Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 516

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبيْ كُرَيْمَةَ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يْكَرَبَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رسولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ”مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَاِنْ كانَ لَا مَحَالةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ.“

عن ابي كريمة المقدام بن معد يكرب رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ”ما ملأ آدمي وعاء شرا من بطن، بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه، فان كان لا محالة فثلث لطعامه، وثلث لشرابه، وثلث لنفسه.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو کُرَیْمہ مِقدام بن مَعْدِیکَرَبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نےحضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا ہے:”آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ بُرا برتن نہیں بھرا، ابن آدم کو چند لقمے ہی کافی ہیں جو اُس کی پیٹھ کو سیدھا کردیں۔ اگرزیادہ کھانا ضروری ہو تو (پیٹ کا) تہائی حصہ کھانے کے لیے، تہائی پانی کے لیے اور تہائی سانس کے لیے رکھے۔“

شرح حدیث

کم کھانے کی تاکید:حدیثِ مذکورمیں کم کھانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ انسان کو بس اتنے لقمے کھانے کے کافی ہیں جن سے اُس کی کمر سیدھی ہوجائے اور وہاللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت وطاعت پر اور اپنے اہل و عیال کے لیے بقدرِ ضرورت مال کمانے پر قادر ہوجائے اوراگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک حصہ پانی کے لیے اور ایک حصہ سانس کے لئے رکھے ۔شرح طیبی میں ہے:”اِنسان پر لازم ہے کہ اتنی مقدار’’جس سے اس کی کمر سیدھی رہے‘‘سے زیادہ نہ کھائے تاکہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت پر قوت حاصل کرے، اگر اس مقدار سے زیادہ کھانے کی ضرورت پڑے تو بھی حدیث میں مذکور مقدارسے تجاوز نہ کرے ،یعنی اتناکھائے جو تہائی پیٹ کو بھر دے ۔“پیٹ بھر کے کھانا نقصان دِہ ہے:پیٹ بھر کر کھانے کے بہت سے نقصانات ہیں جن میں سے ایک نقصان مختلف بیماریوں کالگ جانا بھی ہے۔چنانچہ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”زیادہ پیٹ بھرنے سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،نوے فیصدی بیماریاں پیٹ سے ہوتی ہیں پھر اس سے سخت غفلت پیدا ہوتی ہے دل میں نور نہیں آتا۔(انسان کو بس چند لقمے کھانا کافی ہیں)کیونکہ کھانا اس لیے ہوتا ہے کہ اس سے عبادات،ریاضات کی قوت پیدا ہو،یہ قوت بقدرِ ضرورت لقموں سے حاصل ہوجاتی ہے۔اگر تم چند لقموں پر صبر نہ کرسکو زیادہ کھانے کی رغبت ہو تو پیٹ کے تین حصے کرلو۔ ایک حصہ کھانے کے لیے،ایک حصہ پانی کے لیے،ایک حصہ سانس آنے جانے کے لیےاِنْ شآءَا اللہبہت کم بیمار ہوگے۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ قدرے بھوکا رہنے میں دس فائدئے ہیں: جسمانی صحت، دل کی صفائی ،طبیعت کی ہشاشی بشاشی یعنی چستی، دل کی نرمی، طبیعت میں انکسار و عجز،تکبرو غرور کا ٹوٹنا، گناہوں کی کمی، درمیانی درجہ کی نیند،عبادات کا شوق ،ذکر الٰہی میں لذت و ذوق وغیرہ۔“مدنی گلدستہ’’عمرہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کھانے کی کم سے کم مقدار اتنے لقمے ہیں جن سے عبادت اور معاش پر قدرت حاصل ہوجائے۔
(2) زیادہ کھانے کی مقدار یہ ہے کہ پیٹ کے تین حصوں میں سے ایک حصہ کھانا کھائے، باقی دو حصوں کو پانی اور سانس کے لیے چھوڑ دے۔
(3) زیادہ کھانے کے بہت سے نقصانات ہیں نوے فیصد بیماریاں زیادہ کھانے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
(4) کم کھانے سے عبادات میں لذت ملتی ہے ،عجز وانکساری پیدا ہوتی ہے،دل گناہوں کی طرف مائل نہیں ہوتا،دل کی صفائی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اوربھی کئی فوائد ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں حرام رزق سے محفوظ رکھے،رزقِ حلال عطا فرمائے، نفسانی خواہشات سے بچائے اور کم کھانے کی توفیق عطافرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 516