Main Icon

باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 72

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبیْ طَرِیْفٍ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمِ الطّائِیِّرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَال:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ ثُمَّ رَاٰی اَتْقٰی لِلّٰہِ مِنْہَا فَلْیَأْتِ التَّقْوٰی۔رواہ مسلم۔(مسلم، کتاب الایمان، باب ندب من حلف یمینا فرأی غیرہا خیرا، ص۸۹۸، حدیث:۱۶۵۱)

عن ابی طریف عدی بن حاتم الطائیرضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:من حلف علی یمین ثم رای اتقی للہ منہا فلیات التقوی۔رواہ مسلم۔(مسلم، کتاب الایمان، باب ندب من حلف یمینا فرای غیرہا خیرا، ص۸۹۸، حدیث:۱۶۵۱)

حدیث ترجمہ

حضرت عدی بن حاتم طائی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں : میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص قسم اٹھائے پھر اس سے زیادہ تقویٰ والی بات دیکھے تواسے چاہیے کہ تقویٰ والی بات پر عمل کرے ۔

شرح حدیث

علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیشرحِ مسلم میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :حدیث پاک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگرکسی نے کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی لیکن پھر قسم پوری نہ کرنے میں بہتری محسوس کی تو بہتر ہے کہ وہ قسم تو ڑدے اور اس قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الایمان، باب ندب من حلف یمینا فرأی غیرہا خیرا ،۶/۱۰۸، الجزء الحادی عشر)
شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادری رضوی
دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃنے اپنی مایہ ناز تالیف’’فیضانِ سنت‘‘( جلد دوم) کے باب ’’نیکی کی دعوت‘‘ میں قسم سے متعلق بہت مفید علمی خزانہ عام فہم انداز میں بیان فرما یا ہے ۔لہٰذ ا اِفادِیَت کے پیشِ نظر یہاں وہ علمی بحث بیان کی جاتی ہے:
قسم کو عَرَبی زَبان میں ’’یَمِیْن‘‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے: ’’ دا ہنی(یعنی سیدھی) جانِب‘‘ چُونکہ اہلِ عَرَب عُمُوماً قسم کھاتے یا قسم لیتے وَقت ایک دوسرے سے داہنا (یعنی سیدھا) ہاتھ مِلاتے تھے اِس لئے قسم کو’’ یمین ‘‘ کہنے لگے، یا پھر یَمِین ’’ یُمْن‘‘ سے بنا ہے جس کے معنیٰ ہیں ’’بَرَکت وقُوَّت ‘‘ چُونکہ قسم میں
اللہ عزَّوَجَلَّکا بابَرَکت نام بھی لیتے ہیں اور اس سے اپنے کلام کو قُوَّت دیتے ہیں اِس لئے اِسے یَمِین کہتے ہیں یعنی بَرَکت وقُوَّت والی گفتگو۔ (مُلَخَّص از مراٰۃالمناجیح، ۵/۱۹۴) شَرعی اِعتبار سے قسم اُس عَقد(یعنی عَہد و پَیماں ) کو کہتے ہیں جس کے ذَرِیعے قسم کھانےوالا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کاپُختہ(پکّا) اِرادہ کرتاہے ۔ (دُرِّمُختار،کتاب الایمان، ۵/ ۴۸۸) مَثَلاً کسی نے یوں کہا : ’’اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم !میں کل تمہارا سارا قَرض ادا کردوں گا ‘‘ تو یہ قسم ہے۔
