Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 491

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، حَتّٰى قُبِضَ.وَفِی رِوَایَۃٍ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ.

عن عائشة رضى الله عنها قالت: ما شبع آل محمد صلى الله عليه وسلم من خبز شعير يومين متتابعين، حتى قبض.وفی روایۃ: ما شبع آل محمد صلى الله عليه وسلم منذ قدم المدينة من طعام البر ثلاث ليال تباعا، حتى قبض.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں: ”حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گھروالوں نے مسلسل دو دن بھی جَو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوگیا۔‘‘ دوسری روایت میں ہےکہ”جب سے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینے تشریف لائے اُس وقت سے آپ کے گھر والوں نے مسلسل تین راتیں بھی گندم کی روٹی نہ کھائی یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوگیا۔“

شرح حدیث

حضور کا فقر اِختیاری تھا:حضورسرورِ کائنات ، فخرموجوداتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اہلِ بیت اَطہار کا اِس طرح فقر و فاقہ کی زندگی گزارنا اور بھوک کی شدت کو برداشت کرنا کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اپنے اختیار سے تھا ورنہ آپ کے ہاتھ میں تو دونوں جہاں کے خزانے ہیں، آپ چاہتے تو مکے کے پہاڑآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے سونا بن جاتے،مگرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مالی غَنا کے بجائے قلبی غَنا کو اختیار فرمایا۔ نیز اس میں غریبوں کے لیے بھی تسلی اور اطمینان کا سامان ہے ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:آل سے مراد اہلِ بیت میں سےمَحارِم اور خدام ہیں۔دو روز مسلسل سے یہ پتا چلا کہ اگر ایک دن کھانا کھالیتے تو دوسرے دن بھوکے رہتے اور یہ اس وجہ سے کہ خود نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے اختیار فرمایا تھا۔ جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو زمین کے خزانے پیش کئے گئے اور یہ کہا گیا کہ اگر آپ چاہیں تو مکے کے پہاڑ سونا بنادئیے جائیں تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فقرکواختیارکرتے ہوئے فرمایا:”میں ایک دن بھوکا رہوں اور صبرکروں اورایک دن کھانا کھاؤں اورشکر کروں۔“ ایمان کے دو حصےہیں:صبراورشکر۔حدیث میں ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اہلِ خانہ نے سیر ہوکر نہ کھایا حتّٰی کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموِصال فرماگئے۔ وقتِ وصال آپعَلَیْہِ السَّلَامکی ذرہ ایک یہودی کے پاس ایک صاع جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کثیر مال آتا مگر آپ اسے جمع نہ کرتے بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لیے خرچ فرمادیتے۔حضرت عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسلسل کئی کئی راتیں بھوک کی حالت میں گزاردیتے تھے،آپ اور اہلِ بیت کو رات کا کھانا میسرنہیں ہوتا تھا اورجب کبھی کھانا میسرآتا تو اکثر اوقات جَو کی روٹی ہی ہوتی تھی۔اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ہمارے زمانے کے فقراء میں سے کسی نے بھی حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرح زندگی نہیں گزاری حالانکہ وہ سیدالانبیاء ہیں ۔ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس طرزِ زندگی میں غریبوں اور فقیروں کے لیے تسلی و اطمینان کا سامان ہے۔“خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” خیال رہے کہ فتحِ خیبر کے بعد حضورِ اَنور ہر زوجہ پاک کو ایک سال کی کھجوریں عطا فرمادیتے تھے کیونکہ خیبر میں باغات کثرت سے ہیں وہاں سے حضور کے حصے کی کھجوریں بہت آتی تھیں۔یہاں مسلسل دو دن تک روٹی سے سیر ہونے کی نفی ہے لہٰذا یہ حدیث اس واقعہ کے خلاف نہیں کہ وہاں کھجوروں کی عطا ثابت ہے،نیز حضور کے گھر والے ایک دن خود کھاتے تھے دوسرے دن کا کھانا فقراء مسکین کو دیتے تھے۔بہرحال یہ حدیث اُن اَحادیث کے خلاف نہیں۔حضورِ انور پر آخری زمانہ میں دولت کی بارش ہوگئی تھی مگر سب لوگوں پرتقسیم فرما دیتے تھے ان فتوحات سے پہلے طریقہ مبارکہ یہ تھا۔“مدنی گلدستہ’’غوثِ پاک ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فقر و فاقہ اختیاری تھا۔
(2) آپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو زمین کے خزانے پیش کئے گئے لیکن آپ نے فقر کو اختیار فرمایا۔
(3) آپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس جب بھی کہیں سے مال وغیرہ آتا اسے جمع کرنے کے بجائے رضائے الٰہی کے لئے غریبوں اور فقیروں میں تقسیم فرمادیا کرتے۔
(4) آپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اہل بیت اَطہار کی غذا اکثر جَو کی روٹی ہوا کرتی تھی ۔
(5) صحابہ ٔ کرام، تابعین عظام اور دیگر اَسلاف و بزرگانِ دِین
رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْنکا بھی یہی طرزِ زندگی رہا کہ کبھی کھانا کھاتے تو کبھی بھوکے رہتے۔
(6) حقیقی غنا مال کا نہیں بلکہ دل کا غنی ہونا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 491