Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 508

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ اَدْبَرَ الْاَنْصَارِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَخَا الْاَنْصَارِ! كَيْفَ اَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟، فَقَالَ: صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ؟“ فَقَامَ، وَقُمْنَا مَعَهُ، وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ، وَلَا خِفَافٌ، وَلَا قَلَانِسُ، وَلَا قُمُصٌ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتّٰى جِئْنَاهُ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْ لِهِ، حَتّٰى دَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ.

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال: كنا جلوسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاء رجل من الانصار، فسلم عليه، ثم ادبر الانصاري، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا اخا الانصار! كيف اخي سعد بن عبادة؟، فقال: صالح، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من يعوده منكم؟“ فقام، وقمنا معه، ونحن بضعة عشر، ما علينا نعال، ولا خفاف، ولا قلانس، ولا قمص، نمشي في تلك السباخ حتى جئناه، فاستأخر قومه من حو له، حتى دنا رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه الذين معه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”ہم ایک مرتبہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری صحابی آئے اور بارگاہِ رسالت میں سلام عرض کیا، جب وہ جانے لگے تو رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اے انصاری بھائی! میرے بھائی سعد بن عبادہ کا کیا حال ہے؟“عرض کی:”وہ ٹھیک ہیں۔“حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”تم میں سے کون اُس کی عیادت کرے گا؟“یہ فرما کر آپعَلَیْہِ السَّلَامکھڑے ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، ہم دس سے کچھ زیادہ تھے، نہ ہمارے پاس چپلیں تھیں ،نہ موزے ٹوپیاں اور نہ ہی قمیص۔ ہم سخت بنجر زمین پر چل رہے تھے جب ہم سعد بن عبادہ کے گھر پہنچے توان کے پاس موجود لوگ پیچھے ہٹ گئےیہاں تک کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور ساتھ آنے والے اَصحاب سعد بن عُبادہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے قریب ہوگئے۔“

شرح حدیث

سُبْحٰنَ اللہ!کیسی سادگی و عاجزی تھی ان اسلام کے شیدائیوں میں پاؤں میں جوتے ہیں نہ موزے، سر ڈھانپنے کے لیے ٹوپی ہے نہ تن پر قمیص مگر وہ اس حالت میں بھی خوش ہیں، ہر وقت اپنےنبی کے فرمان پر لبیک کہتے ہیں ، اپنے بھائیوں کی خبر گیری کرتے ہیں ،ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہتے ہیں ، کبھی زبان پر شکوۂ رنج واَلَم نہیں لاتے، کیوں نہ ہو تربیت یافتہ بھی تو کس کے ہیں! اس سردار دوجہاں کے جس نے خود انتہائی سادہ زندگی گزاری، چاہتے تو دنیا جہان کی دولت قدموں میں ڈھیرہوجاتی مگراسے پسند نہ فرمایا، ہر طرح کی آسائش و آرام طلبی سے بالکل کنارہ کش رہے، جب ان حضرا ت نے اپنے رہبر ورہنما کو اس سادگی سے رہتے دیکھا تووہ کیسے لذّات و خواہشات کی طرف مائل ہوتے ،کیسے ہوسکتاتھاکہ سردارِدوجہاں ان کے سامنے چٹائی کا بستر استعمال فرماتے اوروہ ریشم ودیباج کے طلبگار ہوتے۔ ان پاک ہستیوں نے اپنی ساری زندگی اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی میں گزاردی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں اچھی جزا عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمینمسلمانوں کی خبر گیری :حدیثِ مذکور سے معلوم ہواکہ اپنے متعلقین کی دیکھ بھال اور خبر گیری کرنی چاہیے،اگر دور ہوں تو ان کےحالات سے باخبر رہنا چاہیے،بیمار ہوجائیں تو عیادت کرنی چاہیے، دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہیے،یہ بھی معلوم ہواکہ بزرگوں کی ترغیب پر فوراًنیک کام کے لئے تیار ہوجانا چاہیے۔مدنی گلدستہ’’ صدیق و عمر ‘‘کے8حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکور ہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بستر مبارک نرم وملائم نہ تھا بلکہ سخت اور کھردرا تھا ، نرم وملائم بستر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پسند نہ تھا ۔
(2) جب کوئی بزرگ کسی نیک کام کی ترغیب دلائیں تو حتی المقدور اس کام کو سرانجام دینے کے لیے فوراً تیار ہوجاناچاہئے۔
(3) مریض کی عیادت کرنا سنت ہے۔
(4) جب کسی کی عیادت کے لیے جائیں تو اپنے دوستوں کو بھی لے جائیں جبکہ مریض اور اس کے اہلِ خانہ کے لیے پریشانی کا باعث نہ ہو۔
(5) ہمارے پیارے نبی
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جب بھی کوئی چیز ما نگی جاتی آپ انکا ر نہ فرماتے چاہے وہ چیز آپ کو کتنی ہی محبوب ہوتی عطا فرما دیتے ۔
(6) ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب وہ موجود نہ ہو تو اس کی خبر گیری کرے اور بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے۔
(7) ہر حا ل میں اپنے رب سے خوش رہنا ،زبان پر شکوۂ رنج والم نہ لانا بلند ہمتی کی علامت ہے ۔
(8) اپنے متعلقین کی خبر گیری کرنا ہمارے پیارے آقا
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنی زندگی سنتوں کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 508