قسم تین طرح کی ہوتی ہے:(ا) لَغو (۲) غَمُوس (۳) مُنعَقِدہ ۔
(1)
لَغْویہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے یاموجودہ اَمر(یعنی مُعامَلے ) پر اپنے خیال میں (یعنی غَلَط فہم ی کی وجہ سے) صحیح جان کر قسم کھائے اور درحقیقت وہ بات اس کے خلاف ہو ،مَثَلاً کسی نے قسم کھائی : ’’اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم ! زَیدگھر پر نہیں ہے‘‘ اور اس کی معلومات میں یِہی تھا کہ زید گھر پر نہیں ہے اور اِس نے اپنے گُمان میں سچّی قسم کھائی تھی مگر حقیقت میں زید گھر پر تھا تو یہ قسم ’’لَغو ‘‘ کہلائے گی ،یہ مُعاف ہے اور اس پر کفّارہ نہیں۔
(2)
غَمُوسیہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے یاموجودہ اَمر( مُعامَلے) پر دانِستہ ( جان بوجھ کر)جھوٹی قسم کھائے مَثَلاً کسی نے قسم کھائی :’’اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم ! زیدگھر پر ہے‘‘ اوروہ جانتا ہے کہ حقیقت میں زَید گھر پر نہیں ہے تو یہ قسم ’’غَمُوس ‘‘ کہلائے گی اورقسم کھانے والا سخت گنہگار ہوا ،اِستِغفار و توبہ فرض ہے مگر کفّارہ لازِم نہیں۔
(3)
مُنْعَقِدہیہ ہے کہ آیَندہ کے لئے قسم کھائی مَثَلاً یوں کہا:’’رَبّ عزَّوَجَلَّکی قسم ! میں کل تمہارے گھر ضَرور آؤں گا۔‘‘ مگر دوسرے دن نہ آیا تو قسم ٹوٹ گئی ،اسے کفّارہ دینا پڑے گا اور بعض صورَتوں میں گنہگار بھی ہوگا۔ فتاوٰی عالمگیری۲/۵۲) خُلاصہ یہ ہوا کہ قَسَم کھانے والا کسی گزری ہوئی یاموجودہ بات کے بارے میں قسم کھائے گا تو وہ یا توسچّاہوگا یاپھر جھوٹا،اگر سچّا ہوگا تو کوئی حَرَج نہیں اور اگرجُھوٹا ہوگا تو اُس نے وہ قسم اپنے خیال کے مطابِق اگرسچّی کھائی تھی تو اب بھی حرج نہیں یعنی گناہ بھی نہیں اور کفَّارہ بھی نہیں ہا ں اگراسے پتا تھا کہ میں جھوٹی قسم کھا رہا ہوں تو گنہگار ہوگا مگر کفّارہ نہیں ہے ، اور اگر اس نے آیَندہ کیلئے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قَسَم کھائی تو اگر وہ قسم پوری کردیتا ہے تو فَبِھا (یعنی خوب بہتر) ورنہ کَفّارہ دینا ہوگا اوربعض صورَتوں میں قسم توڑنے کی وجہ سے گنہگار بھی ہوگا۔ (ان صورَتوں کی تفصیل آگے آرہی ہے)جھوٹی قسموں کی مذمترسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اللہ عزَّوَجَلَّکے ساتھ شرک کرنا، والِدَین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کوقَتل کرنا اورجُھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہیں۔‘‘ (بُخاری، کتاب الاَیمان والنذور، باب الیمین الغموس، ۴/۲۹۵،حدیث:۶۶۷۵)
جھوٹی قسم کے نقصانات کا نقشہ کھینچتے ہوئیمیرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان
عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :جھوٹی قسم گھروں کو وِیران کر چھوڑتی ہے (فتاوٰی رضویہ ، ۶/۶۰۲) ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :جھوٹی قسم گزَشتہ بات پر دانِستہ(یعنی جان بوجھ کر کھانے والے پر اگر چہ) اس کا کوئی کفَّارہ نہیں ، (مگر) اس کی سزا یہ ہے کہ جہنَّم کے کَھولتے دریا میں غَوطے دیاجائے گا۔(فتاوٰی رضویہ،۱۳/۶۱۱)جھوٹی قسمیں کھانے والے جہنم میںمنقول ہے کہ قِیامت کے دن ایک شخص کواللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا،اللہ عزَّوَجَلَّ اُسے جہنَّم میں لے جانے کا حکم فرمائے گا۔ وہ عَرض کرے گا:یا اللہ عزَّوَجَلَّ! مجھے کس لئے جہنَّم میں بھیجا جارہاہے ؟ ارشاد ہوگا: نَمازوں کو ان کا وقت گزار کر پڑھنے اورمیرے نام کی جھوٹی قسمیں کھانے کی وجہ سے ۔ (مُکاشَفَۃُ الْقُلو ب ص۱۸۹) (فیضانِ سنت جلد دوم باب نیکی کی دعوت، ص۱۶۲۔۱۶۹)
ذرا غور کیجیے کہ
اللہ عزَّوَجَلَّجس نے ہمیں پیدا کیا، پوری کائنات کو تخلیق کیا (بنایا) جس پر ہرہر بات ظاہِر ہے، کوئی چیز اُس سے پوشیدہ نہیں ، حتّٰی کہ دلوں کے بھید بھی وہ خوب جانتا ہے، جو رَحمن و رحیم بھی ہے اور قَہّار وجَبّار بھی، اُس ربُّ الاَنام کا نام لے کر جھوٹی قسم کھانا کتنی بڑی نادانی کی بات ہے۔ یقینااللہ عزَّوَجَلَّکا عذاب برداشت نہیں ہو سکے گا اگر ماضی میں جھوٹی قسمیں کھائی ہیں تو ان سے فوراً سے پیشتر توبہ کر لیجئے اور یہ بات خوب ذِہن نشین فر ما لیجئے کہ اگر بوقتِ ضَرورت قسم کھانی ہی پڑے تو صِرف و صِرف سچّی قسم کھایئے ۔
صَدْرُ الشَّرِیْعَہ بَدْرُ الطَّرِیْقَہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیبہارِ شریعت میں فرماتے ہیں : بعض قسمیں ایسی ہیں کہ اُن کا پورا کرنا ضَروری ہے، مَثَلاً کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کابغیر قسم(بھی) کرنا ضَروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی(کہ گنا ہ سے بچنے کی قسم نہ بھی کھائیں تب بھی گناہ سے بچنا ضَروری ہی ہے) تو اس صورت میں قسم سچّی کرنا ضَرورہے۔مَثَلاً (کہا)خدا کی قسم ظُہرپڑھوں گا یا چوری یا زِنا نہ کروں گا۔ (قسم کی)دوسری(قِسم ) وہ کہ اُس کا توڑنا ضَروری ہے مَثَلاً گناہ کرنے یا فرائض و واجِبات (پورے)نہ کرنے کی قسم کھائی، جیسے قسم کھائی کہ نَماز نہ پڑھوں گا یا چوری کروں گا یا ماں باپ سے کلام(یعنی بات چیت) نہ کروں گا تو قسم توڑ دے۔ تیسری وہ کہ اُس کا توڑنا مُستَحب ہے مَثَلاً ایسے اَمر (یعنی مُعاملے یاکام) کی قسم کھائی کہ اُس کے غیر(یعنی علاوہ) میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔ چوتھی وہ کہ مُباح کی قسم کھائی یعنی(جس کا) کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہے اس میں قسم کا باقی رکھنا افضل ہے۔ (بہار شریعت، ۲/۲۹۹ ۔ بحوالہ المبسوط للسرخسی، کتاب الایمان، ۴/ ۱۳۳)
جو شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرے مَثَلاً کہے کہ فُلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو اِس کہہ دینے سے وہ شے حرام نہیں ہوگی کہ
