Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 510

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي اُمَامَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ اٰدَمَ! اِنَّكَ اَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَاَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلٰی كَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ.

عن ابي امامة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ابن ادم! انك ان تبذل الفضل خير لك وان تمسكه شر لك، ولا تلام علی كفاف، وابدأ بمن تعول.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمامہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”اے ابن آدم!ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنا تیرے لیے بہترہےاور اُسے روک لینا تیرے لیے بُرا ہےاور بقدرِ ضرورت پر تجھے ملامت نہ کی جائے گی اور (خرچ کرنے میں) اپنے اہل و عیال سے ابتدا کر۔“

شرح حدیث

اچھا اور بُرا مال:*اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:یعنی اگرتم اپنی اور اپنے اہل وعیال کی ضرورت سے زائد مال کو (نیک کام میں)خرچ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم اس مال کو اپنے پاس جمع کررکھو گے تو یہ تمہارے لیے برا ہے وہ اس طرح کہ اگر تم اس میں حقوقِ واجبہ (زکوٰۃ وغیرہ) ادا کرنے سے رُکےتوعذاب کے مستحق ٹھہروگےاور اگر مستحب کاموں میں خرچ نہ کیا تو ثواب میں کمی ہوگی اور آخرت میں بھلائی پانے کا مقصد فوت ہوجائے گا اور یہ دونوں صورتیں ہی نقصان دہ ہیں۔ہاں!بقدرِضرورت مال بچا کر رکھنے پرکوئی ملامت نہیں بشرطیکہ حقوقِ واجبہ ادا کئے جائیں۔“*عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”بقدرِضرورت مال کمانے اور جمع کرنے پرکوئی ملامت نہیں،ہاں! ضرورت سے زائد مال جمع کر لینا اور صدقہ وخیرات نہ کرناقابلِ مذمت اور بخل کی علامت ہے ۔ جب ضرورت سے زائد مال خرچ کرنا چاہو تو پہلےاپنے اہل وعیال اورقریبی لوگوں پرخرچ کرو۔“*مرآۃ المناجیح میں ہے:”اپنی ضروریات سے بچا ہوا مال خیرات کردینا خود تیرے لیے ہی مفید ہے کہ اس سے تیرا کوئی کام نہ رُکے گا اور تجھے دنیا و آخرت میں عوض مل جائے گا اور اسے روکے رکھنا خود تیرے لیے ہی برا ہے کیونکہ وہ چیز سڑ گل یا اور طرح ضائع ہوجائے گی اور تو ثواب سے محروم ہوجائے گا اسی لیے حکم ہے کہ نیا کپڑا پاؤ تو پرانا بیکار کپڑا خیرات کردو، نیا جوتا ربّ تعالیٰ دے تو پرانا جوتا جو تمہاری ضرورت سے بچا ہے کسی فقیر کو دے دو کہ تمہارے گھر کا کوڑا نکل جائے گا اور اُس کا بھلا ہوجائے گا۔( بقدرِ ضرورت پر تجھے ملامت نہیں، خرچ کرنے میں اپنے اہل وعیال سے ابتدا کرو) اس میں دو حکم بیان ہوگئے:ایک یہ کہ جو مال اِس وقت تو زائد ہے کل ضرورت پیش آئے گی اسے جمع رکھ لو آج نفلی صدقے دے کر کل خود بھیک نہ مانگو۔دوسرے یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دو پھر اجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔‘‘مدنی گلدستہ’’حَسَنَیْن‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ضرورت سے زائد مال خرچ کر نے میں دنیا وآخرت کی بھلائی اور اسے جمع کرنے میں نقصان ہے۔
(2) بقدرِضرورت مال کمانے اور ضروریات کے لئے جمع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
(3) مال خرچ کرتے وقت اہل وعیال کے لئےبھی بچاکر رکھیں ایسا نہ ہو کہ سارا مال خرچ کردیں اور گھر والے دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کریں۔
(4) وہ مال ضرور قابلِ مذمت ونقصان دہ ہے جس سے حقوق ِ واجبہ زکوٰۃ وغیرہ ادا نہ کئے جائیں ۔
(5) ضرورت سے زائد مال جمع کرلینا اور صدقہ وخیرات نہ کرنا بخل کی علامت ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حلال مال بقدرِ ضرورت عطا فرمائے اور مال کی آفتوں اور اس کے غم سے مامون رکھے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 510