آئی تھی تب فرمایا گیا: جس نے کلمہ پڑھ لیا جنتی ہوگیا جب نماز آگئی تو نماز ہی پر جنت کا وعدہ فرمایا گیا اور جب زکوۃ، روزے وغیرہ بھی آگئے تب جنتی ہونے کے لئے ان اعمال کی بھی قید لگی ، لہٰذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مراٰۃ المناجیح ، ۱/ ۳۶۴ )
حدیث مذکورمیں پانچ چیزوں پرجنت کی بشارت دی گئی ہے:(۱) تقویٰ (۲)نماز (۳)روزہ (۴)زکوٰۃ (۵)اطاعتِ حکمران۔ چنانچہ ان پانچوں اعمال کے فضائل ملاحظہ فرمائیے:اجرِ عظیم کا وعدہوَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-اُولٰٓىٕكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠(۱۶۲)(پ۶، النساء :۱۶۲)
ترجمۂ کنزالایمان :اور نَماز قائم رکھنے والے اور زکوۃ دینے والے اور اللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے ۔جنت کی بشارتاِنِّیْ مَعَكُمْؕ-لَىٕنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-(پ۶ ، المائدۃ: ۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نَماز قائم رکھو اور زکوۃ دواور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور انکی تعظیم کرواور اللہ کو قر ضِ حَسَن دوبے شک میں تمہارے گناہ اتاردوں گااورضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہر رواں۔دین کا بہترین عملنبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بڑھ کر ہے اور تمہارے دین کا بہترین عمل تقویٰ( پرہیزگاری) ہے۔ (طبرانی اوسط،من اسمہ علی ۳/۹۲ حدیث:۳۹۶۰)
حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے لوگوں کو کثرت سے جنت میں داخل کرنے والے عمل کے بارے میں سوال کیاگیا: تو فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّسے ڈرنا اورحُسنِ اَخلاق۔(ابن حبان، کتاب البر والاحسان ، باب حسن الخلق، ۱/۳۴۹، حدیث:۴۷۶)
رحمت ِ عالَم ،نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّنے تین دن میں حضرت موسیٰعَلَیْہِ السَّلامسے ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات کے ذریعے جو کلام فرمایا اس میں یہ بھی تھا : اے موسیٰ! میرے لئے عمل کرنے والوں نے دنیا سے بے رغبتی جیساکوئی عمل نہیں کیا اور مقربین نے ان پرمیری حرام کردہ اشیاء سے بچنے جیسے کسی اور عمل سے میرا قرب حاصل نہیں کیا اور میری عبادت کرنے والوں نے میرے خو ف سے رونے جیسی کوئی عبادت نہیں کی۔ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰعَلَیْہِ السَّلامنے عر ض کی : اے ساری کائنات کے رَبّعَزَّوَجَلاور رو ز ِجزا کے مالک !یاذَاالْجَلال والاِکرام! تو نے ان کے لئے کیا تیا رکیا ہے اورتو انہیں کیا بدلہ عطا فرمائے گا؟ فرمایا:دنیا سے بے رغبتی رکھنے والوں کے لئے تومیں اپنی جنت کو مُباح کر دوں گا وہ اس میں جہاں چاہیں ٹھکانا بنا لیں اوراپنی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرنے والوں کویہ انعام دوں گا کہ بروزِ قیامت ان کے علاوہ ہر بندے سے سخت حساب لوں گا کیونکہ میں پرہیز گاروں سے حیا کروں گا اور انہیں عزت واِکرام سے نوازوں گا پھر انہیں بغیر حساب جنت میں داخل فرماؤں گااور میرے خوف سے رونے والوں کیلئے رفیقِ اعلیٰ ہوگا جس میں ان کا کوئی شریک نہ ہوگا۔ (مجمع الزاوئد، کتاب الزھد ،باب ماجاء فی فضل الورع والزھد، ۱۰/۵۲۹، حدیث:۱۸۱۲۵)سب سے بہتر عملنبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ثابت قدم رہو اور (اس کی برکتیں ) ہر گز شمار نہ کر سکو گے اوریاد رکھو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نمازپڑھنا ہے او ر مومن ہی ہر وقت باوضورہ سکتا ہے ۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ وسننھا، با ب المحافظۃ علی الوضوء، ۱/۱۷۸، حدیث:۲۷۷)پَتّو ں کی طرح گناہ جھڑتے ہیںحضرتِ سَیِّدُنا ابو ذررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمموسم سرما میں باہر تشریف لائے جبکہ درختوں کے پَتیّ جھڑ رہے تھے آپ نے ایک درخت کی دو ٹہنیوں کو پکڑ کر اس کے پتے جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ) میں نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: بیشک !جب کوئی مسلماناللہ عزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے نَماز پڑھتاہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑرہے ہیں۔(مسند احمد، مسند انصار، ۸ /۱۳۳، حدیث:۲۱۶۱۲)