اللہ عزَّوَجَلَّنے جس چیز کو حلال کیا اُسے کون حرام کرسکے ؟مگر(جس چیز کو اپنے اُوپر حرام کیا)اُس کے بَرَتنے (بَ۔رَت۔نے یعنی استِعمال کرنے )سے کفّارہ لازِم آئیگا یعنی یہ بھی قسم ہے۔(بہار شریعت، ۲/۳۰۲ ۔ بحوالہ تَبیِینُ الحقائق ۳/ ۴۳۶) تجھ سے بات کرنا حرام ہے یہ(بھی) یَمِیْن(یَ۔مِین۔یعنی قسم)ہے۔ بات کرے گا تو کفّارہ لازِم ہوگا۔(بہار شریعت، ۲/۳۰۲ ۔۔ بحوالہ فتاوٰی عالمگیری۲/۵۸)
بہتر کام کیلئے قسم توڑنے کی اجازت ضَرور ہے مگر توڑنے کے بعد کفّارہ دینا ہوتا ہے جیسا کہ حضر تِ سیِّدُنا اَبُوالْاَحْوص عَوْف بِنْ مالک
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں : میں نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فرمایئے کہ میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس کچھ مانگنے جاتا ہوں تووہ مجھے نہیں دیتا، نہ صِلۂ رِحمی کرتا ہے ، پھر اسے(جب) میری ضَرورت پڑتی ہے تو میرے پاس آتا ہے، مجھ سے کچھ مانگتا ہے میں قسم کھا چکاہوں کہ نہ اسے کچھ دوں گا نہ صِلہ ٔرِحمی کروں گا۔تو مجھے حُضُور سراپا نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا کہ جو کام اچّھا ہے وہ کروں اور اپنی قسم کا کفَّارہ دیدوں۔(سنن نسائی، کتاب الاَیمان والنذور، باب الکفارۃ بعد الحنث، ص۶۱۹حدیث: ۳۷۹۳)
حضرت سیِّدُناعَدِی بِنْ حاتِم
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک شخص 100 دِرہم مانگنے آیا، میں نے ناراض ہوتے ہوئے کہا : تم مجھ سے صِرف 100دِرہم مانگ رہے ہو حالانکہ میں حاتِم(طائی) کا بیٹا ہوں ،اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم! میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا ۔ پھر کہا: اگر میں نےرَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ ارشادِ پاک نہ سنا ہوتاکہ’’ جس شخص نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اُس نے اِس سے بہتر چیز کا خیال کیا تو وہ اُس بہتر کام کو کرے ۔‘‘ (تو میں تمہیں کچھ نہ دیتا) چنانچہ یں تمہیں 400دِرہم دوں گا۔ (مسلم، کتاب الاَیمان والنذور، باب ندب من حلف یمینا…الخ ص۸۹۹ حدیث:۱۶۵۱)اگر کسی کو تکلیف پہنچانے کی قسم کھائی تو؟؟؟اگر کسی کو ظُلماً اِیذا دینے کی قَسَم کھائی تو اِس قَسَم کا پورا کرنا گناہ ہے۔ اِس قسم کے بدلے کَفّارہ دینا ہو گا ۔ چنانچہ، بُخاری شریف میں ہے:رَحمتِ عالم،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے:اگر کوئی شخص اپنے اَہل کی مُتَعلِّق اس کو اَذِیَّت اورضَرَر(یعنی نقصان) پہنچانے کے لئے قسم کھائے پس بخدا اُس کو ضَرَ ردینا اور قَسم کو پورا کرناعِندَ اللہ(یعنیاللہ عزَّوَجَلَّکے نزدیک )زیادہ گناہ ہے اِس سے کہ وہ اس قَسَم کے بدلے کفّارہ دے جواللہ عزَّوَجَلَّنے اس پر مقرَّر فرمایا ہے۔ (بُخاری، کتاب الاَیمان والنذور، ۴/۲۸۱، حدیث:۶۶۲۵)(فتاوٰی رضویہ ۱۳/ ۵۴۹)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں :یعنی جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کا حق فوت(یعنی حق تلفی) کرنے پر قسم کھالے مَثَلاً یہ کہ میں اپنی ماں کی خدمت نہ کروں گا( یا ماں باپ سے بات چیت نہ کروں گا) ایسی قسموں کا پورا کرنا گناہ ہے ۔