Main Icon

باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 513

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُحَمَّدٍ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِالْاَنْصَاريِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:”طُوبیٰ لِمَنْ هُدِيَ اِلَى الْاِسْلَامِ، وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ.“

عن ابي محمد فضالة بن عبيدالانصاري رضی اللہ عنہ انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:”طوبی لمن هدي الى الاسلام، وكان عيشه كفافا وقنع.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو محمد فضالہ بن عُبَید انصاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ انہوں نے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:”خوشخبری ہے اس کے لیے جسے اسلام کی ہدایت ملے،گزر بسر ضرورت کے مطابق ہو اوروہ قناعت اختیار کرے۔“

شرح حدیث

قابلِ رشک انسان:عَلَّامَہعَبْدُالرَّؤُوْف منَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں:” بقدرِ ضرورت رزق وہ ہے جو نہ تو ذکر سے غافل کرے اور نہ ہی نافرمان بنائے۔ تجھ پرکامل نعمت یہ ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّتجھے تیری ضرورت کے برابر رزق دے جو تجھے کفایت کرے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی سے روک دے۔ اِس حدیث سے بعض علماء نے اِس بات پر اِستدلال کیا ہے کہ فَقر غنا سے افضل ہے، انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس شخص پر رَشک کا اظہار فرمایا جس کا گزر بسر اُس کی ضرورت کے مطابق ہو، نیز آپ نے اُس کی کامیابی کی خبر دی۔‘‘مزیدفرماتے ہیں:کسی دانا سے پوچھا گیا کہ غنا(امیری) کیا ہے؟اس نے کہا: ”غنا یہ ہے کہ تیری تمنائیں اور خواہشات کم ہوجائیں اور تو اتنے مال پر صبر اور قناعت کرے جو تجھے کفایت کر جائے۔“معلوم ہوا جس کا گزر بسر ضرورت کے مطابق ہو ایسا شخص قابلِ رشک ہے کیونکہ خود حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس پر رشک فرمایا نہ صِرف رشک فرمایا بلکہ اس کی کامیابی کا مژدہ بھی جاری فرمایا اور جس کی کامیابی کا مژدہ خود رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجاری فرمادیں وہ یقینا ً کامیاب ہے۔مدنی گلدستہ’’قناعت‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بقدرِ ضرورت رزق مل جانا فقر اور غنا دونوں سے افضل ہے۔
(2) جسے ایمان کے ساتھ ساتھ قناعت کی دولت نصیب ہوگئی وہ دارَین میں کامیاب ہوگیا۔
(3) جو قناعت اختیار کرنا چاہتا ہے وہ اپنے ذہن میں یہ بات نقش کرلے کہ مقدر میں جتنا رزق لکھا ہے اتنا ہی ملے گا نہ اُس سے زیادہ نہ کم۔
(4) ایمان، تقویٰ، بقدرِ ضرورت رزق اور اُس پر قناعت، جسے یہ چار چیزیں مل جائیں وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہے۔
(5) نعمتوں کے حصول پر مُنْعِم حقیقی کا شکر ضرور اداکر نا چاہئےکہ اس سے نعمتیں محفوظ رہتی ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں قناعت کے ساتھ زندگی گزارنےاور اس کی نعمتوں پر شکر کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 513