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اللہ عزَّوَجَلَّنے پانچ نَمازیں فرض فرمائی ہیں جو اِن کے لئے بہتر طریقہ سے وضو کرے اور انہیں ان کے وقت میں ادا کرے اور ان کے رُکوع وسُجود،خُشُوع کے ساتھ ادا کرے تواللہ عزَّوَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے اور جو انہیں ادا نہیں کرے گا تواللہ عزَّوَجَلَّکے ذمہ اس کے لئے کچھ نہیں چاہے اسے معاف فرمادے اور چاہے عذاب دے۔ (ابو داؤد، کتا ب الصلوۃ، با ب المحا فظۃ علی وقت الصلوات، ۱/۱۸۶، حدیث:۴۲۵)بابُ الرَّ یّانحضرتِ سَیِّدُنا سَہْل بن سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کَسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :بیشک !جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام’’ رَیَّان‘‘ ہے، قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، کہا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں ؟ تو وہ اس سے داخل ہونگے ، جب دوسرے لوگ اس میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے تو یہ دروازہ بند ہوجائے گا اور وہ اس میں داخل نہ ہو سکیں گے ۔(مسلم،کتا ب الصیام، با ب فضل الصیام ،ص۵۸۱، حدیث:۱۱۵۲)روزے جیسا کوئی عمل نہیںحضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمَامَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : میں نے عرض کی :یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے کوئی عمل بتائیے؟ ارشاد فرمایا: روزے رکھا کرو کیونکہ اس جیسا عمل کوئی نہیں۔ میں نے پھر عرض کی:مجھے کوئی عمل بتایئے! فرمایا:روزے رکھا کرو کیونکہ اس جیساکوئی عمل نہیں۔میں نے پھر عرض کی:مجھے کوئی عمل بتایئے!فرمایا: روزے رکھا کرو کیونکہ اس کا کوئی مثل نہیں۔(نسائی، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف علی محمد بن ابی یعقوب، ص۳۷۰، حدیث:۲۲۲۰)جنت کی بشارتحضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ ایک اَعرابی نے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوکر عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے ایسا عمل بتائیے جسے کرکے میں جنت میں داخل ہوجاؤں ؟ فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّکی اس طرح عبادت کرو کہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤاور فرض نَماز یں اداکرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے عرض کی:مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں اس پر زیادتی نہ کروں گا ۔یہ کہہ کرجب وہ واپس چلا گیا تونبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جو کسی جنتی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے ۔‘‘(بخاری، کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، ۱/۴۷۲، حدیث:۱۳۹۷)تین باتوں میں مومن کادل خیانت نہیں کرتانبیِّ رحمت ،شافعِ امتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : تین عمل ایسے ہیں کہ مومن کا دل ان میں خیانت نہیں کرتا (۱)خالصاللہ عزَّوَجَلَّکے لئے عمل کرنا (۲)حکمرانوں کی خیر خواہی اور(۳)ان کی جماعت کو لازم پکڑناکیونکہ ان حکمرانوں کودین کی دعوت دینا ان کے ماتحت لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتاہے اور جس کا مقصد دنیا کمانا ہوگااللہ عزَّوَجَلَّاس کے کا م کومتفرق (یعنی جدا جدا کردے گا) اور اس کے فَقْر کو اس کے سامنے کردے گا اور اسے دنیا سے وہی ملے گا جو اس کے لئے لکھا گیاہوگااور جس کا مطلوب آخرت ہوتواللہ عزَّوَجَلَّاُسے اُس کا مطلوب عطا فرمادے گا اور اس کے دل کو غناسے بھر دے گا اور دنیاذلیل ہوکراس کے پاس آئے گی۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتا ب الرقائق ، با ب الفقر، ۲/۳۵، حدیث:۶۷۹، ملتقطا)اللہ عزَّوَجَلَّکے کرم کا حق دارحضرتِ سَیِّدُنامعاذ بن جَبلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رحمۃٌ لِّلْعٰلَمِین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہم سے پانچ چیزوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص ان میں سے ایک پر بھی عمل کرے گا وہاللہ عزَّوَجَلَّکے ذمۂ کرم میں ہوگا:(۱)جو مریض کی عیادت کرے یا(۲) جنازے کے ساتھ چلے یا(۳)اللہ عزَّوَجَلَّکی راہ میں جہاد کے لئے نکلے یا (۴)حاکمِ اسلام کے پاس آئے اورنیک اورجائز باتوں میں اسکی اطاعت کرے یا (۵)اپنے گھرمیں اس لئے بیٹھارہے کہ وہ لوگوں سے اور لوگ اس سے محفوظ رہیں۔(مسند احمد، مسند الانصار، حدیث معا ذ بن جبل، ۸/۲۵۵، حدیث:۲۲۱۵۴)مدنی گلدستہ’’احمد‘‘کے 4حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کوراوراس کی وضاحت سے ملنے والے 4 مد نی پھول
(1) حاکم اگرخلافِ شرع حکم دے تو اسکا حکم نہیں مانا جائے گا۔
(2) تقویٰ وپرہیز گاری، نماز،روزہ ،زکوٰۃ اوراطاعتِ حکمران ایسے اعمال ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہوکر انسان جنت کا حقدار ہو جاتا ہے ۔
(3) مومنِ کامل کا ہر عمل رضائے الٰہی کے لئے ہوتا ہے اور وہ اچھے حکمرانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔
(4) تقویٰ دین کا بہترین عمل ہے اور اسکی وجہ سے لوگ بکثرت جنت میں داخل ہونگے ۔اللہ عزَّوَجَلَّسے دعاہے کہ ہمیں نیک، متقی، پرہیز گار، والدین کا فرمانبردار اور سچا عاشقِ رسول بنائے !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 73