اس پر واجِب ہے کہ ایسی قسمیں توڑے اور گھر والوں کے حُقُوق اداکرے، خیال رہے یہاں یہ مطلب نہیں کہ یہ قسم پوری نہ کرنا بھی گناہ، مگر پوری کرنازیادہ گُناہ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی قسم پوری کرنا بَہُت بڑا گناہ ہے ،پوری نہ کرنا ثواب، کہ اگرچِہ ربّ تعالیٰ کے نام کی بے اَدَبی قسم توڑنے میں ہوتی ہے اسی لیے اس پر کفَّارہ واجِب ہوتا ہے مگر یہاں قسم نہ توڑنا زیادہ گناہ کامُوجِب ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۵/۱۹۸ملخصاً)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب’’بہارِ شریعت‘‘ جلد2 صَفْحَہ 298تا 311سے قسم اوراس کے احکام بیان کئے جاتے ہیں :
قسم کے کَفّارے سے متعلق ضروری احکام(1) قسم کے لیے چند شَرطیں ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو کفّارہ نہیں۔ قسم کھانے والا (۱) مسلمان(۲) عاقِل (۳)بالِغ ہو۔ کافر کی قسم، قسم نہیں یعنی اگر زمانۂ کُفر میں قسم کھائی پھرمسلمان ہوا تواُس قسم کے توڑنے پر کفّارہ واجِب نہ ہوگا۔ اور مَعاذَ اللہ قسم کھانے کے بعد مُرتَد ہوگیا تو قسم باطل ہوگئی یعنی اگر پھر مسلمان ہوا اور قسم توڑ دی تو کفّارہ نہیں اور(۴) قسم میں یہ بھی شَرط ہے کہ وہ چیز جس کی قسم کھائی عَقلاً ممکن ہو یعنی ہوسکتی ہو، اگرچِہ مُحالِ عادی ہو اور (۵) یہ بھی شَرط ہے کہ قسم اور جس چیز کی قسم کھائی دونوں کو ایک ساتھ کہا ہو درمیان میں فاصِلہ ہوگا تو قسم نہ ہوگی مَثَلاً کسی نے اس سے کہلایا کہ کہہ، خدا کی قسم! اِس نے کہا:خدا کی قسم !اُس نے کہا :کہہ ،فُلاں کام کروں گا، اُس نے کہاتو یہ قسم نہ ہوئی۔ (بہار شریعت، ۲/۳۰۰۔۔۔۔۔۔ بحوالہ فتاوٰی عالمگیری ۲ / ۵۱)
(2)( قسم کا کفارہ یہ ہے کہ ) غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اُن کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔ (بہار شریعت، ۲/۳۰۵۔۔۔۔۔۔ بحوالہ تَبیِینُ الحَقائق ۳/ ۴۳۰)
(3)(دس)مَساکین کو دونوں وَقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مَساکین کو صبح کے وَقت کھلایا اُنھیں کو شام کے وَقت بھی کِھلائے، دوسرے دس مساکین کو کِھلانے سے(کفّارہ) ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دَسوں کو ایک ہی دن (دونوں وَقت) کھلادے یا ہرروزایک ایک کو (دو وقت)یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وَقت کھلائے۔ اورمَساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچّہ نہ ہو اور کھلانے میں اِباحَت(کھانے کی اجازت دے دینا ) وتَملیک(تَم۔لِیک ۔یعنی مالِک بنا دینا کہ چاہے کھائے چاہے لے جائے )دونوں صورَتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عِوَض(یعنی بجائے) ہرمِسکین کونِصف صاع ( یعنی آدھا صاع 2کلو میں سے 80گرام کم کاہوتاہے) گیہوں یا ایک صاع جَو ( 4کلو میں سے 160گرام کم) یا ان کی قیمت کا مالِک کردے یا دس روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روزبَقَدَرِصَدَقۂ فِطردے دیا کرے یا بعض کو کِھلائے اور بعض کو دیدے ۔ غَرَض یہ کہ اُس کی( یعنی کَفّارہ ادا کرنے کی) تمام صورَتیں وَہیں سے(یعنی مکتبۃُ المدینہکی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد 2صَفْحَہ 205 تا217 پر دیئے ہوئے (ظِہار کے ) کفّارے کے بیان سے )معلوم کریں فرق اِتنا ہے کہ وہاں (یعنی ظِہار کے کفّارے میں ) ساٹھ مسکین تھے(جبکہ) یہاں (یعنی قَسَم کے کَفّارے میں ) دس ہیں۔ (بہار شریعت، ۲/۳۰۵۔۔۔۔۔۔ بحوالہ دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتار،کتاب الایمان، ۵ / ۵۲۳)
(4)کَفَّارہ ادا ہونے کے لیے نیّت شَرط ہے بغیر نیّت ادانہ ہوگا۔( بحوالہ حاشیۃُ الطّحطاوی علی الدّرالمختار، ۲/۱۹۸) ہاں ! اگروہ شے جو مسکین کو دی اور دیتے وَقت نیّت نہ کی مگر وہ چیز ابھی مِسکین کے پاس موجود ہے اور اب نیَّت کرلی تو ادا ہوگیا جیسا کہ زکوٰۃ میں فقیر کو دینے کے بعد نیّت کرنے میں یِہی شَرط ہے کہ ہُنُوز(یعنی ابھی تک) وہ چیز فقیر کے پاس باقی ہو تو نیّت کام کرے گی ورنہ نہیں۔ (بہار شریعت، ۲/۳۰۷) (5)رَمَضان میں اگر کَفَّارے کا کھانا کھلانا چاہتاہے تو شام اورسَحری دونوں وَقت کھلائے یا ایک مِسکین کو 20 دن شام کا کھانا کھلائے۔ (بہار شریعت، ۲/۳۰۸، بحوالہ الجوھرۃ النیرۃ ص۲۵۳ الجزء الثانی) (6) اگر غلام آزاد کرنے یا 10 مِسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادِر نہ ہو توپے دَرپے تین روزے رکھے۔ (اَیضاً) (7)عاجِز (یعنی مجبور) ہونا اُس وَقت کامُعتَبر ہے جب کفّارہ ادا کرنا چاہتاہے مَثَلاً جس وَقت قسم توڑی تھی اُس وَقت مالدار تھا مگر کفّارہ ادا کرنے کے وَقت(مالی اِعتِبار سے) مُحتاج ہے تو روزے سے کَفَّارہ ادا کرسکتا ہے اور اگر(قسم) توڑنے کے وَقت مُفلِس(و مسکین) تھا اور اب (کفّارہ ادا کرنے کے وقت) مالدار ہے تو روزے سے (کَفَّارہ )نہیں ادا کرسکتا۔ (بہار شریعت، ۲/۳۰۸، بحوالہ الجوھرۃ النیرۃ ص۲۵۳الجزء الثانی)
(8)ایک ساتھ (اگر)تین روزے نہ رکھے یعنی درمِیان میں فاصِلہ کردیا تو کفّارہ ادا نہ ہوا اگرچِہ کسی مجبوری کے سبب ناغہ ہوا ہو، یہاں تک کہ عورت کو اگرحَیض آگیا تو پہلے کے روزے کا اِعتبار نہ ہوگا یعنی اب پاک ہونے کے بعد(نئے سِرے سے) لگاتار تین روزے رکھے۔(بہار شریعت، ۲/۳۰۸۔۔۔۔۔۔ بحوالہ دُرِّمُختار۵/۵۲۶)
(9)روزوں سے کَفّارہ ادا ہونے کے لیے یہ بھی شَرط ہے کہ ختم تک (یعنی تینوں روزے مکمَّل ہونے تک)مال پر قدرت نہ ہو مَثَلاً اگر دورَوزے رکھنے کے بعد اِتنا مال مل گیا کہ کَفّارہ ادا کر سکتا ہے تو اب روزوں سے(کَفّارہ ادا) نہیں ہوسکتابلکہ اگرتیسرا روزہ بھی رکھ لیا ہے اورغُروبِ آفتاب سے پہلے مال پر قادِر ہوگیا تو روزے ناکافی ہیں اگرچِہ مال پر قادِر ہونا یوں ہوا کہ اُس کے مُورِث(یعنی وارِث بنانے والے) کا انتِقال ہوگیا اور اُس کوتَرکہ(یعنی وِرثہ) اتنا ملے گا جو کَفّارے کے لیے کافی ہے۔ (بہار شریعت، ۲/۳۰۹۔۔۔۔۔۔ بحوالہ دُرِّمُختار،۵/ ۵۲۶)
(10)ان روزوں میں رات سے نیّت شَرط ہے اور یہ بھی ضَرور ہے کہ کفّارے کی نیّت سے ہوں مُطلَق روزے کی نیّت کافی نہیں۔(بہار شریعت، ۲/۳۱۰، بحوالہ مبسوط ۴/ ۱۶۶) قسم توڑنے سے پہلے کَفّارہ نہیں ، اور(اگر دے بھی) دیا تو ادا نہ ہوا یعنی اگر کفّارہ دینے کے بعد قسم توڑی تو اب پھر دے کہ جو پہلے دیا ہے وہ کفّارہ نہیں ، مگر فقیر سے دیئے ہوئے کو واپَس نہیں لے سکتا۔(بہار شریعت، ۲/۳۱۱۔۔۔۔۔۔ بحوالہ فتاوٰی عالمگیری ۲ /۶۴ )
(11)کفّارہ اُنھیں مَساکِین کو دے سکتاہے جن کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یعنی اپنے باپ، ماں ،اولاد وغیرہم کو جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا کَفّارہ بھی نہیں دے سکتا ۔ (بہار شریعت، ۲/۳۱۱، بحوالہدُرِّمُختار۵/۵۲۷) (12)کَفّارۂ قَسَم کی قیمت مسجِد میں صَرف (یعنی خرچ)نہیں کرسکتا نہ مُردے کے کفن میں لگا سکتا ہے یعنی جہاں جہاں زکوٰۃ نہیں خَرچ کر سکتا وہاں کَفّارے کی قیمت نہیں دی جا سکتی۔ (بہار شریعت، ۲/۳۱۱، بحوالہ عالمگیری ۲ / ۶۲)( قسم اور کفّارے کے بارے میں تفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد2 صَفْحَہ 298 تا 311کا مُطالَعہ ضَروری ہے )
اگر کسی دینی یامسلمانوں کے سماجی ادارے کو کَفّارے کی رقم دینا چاہے تو دے سکتا ہے مگر بتانا ہوگا کہ یہ کَفّارے کی رقم ہے تا کہ وہ اُس رقم کو الگ رکھ کر اُسے بیان کردہ طریقے پر کام میں لائیں یعنی ایک ہی مسکین کو دس دن تک دونوں وَقت کھلانا یا دس مَساکین کو دونوں وَقت کِھلانا وغیرہ ۔
تو جھوٹی قسم سے بچا یا الٰہی مجھے سچ کا عادی بنا یا الٰہی
مدنی گلدستہ’’یارب کرم‘‘کے7 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7 مدنی پھول
(1) بلا ضرورت ہر گز قسم نہیں کھانی چاہیے۔
(2) اگر مجبوراً قسم کھانی پڑے تو ہم یشہ سچی قسم کھانی چاہیے۔
(3) حدیث پاک میں جھوٹی قسم کھانے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے ۔ جھوٹی قسم کھانے والا
اللہ عزَّوَجَلَّکی ناراضی مول لیتا ہے۔
(4 ) کسی کام کی قسم کھائی اورپھر بہتری اس کام کے خلاف میں محسوس کی تو قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کرے۔
(5) کسی گناہ کی قسم کھائی تو اسے توڑنا ضروی ہے قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کرے ۔
(6)جھوٹی قسمیں گھروں کو ویران کر دیتی ہیں۔گزشتہ بات پر جھوٹی قسم کھانے سے اگرچہ کفارہ لازم نہیں آتا لیکن اس کی سزا یہ ہے کہ اسے جہنم کے کھولتے ہوئے پانی میں غوطے دیئے جائیں گے۔
(7) انسان کو چاہیے کہ ہم یشہ سچ بولے کبھی بھی غلط بیانی سے کام نہ لے۔اگر ہر حال میں سچائی کی صفت اپنا لی جائے تو پھر قسم کھانے کی نوبت بہت کم آتی ہے لوگ اسکی بات پر ہی اعتماد کر لیتے ہیں۔
اللہ عزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہم یشہ لغو باتوں ، جھوٹی قسموں اور دیگر گناہوں سے محفوظ رکھے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 72